شارجہ غیرملکیوں کا پسندیدہ مقام

کرایوں کا تعین عمارت کے معیار اور سہولیات پر منحصر ہے۔ فوٹوگلف نیوز
سستی رہائش کی تلاش میں تارکین وطن اب شارجہ کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ شارجہ ایک بار پھر رہائش کے حوالے سے غیر ملکیوں کا پسندیدہ مقام بن گیا ہے۔
اس مرتبہ غیر ملکیوں کی شارجہ کی پسندیدگی کی وجہ بڑے اور ہوا دار مکانوں کے علاوہ ان کے کرائے کم ہونا ہے۔
گلف نیوز کے مطابق شارجہ میں 2019ءکی تیسری سہ ماہی میں کرایوں میں تین فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ شارجہ میں دبئی اور ابوظبی کی نسبت اس وقت سستے اور بڑے مکانات ہیں۔ اس لیے غیر ملکی بہتر سہولیات اور کم کرائے ہونے پرشارجہ کا رخ کرنے لگے ہیں۔
دبئی کی ایک ریئل اسٹیٹ کمپنی’ایسٹیکو‘ کی رپورٹ کے مطابق 2018ءکے مقابلے میں2019ءمیں تیسری سہ ماہی کے دوران تقریباً11فیصد کرایے میں کمی واقع ہوئی ہے۔ 

پرانی عمارتوں کے مالکان اپنی بلڈنگیں اپ گریڈ کرنے لگے ہیں۔ فوٹو گلف نیوز

کمپنی کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ شارجہ میں مکانات کے کرایوں میں آخری مرتبہ کمی 2015ءکی پہلی سہ ماہی میں 32 فیصد تک ہوئی تھی۔جس کے بعد اس میں لگاتار اضافہ ہورہا تھا۔
شارجہ میں غیر منقولہ جائیدادوں کے ایک بروکر نے بتایا ہے کہ دبئی میں مکان کے کرایوں میں کمی نے شارجہ کے مکانوں کے کرایوں پر اثر ڈالا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پہلے بہت سے لوگ دبئی میں کام کرتے تھے اور عجمان میں رہائش اختیار کئے ہوئے تھے مگر اب شارجہ میں کرایے کم ہونے پر وہ یہاں منتقل ہورہے ہیں کیونکہ دبئی سے شارجہ کا سفر کم ہے جبکہ عجمان اس کے مقابلے میں کافی دور ہے۔
بروکر نے مزید بتایا کہ اب کرایہ دار مکان کے معاہدے کی تجدید کے وقت کرایہ کم کرانے کی پوزیشن میں آگئے ہیں اور وہ مکان مالکان کو کرایہ کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں یا پھر وہ کہیں اور منتقل ہوجاتے ہیں۔
ایک نئی رپورٹ کے مطابق شارجہ میں اس وقت اسٹوڈیو اپارٹمنٹ کی قیمت 12سے 23 ہزار درہم ہے جبکہ ایک بیڈ روم کے مکان کا کرایہ13 سے 38 ہزار کے لگ بھگ ہے۔
دو بیڈروم اپارٹمنٹ کا کرایہ 20 ہزار سے 62 ہزار درہم تک ہے ۔ اسی طرح  تین بیڈ روم کا کرایہ 30 تا 70ہزار درہم اور چار بیڈ روم کا کرایہ 80 ہزار سالانہ تک ہے۔ کرایوں کا تعین عمارت کے معیاراور سہولیات پر منحصر ہے ۔ کیونکہ اب نئی عمارتوں کی تعمیر کے بعد پرانی عمارتوں کے مالکان اپنی بلڈنگوں کو اپ گریڈ اور سہولیات میں اضافہ کرنے لگے ہیں تاکہ انہیں کرایوں میں کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
امارات کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز یو اے ای“ گروپ جوائن کریں

شیئر: