’مریم نواز کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں‘، میٹرک کے پرچے میں سیاسی سوالات پر نئی بحث
’مریم نواز کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں‘، میٹرک کے پرچے میں سیاسی سوالات پر نئی بحث
ہفتہ 18 اپریل 2026 6:53
رائے شاہنواز -اردو نیوز، لاہور
مطالعہ پاکستان کے پرچنے میں مریم نواز، کلثوم نواز کے بارے میں سوالات بھی شامل تھے (فوٹو: پی ایم ایل، این)
پنجاب میں حالیہ میٹرک امتحانات کے دوران مطالعہ پاکستان کے پرچے میں سیاسی شخصیات سے متعلق سوالات سامنے آنے کے بعد نصابی کتب میں حکمران شخصیات کے تذکرے پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
امتحان دینے والے متعدد طلبہ اور اساتذہ کے مطابق پرچے میں ایسے سوالات شامل تھے جن میں طلبہ سے مریم نواز شریف، کلثوم نواز اور شہباز شریف کے بارے میں رائے یا خدمات بیان کرنے کو کہا گیا تھا۔
سوشل میڈیا پر زیر گردش سوال ناموں میں ایک سوال یہ بھی بتایا گیا کہ ’کلثوم نواز کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔‘
پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی دسویں جماعت کی مطالعہ پاکستان کی حالیہ کتاب میں ’قومی ترقی میں خواتین کا کردار‘ کے عنوان سے ایک باب شامل ہے، جس میں ماضی اور حال کی نمایاں خواتین شخصیات کا ذکر کیا گیا ہے۔
اسی باب میں فاطمہ جناح، بے نظیر بھٹو، نصرت بھٹو، فہمیدہ مرزا اور بلقیس ایدھی کے ساتھ مریم نواز شریف اور کلثوم نواز کا تذکرہ بھی موجود ہے۔
کتاب میں مریم نواز شریف کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ وہ 2024 میں پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بنیں اور مختلف شعبوں میں منصوبے شروع کیے جبکہ کلثوم نواز کے بارے میں ان کے سیاسی کردار اور اپنے شوہر کے ساتھ کھڑے ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہ نصاب تعلیمی سال 2025 سے نافذ ہوا اور 2026 کے امتحانات میں اسی سے سوالات پوچھے گئے۔
تعریف یا خودستائشی؟ سوشل میڈیا پر ردعمل
اس کے بعد سوشل میڈیا اور تعلیمی حلقوں میں مختلف آرا سامنے آئیں۔ بعض نے تنقید کرتے ہوئے اسے موجودہ حکومت کی جانب سے نصاب میں اپنی تعریف شامل کرنے کی کوشش قرار دیا، جبکہ حکومت کی جانب سے سامنے آنے والا موقف یہ رہا کہ یہ باب مجموعی طور پر خواتین کی خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے اور اس میں مختلف ادوار کی خواتین کو شامل کیا گیا ہے۔
کیا نصاب میں حکمرانوں کا ذکر نئی بات ہے؟
ماہرین تعلیم کے مطابق پاکستان میں نصابی کتب اور سیاسی بیانیے کا تعلق نیا نہیں۔ قیام پاکستان کے بعد ابتدائی دہائیوں میں تاریخ اور مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں ریاستی بیانیے کو مرکزی حیثیت دی گئی۔
ماہر تعلیم ڈاکٹر انیسہ مہدی کہتی ہیں کہ ’جنرل ضیا الحق کے دور میں نصاب میں اسلامی نظریاتی پہلوؤں پر زیادہ زور دیا گیا اور اس عرصے میں سیاسی اور ریاستی پالیسیوں کو مثبت انداز میں پیش کیا گیا۔ اس دور میں نصاب کو نظریاتی ہم آہنگی کے لیے استعمال کیا گیا۔
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’اسی طرح جنرل پرویز مشرف کے دور میں نصاب میں اصلاحات کا عمل شروع کیا گیا، جس کا مقصد بعض حلقوں کے مطابق مواد کو نسبتاً متوازن بنانا تھا، تاہم ریاستی نقطہ نظر بدستور غالب رہا۔‘
عمران خان کے دور حکومت میں ’یکساں قومی نصاب‘ متعارف کرایا گیا، جس کا مقصد پورے ملک میں یکساں تعلیمی معیار قائم کرنا تھا۔
دستیاب نصابی مواد میں عمران خان یا ان کے خاندان کی براہ راست تعریف شامل کیے جانے کی واضح مثالیں سامنے نہیں آئیں، تاہم اس نصاب پر دیگر حوالوں سے تنقید ضرور کی گئی، جن میں مذہبی مواد کا تناسب خصوصی طور پر شامل ہے۔
نصاب میں شمولیت کے حوالے سے کوئی واضح قواعد موجود ہیں؟
18 آئینی ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی معاملہ بن چکی ہے اور ہر صوبے کے اپنے ٹیکسٹ بک بورڈز ہیں جو نصاب کی تیاری اور منظوری کے ذمہ دار ہیں۔
وفاقی سطح پر قومی نصاب کونسل رہنمائی فراہم کرتی ہے مگر ایسا کوئی سخت قانون موجود نہیں جو موجودہ حکمران شخصیات کے ذکر کو مکمل طور پر ممنوع قرار دے۔
تعلیمی پالیسی دستاویزات میں عمومی طور پر اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ نصاب حقیقت پر مبنی، متوازن اور غیر جانبدار ہونا چاہیے، تاہم عملی طور پر اس تشریح میں لچک موجود رہی ہے۔
ماہر تعلیم ڈاکٹر سلمان علی کہتے ہیں کہ ’نصاب کا بنیادی مقصد طلبہ کو حقائق اور تنقیدی سوچ فراہم کرنا ہونا چاہیے۔‘
مطالعہ پاکستان کی کتاب میں ’قومی ترقی میں خواتین کا کردار‘ کے عنوان سے باب شامل ہے (فوٹو: اردو کتاب)
ان کے مطابق ’اگر کسی موجودہ سیاسی شخصیت کا ذکر کیا جائے تو اسے تاریخی تناظر اور غیر جانبدار انداز میں پیش کرنا ضروری ہے، بصورت دیگر یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ نصاب کسی خاص سیاسی بیانیے کو فروغ دے رہا ہے۔‘
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بحث نے ایک بار پھر اس سوال کو اجاگر کیا ہے کہ نصاب سازی کا عمل کس حد تک خودمختار اور غیر سیاسی ہونا چاہیے۔
ان اگر ٹیکسٹ بک بورڈز کو زیادہ خودمختاری دی جائے اور نصاب کی تیاری میں تاریخ دانوں اور ماہرین تعلیم کو مرکزی کردار دیا جائے تو اس طرح کے تنازعات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔