مگر کیا کوئی ان کی سنے گا بھی؟

آسٹریلیا میں ٹی 20 اور ٹیسٹ سیریز یا تو کھیلے یا پھر رُلے گی (فوٹو اے ایف پی)
دورہ آسٹریلیا کے لیے جب ٹیم کا اعلان کرنے کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کے کوچ اور سلیکٹر مصباح الحق ٹی وی پر آئے تو ان کو دیکھ کے صرف ایک سوال اٹھا ذہن میں’اینی آوازاری؟‘ یقین جانیے ان کے چہرے پر اتنی اذیت تھی اپنی ہی ٹیم کا اعلان کرتے ہوئے کہ دل کیا ان سے کہوں ’تھوڑا رو لیں کوئی بات نہیں ہوتا ہے ایسے۔‘
اتنا بیزار میں نے آخری بار سرفراز احمد کو دیکھا تھا وکٹوں کے پیچھے۔  جس سے یاد آیا، ’مجھے کیوں نکالا‘ کی صدا اب لاہور سے کراچی چلی گئی ہے کیونکہ سرفراز سے ہر طرح کی کپتانی واپس لے لی گئی ہے۔
 

دورہ آسٹریلیا کے لیے ٹیم کے اعلان پر مشہور تجزیہ نگار نے بجائے ٹیم کے، سرفراز احمد پر تبصرے شروع کر دیے۔ فوٹو اے ایف پی

یہ فیصلہ سری لنکا کے خلاف ٹی 20 سیریز ہارنے کے بعد کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر لوگ جوک درجوک ’جسٹس فار سرفراز‘ کا ٹرینڈ بنا رہے ہیں۔ میرے خیال سے اتنی نا انصافی شاید کوئی بھی نہیں کر سکتا جتنی پی سی بی کرے گی اگر سرفراز کو ٹیم میں واپس لایا گیا۔
جب مصباح الحق نے دورہ آسٹریلیا کے لیے ٹیم کا اعلان کیا تو ٹی وی کے کچھ بہت ہی مشہور تجزیہ نگاروں نے بجائے ٹیم کے، سرفراز احمد پر تبصرے شروع کر دیے۔ سرفراز احمد سے اس محبت کا مظاہرہ دیکھ کر مجھے اپنی ماں کی محبت پر بھی شک ہو گیا۔ اتنا پیار؟
پاکستانی ٹیم آسٹریلیا میں ٹی 20 اور ٹیسٹ سیریز یا تو کھیلے یا پھر رُلے گی۔ سب سے پہلے، خوشی کی بات۔ ٹیسٹ اور ٹی 20، دونوں ٹیموں میں حفیظ ہیں نہ شعیب ملک۔ اور تو اور سرفراز بھی نہیں ہیں۔ سری لنکا کےخلاف ٹی 20 سیریز میں رسوا ہونے کے بعد مصباح نے شرمندگی کے مارے اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ بند کرنے کے بجائے عمر اکمل اور احمد شہزاد کا کرکٹ میں راستہ بند کیا۔ اور حسن علی کی چونکہ شادی ہو گئی ہے اس لیے انھیں کچھ اور کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔

تین سال بعد محمد عرفان کو واپس ٹی20 میں بلا لیا گیا ہے۔ فوٹو اے ایف پی

 اب آئیں کچھ حیران کن فیصلوں کی طرف۔ تین سال بعد پاکستان کے برج خلیفہ محمد عرفان کو واپس ٹی20 میں بلا لیا گیا ہے۔ جب کہ شاداب خان کو صرف ٹی20 ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، ٹیسٹ کرکٹ میں نہیں۔ سب سے زیادہ حیرانی مجھے افتخار احمد کی شمولیت پر ہوئی جو نہ صرف ٹیسٹ بلکہ ٹی20 میں بھی شامل کیے گئے ہیں۔ افتخار احمد کی دونوں ٹیموں میں موجودگی دیکھ کے ایسا لگا جیسے وہ عمران خان کے ساتھ زلفی بخاری ہوں جو ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔
دوسری جانب ایک بار پھر ملک کے کونے کونے سے صدا اٹھی ’جسٹس فار فواد عالم‘۔ فواد عالم پاکستان کی کرکٹ کا ایک سانحہ ہیں، جو ہر بار سکواڈ کے اعلان پر ہوتا ہے۔ فواد عالم بھی شاہ محمود قریشی کی طرح ہیں۔ سب کچھ کر لیا، لیکن شاہ محمود قریشی وزیرِاعظم بنتے ہیں نہ فواد عالم ٹیم میں شامل ہوتے ہیں۔

عثمان قادر ٹی20 ٹیم میں شامل نئے پلیئرز میں سے ہیں۔ فوٹو سوشل میڈیا

کچھ نئے بولرز ٹیم میں شامل کیے گئے ہیں جو کہ اچھا قدم ہے۔ موسیٰ خان، نسیم شاہ، کاشف بھٹی اور عثمان قادر وہ نئے نام ہیں جو وقار یونس کی قیادت میں آسٹریلیا میں پرفارم کریں گے۔ اب وہ پرفارم کریں گے یا کچھ اور کریں گے، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
بابر اعظم ٹی20 جبکہ اظہر ٹیسٹ ٹیم کے کپتان ہوں گے۔ محمد عامر اور وہاب ریاض صرف ٹی20 کھیلیں گے کیونکہ ماشا اللہ اور سبحان اللہ دونوں ہی ٹیسٹ کرکٹ کو خیر باد کہہ چکے ہیں۔
میرا دھیان زیادہ ٹیسٹ سیریزمیں ہے جس میں محمد عباس، موسیٰ خان ، شاہین شاہ آفریدی اور یاسر شاہ سے مجھے خاصی امیدیں ہیں۔ جہاں تک  ٹی20 کا تعلق ہے، اس میں عماد وسیم کی شمولیت کے بعد مجھے کسی قسم کی کوئی امید نہیں ہے۔ جہاں تک بیٹنگ کی بات ہے، بابر اعظم، امام الحق اور حارث سہیل وہ تین نام ہیں جنہوں نے اگر کچھ نہ کیا تو بہتر ہوگا۔ وہ آسٹریلیا کی امیگریشن لے کر ادھر ہی رہیں واپس نہ آئیں۔
اظہر علی نے اتنی کرکٹ کھیل لی ہے کہ وہ اب ٹیم کی رہنمائی کر سکیں۔ میری ٹیسٹ کرکٹ کی پیاس تب ہی بجھے گی جب اظہر علی اور اسد شفیق لمبی اننگز کھلیں گے۔ خدا کی قسم ٹیسٹ کرکٹ کا سوچ کرمصباح اور یونس خان کی پارٹنر شپ بہت یاد آتی ہے۔ دیکھتے ہیں یہ ٹیم کیا کرتی ہے۔
مصباح الحق پر کافی بڑی ذمہ داری ہے کیونکہ وہ نہ صرف کوچ اور سلیکٹر ہیں بلکہ ان کی سرپرستی میں سرفراز احمد کو بھی ٹیم سے نکالا گیا ہے۔ جہاں لاہور میں سرفراز کے پوسٹرپھاڑے جا رہے تھے، وہاں کراچی میں سرفراز بچاؤ کی تحریک چل رہی ہے۔ مصباح الحق اس وقت اسد عمر لگ رہے ہیں۔ ہینڈسم بھی ہیں، پڑھے لکھے بھی ہیں، کرپٹ بھی نہیں ہیں، نئی ذمہ داری ہے اور عوام کی امیدیں آسمان چھو رہی ہیں۔ اسد عمر کی تو کسی نے سنی نہیں، کیا مصباح الحق کی کوئی سنے گا؟
واٹس ایپ پر خبروں/بلاگز اور ویڈیوز کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: