پتھروں کو موتیوں میں بدلتے ہیرے

تین سہیلیوں نے 10، 10 ہزار روپے جوڑ کر وادیِ ہنزہ کے قیمتی پتھروں اور زیوارات کا کاروبار گھر سے شروع کیا اور ابتدا میں صرف مقامی گاہکوں ہی کے آرڈرز پر کام کیا۔ 
پھر اس محدود پیمانے پر چلنے والے کام سے پانچ لاکھ روپے جمع کر کے ضروری اوزار اور مشینری خریدی اور باقاعدہ کاروبار کا آغاز کیا۔ 
 نسرین، غزالہ اور عنبرین نے سنہ 2014 میں جب جیمز اور جیولری کے کاروبار میں قدم رکھا تو اس سے پہلے ہنزہ میں کوئی بھی لڑکی اس شعبے میں کام نہیں کر رہی تھی۔ اُس وقت تینوں سہیلیوں نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن ان کے ہاتھ سے تراشے پتھروں کا کاروبار اتنا چمکے گا کہ اس کا فائدہ صرف انہیں ہی نہیں بلکہ علاقے کی کئی لڑکیوں کو ہوگا۔
کریم آباد بازار میں داخل ہوتے ہی ایک طرف قطار میں ریستوران ہیں وہیں آپ کو ’سن رائز جیمز اور جیولری‘ کے نام سے ایک چھوٹی سی دکان نظر آئے گی۔ 

نسرین نے بتایا کہ ’لوکل جتنے بھی جیمز نکلتے ہیں ہم صرف انہی پر کام کرتے ہیں۔‘

دکان کے شو کیس پر سجے چمکتے پتھر اور زیوارات ہر گزرنے والے سیاح کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ نسرین نے بتایا کہ ’ہم ادھر صرف ہینڈ میڈ جیولری تیار کرتے ہیں جو اور کہیں سے نہیں ملتی۔‘ 
تینوں بزنس پارٹنرز کا تعلق وادیِ ہنزہ سے ہے جہاں ان کا بچپن انہی پتھروں سے کھیلتے کھیلتے گزارا ہے جو ان کی کامیابی کا راز بھی ہے: اصل پتھر کی پہچان اور اس کی قدر۔
اب وہ انہی پتھروں کو کاٹ کر ان سے قیمتی موتی بناتی ہیں۔ 
ہنزہ روبی ہو یا شِگر کے ٹوپاز، زمرد ہو یا پھر کوہستان کے سبز قیمتی پتھر، ہر سائز اور شکل میں ہاتھ سے تراشے قیمتی پتھر ہنزہ میں نسرین اور ان کی ہنر مند ساتھی ہی بناتی ہیں۔
نسرین نے بتایا کہ ’لوکل جتنے بھی جیمز نکلتے ہیں ہم صرف انہی پر کام کرتے ہیں۔‘

 نسرین، غزالہ اور عنبرین نے 2014 میں جیمز اور جیولری کے کاروبار میں قدم رکھا۔

آج ان کے ساتھ کم ازکم 15 خواتین منسلک ہیں جو ان کے لیے کام کر کے گھر بیٹھے  پیسے کما رہی ہیں۔ نسرین کہتی ہیں کہ ’ہمارے پاس دکان پر سب کو بٹھانے کے لیے اتنی جگہ نہیں ہے۔ اس لیے ہم یہاں پر آرڈر لے کر گھروں میں بھی دیتے ہیں۔‘
نسرین اور ان کی ساتھیوں نے ہنزہ میں قراقرم ایریا ڈولپمنٹ سینٹر (کاڈو) میں پتھروں کو کاٹنے، تراشنے اور ان سے شاہکار بنانے کے گُر سیکھے۔ تقریباً ڈیڑھ سال کے تربیتی کورس کے بعد نسرین نے خود مقامی لڑکیوں میں یہ ہنر منتقل کرنے کے لیے انہیں تربیت فراہم کی جن میں سے اکثر کو وہ اب بزنس بھی دیتی ہیں۔  
اِن ہنر مند لڑکیوں کو یہ پتھر مقامی کان کن فراہم کرتے ہیں جسے وہ گاہک کی ڈیمانڈ کے مطابق تیار کرتے ہیں۔ 
’ہم لوگ رف سٹون لیتے ہیں جس کی کٹنگ، ڈیزائنگ سے لے کر فنشنگ تک سب کچھ ہم خود کرتے ہیں‘، نسرین نے ایک پتھر پر کام کرتے ہوئے بتایا۔

پانچ سال سے نسرین اور ان کی بزنس پارٹنرز کا کاروبار چمک رہا ہے اور ان کے پاس آرڈرز کی کمی نہیں۔

 
یہ ہنر مند لڑکیاں کسی سیاح کا آرڈر ملنے پر اکثر ان کے سامنے ہی کام کرتی ہیں اور یوں گاہک بھی اپنی نظروں کے سامنے کام دیکھ کر مطمئن ہوتے ہیں اور اپنی پسند کے عین مطابق چیز بنواتے ہیں۔ 
نسرین نے بتایا کہ ’یہاں پر گارنٹی ہے کہ ہم کوئی بھی چیز لیپ یا اس طرح کی نہیں بناتے، ہر چیز جینوئن ہوتی ہے جو ہم لوکل مائنرز سے لیتے ہیں اور کسٹمر کے سامنے کام کرتے ہیں۔‘
پانچ سال سے نسرین اور ان کی بزنس پارٹنرز کا کاروبار چمک رہا ہے اور ان کے پاس آرڈرز کی کمی نہیں لیکن جدید مشنری کی کمی کے باعث وہ گاہکوں کی بڑھتی ڈیمانڈ پوری نہیں کر پاتیں۔
مقامی سطح پر اور بڑے شہروں کے لیے ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی ان کے گاہک موجود ہیں جو آرڈر پر ان سے کام کرواتے ہیں۔ 

نسرین اور ان کی بزنس پارٹنرز مالی طور پر خوشحال ہو گئی ہیں۔ 

جب سے نسرین رانی قیمتی پتھروں اور زیورات کا کاروبار کر رہی ہیں وہ اقتصادی طور پر خود مختار ہو گئی ہیں۔ 
’میں گھر والوں سے اپنا خرچہ نہیں مانگتی ہوں اور اپنی زندگی اچھی طرح سے گزارتی ہوں۔‘
نسرین کی طرح ان کی بزنس پارٹنرز اور ان کے ساتھ کام کرنے والی دیگر خواتین بھی مالی طور پر خوشحال ہو گئی ہیں۔ 
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: