سعودی عرب میں 14 ہزار 487 غیرقانونی تارکین گرفتار، 12 ہزار کو واپس بھیجا گیا
غیرقانونی تارکین کو کوئی بھی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے ( فوٹو: ایکس اکاونٹ)
سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی مزید 14 ہزار487 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں جبکہ 12 ہزار 554 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق’ 9 سے 15 اپریل 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 7 ہزار 911 افراد کو اقامہ قانون، 3 ہزار 588 کوغیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور دو ہزار 988 کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔‘
’غیر قانونی طور پرمملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار 382 افراد کو حراست میں لیا گیا، ان میں 61 فیصد ایتھوپین، 38 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں 43 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے، جو سرحد پار کرکے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 23 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔

سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے’جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
