Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران اب مشرقِ وسطیٰ کا ’غنڈا‘ نہیں رہا: ٹرمپ کا ڈیووس میں خطاب

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تہران کی جوہری تنصیبات پر امریکی فوجی حملوں کے بعد ایران اب مشرقِ وسطیٰ کا ’غنڈا‘ نہیں رہا۔
عرب نیوز کے مطابق بدھ کو ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ڈیووس میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر ہم نے انہیں ختم نہ کیا ہوتا تو وہ دو ماہ کے اندر جوہری ہتھیار حاصل کر لیتے۔‘
امریکی صدر کے مطابق جون میں کیے گئے ان حملوں نے ستمبر میں ہونے والے غزہ امن معاہدے کی راہ ہموار کی، جس کے نتیجے میں اسرائیل کی جانب سے اس علاقے میں جاری دو سالہ جنگ کا خاتمہ ہوا۔
تاہم ٹرمپ نے حماس پر زور دیا کہ وہ معاہدے کی پاسداری کرے اور اپنے ہتھیار ڈال دے، بصورتِ دیگر انہیں ’تباہ کر دیا جائے گا۔‘
قبل ازیں انہوں نے گرین لینڈ کے حصول کے لیے واشنگٹن اور کوپن ہیگن کے درمیان ’فوری‘ مذاکرات کا مطالبہ کیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر گرین لینڈ کا بحران گفتگو کا مرکزی موضوع رہا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’صرف امریکہ ہی اس وسیع خطہ اراضی، اس عظیم برفانی علاقے کی حفاظت کر سکتا ہے، اسے ترقی دے سکتا ہے اور بہتر بنا سکتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اسی وجہ سے میں فوری مذاکرات کا خواہاں ہوں تاکہ ایک بار پھر امریکہ کی جانب سے گرین لینڈ کے حصول پر بات چیت کی جا سکے۔‘

 صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق جون میں ایران پر کیے گئے حملوں نے ستمبر میں ہونے والے غزہ امن معاہدے کی راہ ہموار کی۔ (فوٹو: روئٹرز)

امریکی صدر نے کہا کہ وہ گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے طاقت کا استعمال نہیں کریں گے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کے پاس اس کی ’ملکیت‘ حاصل ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ممکن ہے ہمیں کچھ بھی حاصل نہ ہو جب تک میں غیرمعمولی طاقت اور قوت استعمال کرنے کا فیصلہ نہ کروں، ایسی صورت میں سچ کہوں تو ہم ناقابلِ شکست ہوں گے، لیکن میں ایسا نہیں کروں گا۔ ٹھیک ہے۔ اب سب کہہ رہے ہیں کہ اوہ، اچھا۔ یہ شاید میرا سب سے بڑا بیان ہے، کیونکہ لوگ سمجھتے تھے کہ میں طاقت استعمال کروں گا۔‘
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے طاقت استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں طاقت استعمال نہیں کرنا چاہتا۔ میں طاقت استعمال نہیں کروں گا۔‘
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ صرف ان کا ملک ہی ’گرین لینڈ کو محفوظ بنا سکتا ہے۔‘
’حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے سوا کوئی ملک یا ممالک کا کوئی گروہ گرین لینڈ کو محفوظ بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ہم ایک عظیم طاقت ہیں، اس سے کہیں زیادہ جتنی لوگ سمجھتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ بات دو ہفتے قبل وینزویلا میں سامنے آ گئی تھی۔‘

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ صرف ان کا ملک ہی ’گرین لینڈ کو محفوظ بنا سکتا ہے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)

صدر ٹرمپ نے نیٹو کے اتحادی ملک ڈنمارک کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’ناشکرا‘ قرار دیا، اور کہا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد گرین لینڈ کے تحفظ میں امریکی مدد کے باوجود ڈنمارک کا رویہ درست نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ’امریکہ اس کرۂ ارض کا معاشی انجن ہے۔ جب امریکہ ترقی کرتا ہے تو پوری دنیا ترقی کرتی ہے۔ تاریخ یہی بتاتی ہے۔‘
یورپ کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ براعظم کے بعض حصے ’قابلِ شناخت نہیں رہے‘، اور ’مجھے یورپ سے محبت ہے اور میں چاہتا ہوں کہ یورپ آگے بڑھے، لیکن یہ درست سمت میں نہیں جا رہا۔‘

 

شیئر: