بدین میں ٹماٹروں پر مسلح پہرا کیوں؟

ٹماٹر کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد بدین میں کھیتوں سے ٹماٹر کی چوری میں اضافہ ہوا ہے۔ فوٹو سوشل میڈیا
پاکستان میں ان دنوں حکومتی ایوانوں سے گلی محلوں تک ہر جگہ ٹماٹر کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کے چرچے ہیں۔
ملک کے مختلف علاقوں میں ٹماٹر 250 سے 300 روپے کلو کیا بکنے لگا کہ اس کا شمار نایاب اور قیمتی اجناس میں ہونے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب چوروں نے نقدی اور زیور چھوڑ کر ٹماٹر کے کھیتوں کا رخ کرلیا ہے۔
حالیہ دنوں میں ٹماٹر کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد بدین میں کھیتوں سے ٹماٹر چوری کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے اور کاشت کار ڈنڈوں اور اسلحے سے لیس ہو کر ٹماٹر کی فصلوں پر پہرہ دینے لگے ہیں۔
صوبہ سندھ کا ضلع بدین ٹماٹر کی فصل کے حوالے سے مشہور ہے اور سردیوں میں بدین اور اس سے ملحق اضلاع کا ٹماٹر پاکستان کے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے اردو نیوز نے جب بدین کے ایک کاشت کار شہباز علی گوپانک سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ کوئی عیر معمولی بات نہیں۔ ’ویسے عام حالات میں بھی فصلوں کی چوری کی وارداتیں ہوتی ہے اور کاشت کار پک جانے والی فصل کی نگرانی کا بندوبست کرتے ہیں لیکن ٹماٹر کی قلت اور اس کے نتیجے میں قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد ان واردوتوں میں اضافہ ہوا  ہے۔ ‘
ان حالات میں کاشت کاروں کے پاس جو بھی اسلحہ یا ڈنڈا ہوتا ہے وہ اٹھا کر اپنے فصلوں کی نگرانی اور حفاظت کرتے ہیں۔
بدین کے ایک دوسرے کاشت کار میر ظفر تالپور نے بھی ٹماٹر کی چوری کی وارداتوں کی تصدیق کی۔ تالپور نے اردو نیوز کو بتایا کہ چونکہ ٹماٹر کی شدید قلت کی وجہ سے اس کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں اور اسے پک کرنا بھی آساں ہے اس لیے جب رات کو آبادگار اپنی فصلوں کو کھلے آسمان تلے چھوڑ کر گھر جاتے ہیں تو چور گاڑی لے کر آجاتے ہیں اور بھر کے لے جاتے ہیں۔ ‘
سندھ چیمبر آف ایگریکلچر کے جنرل سیکریٹری زاہد بھرگھڑی سے جب ٹماٹروں کی قلت سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ’موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے اس دفعہ ٹماٹر کی فصل کو بہت زیادہ نقصان ہوا۔ شدید گرمی پڑی اور اس کے بعد بے وقت طویل بارشیں ہوئیں جس کی وجہ سے بدین، میرپور خاص، حیدر آباد اور ٹنڈو محمد خان کے ریجن میں ٹماٹر کی فصل متاثر ہوئی۔‘

بدین اور اس سے ملحق اضلاع کا ٹماٹر پاکستان کے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا ہے (فوٹو:سوشل میڈیا)

ان کے مطابق ’اس سیزن میں اس ریجن سے پورے ملک کو ٹماٹر جاتا ہے اور موسمی حالات کی وجہ سے فصل 80 فیصد تک تباہ ہو گئی جس کی وجہ سے حالیہ قلت پیدا ہوئی۔‘
زاہد بھرگڑی نے بتایا کہ موسمی حالات کے علاوہ ٹماٹر کی فصل خراب ہونے کی وجہ مارکیٹ میں جعلی ہائبرڈ بیچ کی دستیابی ہے۔
ٹماٹر کی قلت اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے بدین کے کاشت کار شہباز علی گوپانک کا کہنا تھا کہ اس دفعہ بدین کی فصل پکنے میں ٹائم لگا۔ ’عموماً دسویں مہینے بدین کی فصل مارکیٹ میں آجاتی ہے لیکن اس دفعہ ابھی تک بدین کے ٹماٹر مارکیٹ میں نہیں آئے ہیں۔ شدید گرمی اور اس کے بعد معمول سے زیادہ بارشیں اس کا سبب بنی اور ٹماٹر کی فصل تیار ہونے میں ٹائم لگا۔‘
شہباز علی کا کہنا تھا کہ بدین کے ٹماٹر رواں ماہ کی 25 تاریخ تک مارکیٹ میں آنا شروع ہوں گے۔
سوشل میڈیا صارفین بھی ٹماٹروں کی قیمتوں پر تبصرے کررہے ہیں۔

رضوان سرور نامی صارف نے لکھا کہ ’ بدین میں کاشتکاروں نے ٹماٹر کی فصلوں پر اسلحہ کے ساتھ پہرے دار بٹھا دیے ہیں اور کھیتوں کے مالکان نے اپنے بستر بھی کھیت میں ہی لگا لیے ہیں ٹماٹر کی فصلوں میں چوری بے انتہا بڑھ چکی ہے۔‘
حماد اقبال نامی صارف نے اپنی پوسٹ میں ایک تصویر شیئر کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو سکیورٹی اہلکار ٹماٹروں کا ایک ٹوکرا اٹھائے ہوئے شخص کےساتھ پہرہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’چلغوزے چوری ہونے کے بعد ۔۔۔۔ٹماٹر‘

شاہد جمیل نے مزاحیہ انداز میں لکھا ’ میرے لیے دعا کریں میرے گھر سے دو کلو ٹماٹر چوری ہوگئے۔‘
چودھری نامی صارف نے ٹویٹ کی کہ ’ چلغوزوں کے بعد اب ٹماٹر چوری کی واردات ہونے والی ہے، ٹماٹر مالکان ہوشیار باش۔‘

ابرار چودھری نے لکھا کہ ’ پہلے زمانے میں لوگ گولڈ جیولری اور روپیہ پیسہ چوری کرتے تھے مگر آج کل چلغوزے اور ٹماٹر گولڈ سے زیادہ قیمتی ہو گئے ہیں۔‘
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: