سعودی عرب کے نئے وزیر خارجہ کون ہیں؟

نئے وزیر خارجہ سرکاری اور نئے شعبے میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔
 سعودی عرب کے نئے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان 1974 میں پیدا ہوئے۔
10فروری 2019ءسے جرمنی میں سعودی عرب کے سفیر کے طور پر کام کررہے تھے۔
اکتوبر 2017 سے عسکری صنعتوں کی سعودی کمپنی کی مجلس انتظامیہ کے رکن ہیں۔
 شہزادہ فیصل بن فرحان امریکہ میں سعودی سفارتخانے میں سینیئر کنسلٹنٹ کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ سعودی ایوان شاہی میں مشیر اور السلام فضائی صنعت کمپنی کے چیئرمین کے طور پر بھی کام کرچکے ہیں۔
نئے وزیر خارجہ بحری و فضائی نقل و حمل اور بزنس منیجمنٹ میں وسیع تجربے کے حامل ہیں۔ شہزادہ فیصل بن فرحان سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں کام کر چکے ہیں۔

 نئے وزیر ٹرانسپورٹ سعودی ایئرلائنز کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر کام کررہے تھے۔

 نئے وزیر ٹرانسپورٹ کا تعارف

 نئے وزیر ٹرانسپورٹ انجینیئر صالح بن ناصر بن العلی الجاسرسعودی عریبین ایئرلائنز (السعودیہ) کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر کام کررہے تھے۔ یہ اسکائی ٹیم آرگنائزیشن کے رکن ہیں۔
کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی سے انڈسٹریل انجینیئرنگ میں بی ٹیک ، کنگ سعود یونیورسٹی سے بزنس مینجمنٹ میں ماسٹرز کئے ہوئے ہیں۔ نیویارک کے چیز منہٹن بینک میں ایک برس تک ٹریننگ اینڈ بینکنگ کریڈٹ کے شعبے سے منسلک رہے ہیں۔
متعدد سعودی اور بین الاقوامی تربیتی کورس کئے ہوئے ہیں۔ تقریباً30برس سے بری، بحری اور فضائی نقل و حمل اور بزنس مینجمنٹ میں بہترین تجربات حاصل کئے ہوئے ہیں۔ انہیںسرکاری اور نجی دونوں کا تجربہ ہے۔
2014ءمیں السعودیہ کے ڈائریکٹر جنرل بنائے گئے۔ 2010-14ءکے درمیان سعودی جہاز راں قومی کمپنی کے ایگزیکٹیو چیئرمین کے طور پر کام کیا۔
2003ءسے 2010ءکے دوران عبداللطیف جمیل کمپنی میں لگزس سیکشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر جنرل کے طور پر کام کیا۔2000ءمیں سعودی مواصلاتی کمپنی اتصالات میں مارکیٹنگ پروگرامز اینڈ میڈیا کے ڈائریکٹر جنرل بنائے گئے تھے۔
علاوہ ازیں سعودی فروغ صنعت فنڈ سمیت متعدد اہم اداروں میں کلیدی عہدوں پر کام کرچکے ہیں۔ سعودی ریسرچ اینڈ مارکیٹنگ گروپ سمیت متعدد کمپنیوں او راداروں کے رکن بھی ہیں۔

ڈاکٹر ابراہیم العساف وزیر خزانہ بھی رہ چکے ہیں۔

ڈاکٹر ابراہیم العساف کی نئی ذمہ داری

 شاہی فرمان کے تحت وزیر خارجہ ڈاکٹر ابراہیم العساف کو سبکدوش کرکے وزیر مملکت و رکن کابینہ متعین کیا گیا ہے۔ 
ڈاکٹر ابراہیم العساف 1949 میں سعودی صوبے قصیم کے عیون الجواءمیں پیدا ہوئے۔ وزیر خزانہ بھی رہ چکے ہیں۔31اکتوبر 2016 کو وزیر مملکت و رکن کابینہ بنائے گئے۔
27دسمبر 2018 کو وزیر خارجہ مقرر کئے گئے۔ 23اکتوبر 2019ءکو اس عہدے سے سبکدوش کرکے وزیر مملکت و رکن کابینہ بنادیئے گئے۔
 العساف 1981میں امریکہ کی کولوراڈو یونیورسٹی سے اکنامکس میں پی ایچ ڈی ہیں۔ ڈینور یونیورسٹی سے اکنامکس میں ماسٹرز اور کنگ سعود یونیورسٹی سے اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس میں بی اے کیے ہوئے ہیں۔
کنگ عبدالعزیز آرمی کالج ،کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج میں تدریس کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ سعودی ترقیاتی فنڈ کے مشیر رہ چکے ہیں۔
ڈاکٹر ابراہیم العساف عالمی مالیاتی فنڈ میں سعودی عرب کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کے طورپر کام کرچکے ہیں۔ سعودی عرب کے عالمی بینک گروپ کی مجالس انتظامیہ میں ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کے طورپر 1989ءسے 1995ءتک ایگزیکٹیو ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔ عالمی بینک گروپ کی مجلس انتظامیہ کے ڈین ، ساما کے نائب گورنر بھی رہے ہیں۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: