غیر ملکی سفیروں، ہائی کمشنرز کا ایل او سی کا دورہ

انڈین آرمی چیف جنرل بپن راوت نے کنٹرول لائن پر کارروائی کے دوران پاکستان کے تین کیمپ تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے منگل کی صبح غیر ملکی سفیروں اور ہائی کمشنرز کو کنٹرول لائن کا دورہ کروایا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل کے جاری بیان کے مطابق دورے کا مقصد انڈیا کے ایل او سی پر مبینہ کیمپوں کو تباہ کرنے کے دعوے کی حقیقت سے آگاہ کرنا ہے۔
واضح رہے کہ اتوار کو کنٹرول لائن پر انڈین فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک فوجی اہلکار اور پانچ عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔ جس کے بعد انڈین آرمی چیف جنرل بپن راوت نے کنٹرول لائن پر کارروائی کے دوران پاکستان کے تین کیمپوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
انڈین آرمی چیف کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان نے انڈین میڈیا کو وہ جگہیں دیکھنے کی دعوت دی تھی جن کو انڈیا نے نشانہ بنانے کو دعویٰ کیا تھا۔
ترجمان محمد فیصل نے ٹویٹ میں کہا کہ انڈین ہائی کمشن کو بھی ’ایل او سی‘ پر دورے کی دعوت دی گئی تھی تاہم بھارتی ناظم الامور گورو اہلووالیا دورے میں شامل نہیں ہوئے، اور نہ ہی انڈیا نے ان جگہوں کی نشاندہی کی ہے جہاں کارروائی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
ترجمان نے وضاحت کی کہ بھارتی ناظم الامور گوروو اہلووالیا کو دورے کی خصوصی دعوت دی گئی تھی، تاہم بھارتی حکومت یا ہائی کمیشن نے دعوت کا کوئی جواب نہیں دیا اور ’خاموشی اختیار کر لی۔‘
ایک اور ٹویٹ میں ترجمان ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ بھارتی آرمی چیف کا دعویٰ، دعویٰ ہی رہ گیا۔
دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی سفیروں اور ہائی کمشنرز کو ایل او سی کے نوسہری، شاہ کوٹ اور جوڑا سیکٹرز لیے جایا گیا۔  بھارتی اشتعال انگیزی سے تباہ حال نوسدہ گاؤں کا بھی دورہ کیا گیا۔
دورے کے دوران ڈی جی ’آئی ایس پی آر‘ میجر جنرل آصف غفور بھی سفارتکاروں کو انڈین حملے کے حقائق کے حوالے سے آگاہ کریں گے۔
واٹس ایپ پر خبروں/بلاگز اور ویڈیوز کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: