Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران سے زمینی راستے کے ذریعے پاکستانیوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری

ایران میں امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے باعث وہاں پھنسے پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ 
حکام کے مطابق اب تک قریباً دو ہزار پاکستانی مختلف سرحدی راستوں سے بحفاظت پاکستان پہنچ چکے ہیں جبکہ واپسی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
پاکستانی باشندے ایران سے متصل بلوچستان کے ضلع چاغی میں تفتان-میرجاوہ کراسنگ اور ضلع گوادر میں گبد-رمدان کراسنگ پوائنٹس کے ذریعے واپس آرہے ہیں۔ 
چاغی اور گوادر کی انتظامیہ کے مطابق دونوں مقامات پر امیگریشن اور سکیورٹی کے انتظامات سخت کیے گئے ہیں تاکہ شہریوں کی محفوظ واپسی یقینی بنائی جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر چاغی جہانزیب شاہوانی نے بدھ کی شام بتایا کہ اب تک تفتان کے راستے 1522 پاکستانی وطن واپس آچکے ہیں۔ ان کے مطابق رات بارہ بجے تک سرحدی گیٹ کھلا رہتا ہے انتظامیہ، ایف آئی اے امیگریشن سمیت متعلقہ اداروں کے اہلکار واپس آنے والوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’واپس آنے والوں میں زیادہ تر طلبہ اور زائرین شامل ہیں،کاروباری افراد اور سیاح بھی وطن واپس آرہے ہیں۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ ایران سے آنے والے طلبہ اور زائرین کو سخت سکیورٹی میں قافلوں کی صورت میں کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے جہاں ضروری انتظامات کے بعد انہیں اُن کے آبائی علاقوں کو روانہ کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب گوادر میں گبد-رمدان کراسنگ پوائنٹ سے بھی پاکستانیوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کے مطابق بدھ کو مزید 25 طلبہ سمیت 136 افراد سرحد عبور کر کے پاکستان پہنچے۔

حکام کے مطابق ’اب تک قریباً دو ہزار پاکستانی مختلف سرحدی راستوں سے بحفاظت پاکستان پہنچ چکے ہیں‘ (فوٹو: اے ایف پی)

اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ اس راستے سے اب تک مجموعی طور پر 456 پاکستانی شہری وطن واپس آچکے ہیں۔
نقیب اللہ کاکڑ نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے واپس آنے والے شہریوں کو ٹرانسپورٹ، خوراک، عارضی رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ انہیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔ 
انہوں نے کہا کہ گوادر کے راستے آنے والے زیادہ تر افراد کو کراچی بھیجا جا رہا ہے جہاں سے وہ اپنے اپنے علاقوں کو روانہ ہو رہے ہیں۔
حکام کے مطابق سرحدی مقامات پر واپسی کا عمل منظم انداز میں جاری ہے اور ضرورت پڑنے پر اضافی عملہ اور وسائل بھی تعینات کیے جا رہے ہیں تاکہ ایران میں موجود باقی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ واپسی یقینی بنائی جا سکے۔
یاد رہے کہ سنیچر سے ایران کے دارالحکومت تہران میں زور دار دھماکے ہو رہے ہیں، جبکہ دنیا بھر کے ممالک کے سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔

 

شیئر: