Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریاض سے مدار تک: سعودی ماں اور بیٹے کی زمین اور خلا میں امراضِ چشم پر تحقیق

سعودی عرب کا ہیلتھ ٹیکنالوجی کا ایک سٹارٹ اپ امراضِ چشم کے علاج اور مصنوعی ذہانت کو استعمال کر کے زمین اور خلا میں آنکھوں کے مرض کے مطالعے سے انقلابی تبدیلیوں کی راہیں ہموار کر رہا ہے۔
امراضِ چشم میں سلوی الھزاع کا 35 برس کا تجربہ ہے جبکہ نائف العبیداللہ جو ان کے صاحبزادے اور شریک بانی ہیں انھوں نے ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری میں ماضی میں قسمت آزمائی ہے۔ دونوں نے ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے دوران کارنکل یونیورسٹی کے ساتھ خلا میں آنکھ کے مائیکرو بائیوم کے مطالعے کے لیے شراکت کا اعلان کیا۔ (مائیکرو بائیوم، آنکھ پر موجود بیکٹیریا، فنگس اور دیگر مائیکروبس کے مجموعے کو کہتے ہیں)۔
الھزاع کا کہنا تھا کہ ’35 برس سے آنکھ کے امراض کا ماہر ہونے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ابھی آنکھ کی کچھ بیماریاں ایسی ہیں جن کا کوئی علاج ہی نہیں۔ ہم نے سوچا ہم مائیکربیوم کو خلا میں کیوں نہ لے جائیں اور دیکھیں کہ وہاں یہ اپنے اندر کیسے اور کس طرح کی تبدیلیاں لاتے ہیں۔ ہمیں خلا میں جو بھی حل ملے ان کا فائدہ خلانوردوں کو پہنچے گا۔ لیکن اس سے زمین پر رہنے والے مریضوں کا بھی بھلا ہو سکتا ہے۔
اس پروجیکٹ کو جو مکمل طور پر سعودی سربراہی میں بروئے کار لایا جا رہا ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے کنگ عبدالعزیز سِٹی اور سعودی سپیس ایجنسی کا تعاون حاصل ہے۔ چنانچہ نتائج کو مدار میں روانہ کرنے سے پہلے ان کی جانچ کے لیے یہ منصوبہ یہاں کی لیبارٹریوں کی مشابہت اختیار کرتا ہے۔
ماں بیٹا دونوں کے لیے مل کر یہ تحقیقی کام، ہیلتھ کیئر اور مصنوعی ذہانت کے برس ہا برس کے استعمال سے سامنے آنے والے مفید نتائج کے بعد اس میں آنے والی جدت کا نتیجہ ہے۔

سعودی ہاؤس میں ماں اور بیٹے دونوں نے اپنی تحقیق کے بارے میں آگاہ کیا (فوٹو: ایس ڈی ایم انسٹاگرام)

الھزاع کے مطابق ’اس سے ڈاکٹروں کو فوری فائدہ ملے گا اور ان کے کام میں اضافہ ہوگا نہ کہ یہ ان کی جگہ کوئی اور ہوگا۔ اب ہم ڈاکٹروں کو وہی مریض دیں گے جن کو سرجری کی ضرورت ہوگی۔
العبیداللہ نے ہیلتھ کیئر سٹارٹ اپ کے ابتدائی چیلینجز کا ذکر کیا لیکن سعودی عرب میں مسلسل بدلتی اور آسان ہوتی ہوئی صورتِ حال کا خاص تذکرہ بھی کیا۔
انھوں نے کہا ’مختلف ضابطوں کی وجہ سے ہیلتھ کیئر میں سٹارٹ اپ میں مصنوعی ذہات کو شامل کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ اس میں نہ صرف قواعد ہیں بلکہ مریضوں کا ڈیٹا ہے اور اخلاقی فریم ورک بھی ہے۔ ہمیں چیلنجز درپیش آئے لیکن ہر حل صنعت میں ہر کسی کے لیے فائندہ مند ہی ہوگا۔ اگر آپ چند سال پیچھے چلے جائیں تو بہت کم سٹارٹ اپ تھے۔ لیکن آج اس ریجن میں سعودی عرب سرمایہ کاری میں پہلے نمبر پر ہے۔

نائف العبیداللہ نے کہا کہ ہیلتھ کیئر اب ایک خصوصی رعایت نہیں بلکہ سب کا حق ہے (فوٹو: ایس ڈی ایم انسٹاگرام)

الھزاع کے مطابق ان دونوں کو جس چیز نے ایک نقطے پر اکٹھا کیا وہ جذبہ تھا۔ ہمارے لیے یہ کام سب سے پہلے خدمت ہے پھر کاروبار ہے۔
ان کے فراہم کردہ حل پہلے ہی سعودی عرب میں دسیوں ہزار ایسے مریضوں تک پہنچ رہے ہیں جنھیں اعلٰی علاج کی سہولت دستیاب نہیں۔
حال ہی میں اس سٹارٹ اپ کو  اپنے کام کو مزید وسعت دینے کے لیے ریسرچ ڈیویلپمنٹ اننوویشن اتھارٹی کی طرف سے گرانٹ بھی دی گئی ہے۔
کورنیل یونیورسٹی کے ساتھ شراکت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں خواتین کے لیے سعودی تعاون، ان ماں بیٹے کے لیے باعثِ فخر ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر سلوی الھزاع 35 برس شعبہ صحت سے منسلک ہیں (فوٹو: ایس ڈی ایم انسٹاگرام)

الھزاع کا کہنا تھا ’تمام مشکلات کے باوجود، لوگوں نے شروع میں سوچا کہ میں دیوانی ہوں۔ لیکن آج  ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک سعودی خاتون کے طور پر میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ ہم خواتین کی شمولیت کے تناسب سے جی 20 اور سِیلیکون ویلی  سے آگے نکل گئے ہیں کیونکہ ہماری ٹیم میں 36 فیصد خواتین ہیں۔
العبیداللہ نے کہا ’کہ یہ کامیابی مملکت میں ڈیجیٹل انقلابی تبدیلی کی کامیابی ہے۔ ہم ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ہیلتھ کیئر کی رسائی ہر کسی تک پہنچا رہے ہیں۔ ہیلتھ کیئر اب ایک خصوصی رعایت نہیں بلکہ سب کا حق ہے۔

شیئر: