’یہ نہیں ہو سکتا کہ 30، 40 ہزار لوگ آئیں اور حکومت کا تختہ الٹ دیں‘

حکومت نے مولانا کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا
حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ اور وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ حکومت اپنے معاہدے پر قائم ہے، اگر اپوزیشن نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو انتظامیہ ایکشن لینے پر مجبور ہو گی۔
اسلام آباد میں حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے دیگر ارکان کے ہمراہ میڈیا بریفنگ میں پرویز خٹک نے کہا کہ ’حکومت لاچار نہیں، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ 30، 40 ہزار لوگ آئیں اور حکومت کا تختہ الٹ دیں۔‘
حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے مزید کہا کہ کوئی وزیراعظم کے استعفے کا سوچے بھی نہ، اس پر کوئی بات نہیں ہو گی۔ ’اگر قانون کی خلاف ورزی کے نتیجے میں کسی قسم کا کوئی نقصان ہوا تو ذمہ داری دھرنے والوں پر عائد ہو گی۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے ریاستی اداروں کے خلاف بات کی۔ فوٹو: اے ایف پی

پرویز خٹک کے بقول کور کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ’حکومت مولانا فضل الرحمان کے اس بیان کے خلاف عدالت میں جائے گی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم عمران خان کے گھر میں گھس کر انہیں گرفتار کر کے استعفیٰ لے لیں گے۔‘
وزیر دفاع نے کہا کہ ’اپوزیشن کا آگے بڑھنے کا اعلان ملک کے لیے نقصان دہ ہو گا۔ ہمیں خدشہ تھا کہ یہ اعتماد پر پورا نہیں اتریں گے۔ رہبر کمیٹی کی کسی دھمکی میں نہیں آئیں گے۔‘
ان کے مطابق ’اپوزیشن نے کنٹینر سے اداروں کے خلاف بھی بات کی گئی جو افسوس ناک ہے، اس پر آئی ایس پی آر کی وضاحت بھی آ گئی ہے کہ وہ منتخب حکومت کو سپورٹ کرتے ہیں۔‘

پرویز خٹک کے مطابق دھرنے کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

پرویز خٹک نے یہ بھی کہا کہ ’اگر یہ معاہدے پر قائم نہ رہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ یہ اپنی زبان کے کچے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ آگے آئیں گے۔ اگر انہوں نے آگے آنے کی کوشش کی تو کوئی حکومت پر ذمہ داری نہ ڈالے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ان کے دھرنے کے مقاصد کیا ہیں؟ اس دھرنے سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچا ہے، کشمیر کا ایشو پیچھے چلا گیا ہے۔ تاہم وہ سب کے ساتھ رابطے میں ہیں، اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم درانی سے بھی ہمارا رابطہ ہے، ہم ابھی ان سے بات کریں گے۔‘
حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اسد عمر نے الزام لگایا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مذہبی کارڈ استعمال کر رہی ہے۔
پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ وزیراعظم تمام صورت حال کو مانیٹر کر رہے ہیں اور حکومت مہنگائی اور معیشت سمیت مختلف ایشوز پر اپوزیشن سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ 

حکومتی کور کمیٹی نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘ فوٹو: پی ٹی آئی’

’اسمبلیوں سے اپوزیشن کے اجتماعی استعفوں کی تجویز زیر غور ہے‘
دوسری جانب اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے کہا ہے کہ ان کے آئندہ کے لائحہ عمل میں اپوزیشن کے اسمبلیوں سے اجتماعی استعفے، شٹر ڈاؤن ہڑتال، ضلعی سطح پر احتجاج اور قومی شاہراہوں کو بلاک کرنے سمیت مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔ اجلاس میں شریک ارکان یہ تجاویز اپنی اپنی پارٹیوں میں لے کر جائیں گے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی نے کہا کہ ’حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک کہتے ہیں کہ وزیراعظم کے استعفے پر بات نہیں ہو گی جبکہ ہمارا پہلا مطالبہ ہی وزیراعظم کا استعفیٰ ہے۔ وزیراعظم کے استعفے اور نئے انتخابات کے مطالبے پر تمام جماعتوں کا اتفاق ہے۔‘ 

اکرم درانی کے مطابق وہ حکومت سے رابطہ رکھنے سے خائف نہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا

رہبر کمیٹی کے سربراہ نے مزید کہا کہ ڈی سی کے ساتھ معاہدے پر قائم ہیں لیکن حکومت بھاگ رہی ہے۔ حکومت نے قافلوں کا راستہ روکا اور گاڑیاں بند کیں۔ ہمارے مارچ میں ایک پتھر پھینکا گیا نہ ہی ایک شاخ تک توڑی گئی۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ حکومت سے رابطہ رکھنے سے خائف نہیں لیکن وزیراعظم اور پرویز خٹک کا لب و لہجہ ٹھیک نہیں ہے۔

شیئر: