عراق مظاہرے: کم سے کم 40 افراد ہلاک

رواں ماہ ان مظاہروں میں سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں (فوٹو:اے ایف پی)
عراق میں حکومت مخالف پر تشدد مظاہروں میں کم سے کم 40 افراد ہلاک جبکہ دو ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق دارالحکومت بغداد میں جمعے کو تازہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے اور منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال اور براہ راست فائرنگ کی۔
اس مہینے یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے، دو ہفتے پہلے مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ میں 157 افراد ہلاک اور چھ ہزار زخمی ہوئے تھے۔
کہا جارہا ہے کہ شدت پسند تنظیم داعش کو شکست دینے کے بعد بد امنی عراقی حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہے۔

مظاہروں کے دوران کئی سیاسی جماعتوں کے دفاتر کو بھی آگ لگا دی گئی۔فوٹو اے پی

بغداد کے مرکزی تحریر سکوائر کے مظاہرے میں شریک 16 برس کے علی محمد کے مطابق ’ہم چار چیزیں چاہتے ہیں: نوکری، پانی، بجلی اور تحفظ، یہی چیزیں ہم چاہتے ہیں۔‘
حکومت مخالف مظاہرین نعرے لگا رہے تھے ’ہم بھوکے نہیں ہیں عزت چاہتے ہیں‘۔ مظاہرے میں شریک ایک شخص نے کہا ’ عوام کے نام نہاد نمائندوں کی تمام وسائل پر اجارہ داری ہے۔‘
اے ایف پی نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا جنوبی عراق کے شہر ناصریہ میں مظاہرین نے صوبائی حکومت کے دفاتر کو آگ لگا دی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سرکاری عمارتوں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔ کئی ہزار مظاہرین پورے سیاسی نظام کی اصلاح کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
عراق کی  وزارت داخلہ کے مطابق کہ ان مظاہروں میں 68 سکیورٹی فورسز اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

مظاہرین پورے سیاسی نظام کی اصلاح کا مطالبہ کر رہے ہیں۔فوٹو اے پی

بغداد میں یہ مظاہرے یکم اکتوبر سے شروع ہوئے تھے جو جنوبی شہروں تک پھیل گئے ہیں۔
عراق کے موجودہ وزیراعظم نے ایک برس پہلے حکومت میں آئے ہیں لیکن تاحال وعدے کے مطابق وزیراعظم عراق میں اصلاحات نہیں لا سکے۔
تیل کی دولت سے مالا مال ملک میں کئی عراقی غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔
عراقیوں کو پینے کے صاف پانی تک رسائی، بجلی، صحت اور تعلیم کی سہولیات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
واٹس ایپ پر خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: