غزہ میں مصر کی ثالثی سے جنگ بندی

مصر کا کہنا ہے اسرائیل بھی جنگ بندی پر راضی ہوگیا ہے۔ فوٹو اے ایف پی
مصری اور فلسطینی عہدیداروں کے مطابق غزہ میں اسرائیل اور الجہاد الاسلامی تحریک اور دیگر فلسطینی گروپوں کے درمیان جنگ بندی کا سمجھوتہ طے پاگیا اور اس پرعمل درآمد بھی شروع ہو گیا ہے۔
سعودی عرب کے اخبار الشرق الاوسط نے الجہاد الاسلامی تحریک کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ جنگ بندی مصر کی ثالثی کے ذریعے عمل میں آئی ہے۔ مصر کا کہنا ہے کہ اسرائیل بھی جنگ بندی پر راضی ہوگیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کو عینی شاہدین نے بتایا کہ جمعرا ت کو جنگ بندی کے آدھے گھنٹے بعد غزہ سے اسرائیل پر ایک میزائل داغا گیا تاہم الجہاد الاسلامی کے ایک عہدیدار نے کا کہنا ہے اگر اسرائیل نے جنگ بندی پر عمل کیا تو سب اس کی پابندی کریں گے۔

تین دن سے جاری اسرائیلی حملوں میں 32 فلسطینی ہلاک ہوئے۔ فوٹو اے ایف پی

ادھر اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ غزہ پٹی میں دو روزہ فوجی آپریشن مکمل ہوگیا ہے۔ الجہاد الاسلامی تحریک کے ٹھکانوں پر حملوں کے بعد آپریشن بند کردیا گیا ہے۔
 بیان میں یہ بھی کہا گیا’ اسرائیلی فوج نے گزشتہ دو روز کے دوران اپنے تمام اہدا ف حاصل کرلیے۔ 25 مشتبہ مسلح عناصر مار دیے گئے۔ بیشتر کا تعلق الجہاد الاسلامی سے تھا۔ یہی اسرائیل پر میزائل حملوں کے ذمہ دار تھے۔ دسیوں عمارتیں اور زمین کے اوپر اور اند رقائم کمپلیکس بھی تباہ کردیے گئے۔ الجہاد کے بحری ٹھکانوں کو بھی تباہ کردیا گیا‘۔
غزہ میں وزارت صحت کے مطابق تین دن سے جاری اسرائیلی حملوں میں 32 فلسطینی ہلاک ہوئے۔ 

اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی میں آپریشن مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فوٹو اے ایف پی

 اے ایف پی کے مطابق مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد شامل ہیں۔ فلسطینی حکام نے بتایا ہے کہ حملوں میں خواتین اور بچے بھی نشانہ بنے ہیں۔
اسرائیلی چینل السابعہ کا کہنا تھا کہ غزہ سے کیے جانے والے راکٹ حملوں میں 41 اسرائیلی زخمی ہوئے ہیں۔ 
 اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے خبردار کیا تھا کہ اگر الجہاد والوں نے میزائل حملے بند نہ کئے تو غزہ پٹی پر مزید حملے ہوں گے۔
 

شیئر: