داعش کے سربراہ آپریشن میں ہلاک: ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے البغدادی کے متعقل سخت الفاظ کا استعمال کیا۔ فوٹو: اے ایف پی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ شدت پسند تنظیم داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو امریکی فوجی آپریشن میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’ابوبکر بغدادی دنیا کا نمبر ون دہشت گرد تھا۔‘
ٹرمپ کے مطابق ’ابوبکر البغدادی شام میں اپنے بچوں کے ساتھ ایک سرنگ میں موجود تھا۔ البغدادی نے خودکش جیکٹ کے ذریعے اپنے آپ کو اڑایا۔ خود کش دھماکے میں ان کے تین بچے بھی ہلاک ہوئے۔ ان کی لاش مسخ ہو چکی ہے اور ان کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ سے ہوگئی ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے البغدادی کو مارنے کے لیے امریکی آپریشن میں مدد کرنے پر ترکی، روس، شام اور عراق کا شکریہ بھی ادا کیا۔
انہوں نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد ابوبکر البغدادی ’کتے کی موت‘ مارا گیا۔ ٹرمپ نے مزید کہا ابوبکر البعدادی کے ساتھ ان کے کئی دیگر دہشت گرد ساتھی بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

 ٹرمپ نے آپریشن میں مدد دینے پر ترکی، روس، شام اور عراق کا شکریہ ادا کیا۔ فوٹو: اے ایف پی

اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے کہا تھا کہ ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ البغدادی کو امریکی فورسز کے آپریشن میں نشانہ بنایا۔ تاہم انہوں نے آپریشن کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
نیوز ویک نے امریکی فوج کے اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ آپریشن کے نتیجے میں البغدادی مارے گئے۔ 
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی ذرائع ابلاغ نے حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ ابوبکر البغدادی نے امریکی فورسز کے آپریشن کے وقت خودکش جیکٹ سے خود کو اڑایا ہوگا۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کی تھی کہ ’ابھی ایک بہت بڑا واقعہ ہوا ہے۔‘
امریکی میڈیا نے حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ البغدادی امریکی صدر کی جانب سے خفیہ طور پر منظور کیے گئے آپریشن کا ہدف تھے۔ داعش کے خلاف امریکی اتحادی افواج کی جانب سے اس سے قبل بھی متعدد بار غلط طور پر البغدادی کی ہلاکت کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔
اس سال اپریل میں داعش کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں ایک شخص کو دکھایا گیا تھا جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ ابوبکر البغدادی ہیں۔ اس ویڈیو میں انہوں نے اعلان کیا تھا ’اپنے کھوئے ہوئے علاقے واپس لیں گے۔‘ 

البغدادی کو آخری بار اس وقت دیکھا گیا جب انہوں نے 2014 میں ’خلافت‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ فوٹو اے ایف پی

روئٹرز کے مطابق ابوبکر البغدادی کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ عراق و شام کی سرحد کے قریب چھپے ہوئے ہیں۔ البغدادی 2010 سے داعش کے سربراہ تھے جب اس تنظیم نے القاعدہ کے بعد ان علاقوں میں اپنے قدم جمائے تھے۔
48 سالہ البغدادی کو آخری بار اس وقت دیکھا گیا تھا جب انہوں نے 2014 میں عراق کے شہر موصل سے عراق اور شام میں اپنے زیر اثر علاقوں میں ’خلافت‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔
ترکی کے وزارت دفاع نے اتوار کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’گذشتہ رات شام کے صوبے ادلب میں امریکی فورسز کے آپریشن سے پہلے دونوں ممالک کے فوجی حکام کے درمیان معلومات کا تبادلہ ہوا تھا۔‘
تاہم ترک حکام نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
 

شیئر: