تجارتی بندش ہے مگر انڈین چیزیں پاکستان میں کیسے؟

رواں برس اگست سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان تجارت بند ہے۔ فوٹو: روئٹرز
’اکبری منڈی میں ہمارا خاندان 90 سال سے کاروبار کر رہا ہے، برے سے برے حالات کا سامنا کیا ہے لیکن تاجروں کے حالات جو اس وقت خراب ہیں ایسے پہلے کبھی نہیں تھے۔ ایک تو لوگوں میں قوت خرید کم ہوئی ہے دوسرا حکومتی پالیسیاں سمجھ سے بالاتر ہیں۔‘
اکبری منڈی کے ایک بڑے تاجر ہاشم علی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے تاجروں کی معاشی صورتحال کے حوالے سے بتایا کہ میں ایک مثال سے آپ کو سمجھاتا ہوں اس عید قربان پر پچھلے سال کی نسبت ہماری گرم مسالوں کی فروخت 70 فیصد کم ہوئی ہے۔ حالانکہ عید قربان گرم مسالوں کی فروخت کا سب سے بڑا سیزن ہوتا ہے اس بار صرف 30 فیصد سیل نے ہمیں بڑا جھٹکا دیا ہے۔‘
اکبری منڈی کا شمار لاہور کے ان بڑے تجارتی مراکز میں ہوتا ہے جہاں ایک دن میں بیسیوں کروڑ کا کاروبار ہوتا ہے اور یہ منڈی ان منڈیوں میں سے ایک ہے جو براہ راست انڈیا سے تجارت ہونے یا نہ ہونے سے متاثر ہوتی ہے۔ اس منڈی میں کیمیکلز، گرم مسالے، ڈرائی فروٹ، جڑی بوٹیاں اور فصلوں کے بیج سمیت سینکڑوں اشیا انڈیا سے درآمد کی جاتی ہیں۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ تجارتی بندش سے انڈیا کی اشیا 40 سے 50 فیصد مہنگی ہو چکی ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

اگست کے پہلے ہفتے میں انڈیا کی جانب سے کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کے بعد پاکستان نے انڈیا کے ساتھ دو طرفہ تجارت بند کر رکھی ہے۔ جب سے انڈیا کے ساتھ دوطرفہ تجارت بند ہوئی ہے یہ سوال کئی زاویوں سے پوچھا جا رہا ہے کہ اس کے اثرات کیا ہوں گے۔ اس حوالے سے سب سے پہلے تو انڈیا سے درآمد کی جانے والی ادویات میں قلت ہونا شروع ہوئی تو حکومت پاکستان نے ادوایات کی حد تک یہ پابندی ختم کر دی۔

’تجارتی بندش کے اثرات منڈی تک پہنچ گئے ہیں‘

تاجر ہاشم علی کے مطابق تجارت کی بندش کے اثرات اب اکبری منڈی میں بھی آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ’میں اگر آپ کو بہت محتاط بھی بتاؤں تو مارکیٹ میں اس وقت انڈین اشیا 40 فی صد تک مہنگی ہو چکی ہیں اور کچھ چیزیں تو 50 فیصد تک چلی گئی ہیں۔‘
انہوں نے کہا، ’اگر میں آپ کو ایک ایک کر کے بتاؤں تو فہرست بہت لمبی ہو جائے گی۔ بڑی الائچی اس وقت 1500 سے 2200 روپے تک چلی گئی ہے چھوٹی الائچی 7000 سے 11000 تک پہنچ چکی ہے۔‘

تاجروں کے مطابق تجارت بند ہونے سے انڈین اشیا پاکستان میں سمگل ہو رہی ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

اکبری منڈی کے ہی کے ایک اور تاجر آصف خان جو کیمیکلز اور رنگ کا کاروبار کرتے ہیں ان کا موقف بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے ’اس وقت مارکیٹ پر دباؤ دو طرف سے ہے، ایک تو انڈیا سے تجارت کی بندش اور دوسرا ڈالرکا ریٹ۔ ایک کیمیکل ہے ’رینگولیٹ‘ جو انڈیا سے درآمد کیا جاتا ہے، اس کی قیمت 22000 روپے تھی اب 35000 روپے ہو چکی ہے۔‘
بندش کے باوجود انڈین اشیا کی دستیابی
تجارتی بندش کے اثرات اپنی جگہ لیکن یہ سوال ذہن میں ضرور اٹھتا ہے کہ جب پاک انڈیا تجارت پر مکمل پابندی عائد ہے تو انڈین پراڈکٹس کی ترسیل کیسے ہو رہی ہے؟
ہاشم علی جو منڈی میں طلب رسد کے نظام سے پوری طرح واقف ہیں، نے بتایا ’اس کا جواب سادہ سا ہے اور وہ ہے سمگلنگ۔ بھارت اور پاکستان میں سمگلنگ دو راستوں سے ہو رہی ہے ایک تو بارڈر سے براہ راست اور دوسری افغانستان کے ذریعے بھی انڈین مال پاکستان پہنچ رہا ہے۔

تاجروں کا کہنا ہے انڈین مصنوعات کی سمگلنگ سے انہیں شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ فوٹو: اردو نیوز

ہاشم علی نے بتایا کہ ابھی موسم سرما کی اشیاء کا وقت شروع ہونے والا ہے تو کافی اشیاء دبئی کے راستے باقائدہ تجارتی عمل کے ذریعے بھی پاکستان میں پہنچیں گی لیکن ان کا حجم سمگل شدہ اشیاء سے کم ہو گا۔
تو کیا دبئی کے راستے تجارت سے یہ اشیاء اور مہنگی ہو جائیں گی؟ اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جو بھی مارکیٹ کی طاقتیں ہیں انہوں نے اشیاء کی قیمتیں ایسی جگہ پہنچا دی ہیں جہاں دبئی کے راستے تجارت کے بعد پہنچنا تھیں لہذا اس کا زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’ابھی سردیوں میں انڈین کاجو بہت زیادہ فروخت ہوتا ہے اس کی قیمت 1200 روپے کلو تھی لیکن ابھی سے 1700 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے اگر دبئی کے راستے کوئی اسے درآمد کرے گا بھی تو یہی سترہ سے اٹھارہ سو روپے کلو ہی ملے گا۔‘

تاجروں کے مطابق انڈین ادویات کی کمی ہوئی تو حکومت نے ان کی درآمد کی اجازت دے دی۔ فوٹو: روئٹرز

اکبری منڈی کی تاجروں کی تنظیم کے صدر اظہر اقبال اعوان نے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ’انڈیا کی اشیاء کی سمگلنگ ہو رہی ہے۔ اس ملک میں 22 ایسے محکمے ہیں جو تجارتی عمل کی نگرانی کرتے ہیں اور مال کلئیر کرتے ہیں اس کے باوجود سمگلنگ جاری ہے جس سے اصل تاجر بری طرح متاثر ہو رہے ہیں جبکہ حکومت کو بھی بے پناہ نقصان ہو رہا ہے۔ یہ سب انڈیا سے تجارت بند ہونے سے نہیں بلکہ حکومت کی درآمدی پالیسی اور نئے ٹیکسز کی وجہ سے ہے۔

انڈیا سے تجارتی بندش کا فیصلہ درست یا غلط؟

اگر انڈیا سے تجارتی بندش تاجروں کی معاشی صورتحال پر زیادہ اثرانداز نہیں ہوئی تو کیا ایسے میں یہ بندش مستقل رہنی چاہیے یا نہیں، اس سوال کے جواب میں تاجروں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔

تاجر کہتے ہیں کہ ایسی تجارتی بندش کا کیا فائندہ جب وہی مال سمگل ہو کر آ رہا ہو۔ فوٹو: اردو نیوز

ہاشم علی کہتے ہیں، ’اس کے دو جواب ہیں ایک جذباتی اور ایک عقلی۔ جذباتی تو یہ ہے کہ جو کچھ انڈیا اپنے ملک میں اور کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ کر رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے بالکل کوئی ضرورت نہیں تجارت کھولنے کی ۔ جبکہ عقلی جواب یہ ہے کہ دونوں طرف کی حکومتیں سیاسی طور پر دغا باز ہیں، سیاسی مسائل کو جان بوجھ کر ایک دوسرے کے معاشی مسائل سے جوڑتے ہیں اس سارے عمل میں دونوں طرف کے عوام پستے ہیں آپ کیا سمجھتے ہیں وہ بھارتی تاجر جو اپنا مال پاکستان بیچتے تھے کیا وہ اپنی حکومت کو نہیں کوس رہے؟ تو میرے خیال میں تجارت ملکوں کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے تجارتی ماحول جتنا اچھا ہو گا عوام کا معیار زندگی اتنا بہتر ہو گا۔‘
اکبری منڈی ٹریڈ یونین کے صدر اظہر اقبال سمجھتے ہیں کہ وہ بھارت سے تجارتی بندش کے حق میں ہیں۔ ’لیکن ایسی بندش کا کیا فائدہ اگر سمگلنگ سے وہی مال آ رہا ہو اور دوسرے ملکوں سے تجارت کو بھی انتہائی مشکل بنا دیا جائے۔‘
خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین دوطرفہ تجارت کا سالانہ حجم دو ارب ڈالر سے زائد ہے اور سات اگست سے یہ تجارت بند ہے۔

حکومت کا موقف

انڈیا سے ہونے والی سمگنلک کی روک تھام کے لیے حکومتی اقدامات کی تفصیل بتاتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ترجمان حامد عتیق نے کہا کہ انڈیا کے ساتھ پاکستان کے دونوں بارڈرز پر سمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واہگہ بارڈر اور کھوکھرا پار پارڈر پر حالیہ پابندیوں کی وجہ سے آمدورفت بھی کم ہے اس لیے سمگنلک کے امکانات خاصے کم ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف انہوں نے کہا کہ دبئی میں جبل علی کے زریعے غیر رسمی تجارت ہوتی ہے اور اشیا کے لیبل وغیرہ بدل کر پاکستان بھیجے جاتے ہیں اس کی روک تھام کے لیے بھی دبئی کے حکام سے پاکستان نے معاملہ اٹھا رکھا ہے۔ 
واٹس ایپ پر خبروں/بلاگز اور ویڈیوز کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: