پٹرول کی نئی قیمتیں، سپریم لیڈر کی حمایت

دارالحکومت تہران سے شروع ہونے والے مظاہرے کئی شہروں تک پھیل گئے۔ فوٹو: روئٹرز
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق اتوار کو سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کیے گئے ایک بیان میں سپریم لیڈر نے کہا کہ وہ ماہر تو نہیں اور اس بارے میں مختلف آرا ہیں لیکن جب ریاست کے تین اہم ستونوں کے سربراہ کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو وہ ان کی حمایت کرتے ہیں۔  
 ایران میں پٹرول کی قیمتوں میں پچاس فیصد اضافے کے خلاف سنیچر کو تہران سمیت ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے ہوئے جن میں مظاہرین کی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کے مطابق ’تین سربراہوں کے فیصلے کے پیچھے ماہرین کی آرا ہوتی ہیں اس عمل درآمد ضروری ہوتا ہے۔‘
خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ مظاہرے 40 شہروں اور قصبوں میں پھیل گئے ہیں۔
’پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مظاہروں نے سیاسی رنگ اختیار کرلیا۔ مظاہرین نے حکومت مخالف نعرے لگائے۔‘

مظاہرے 40 شہروں اور قصبوں میں پھیل گئے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

یاد رہے کہ ایرانی حکومت نے پٹرول کی قیمت 10 ہزار ریال فی لٹر سے بڑھا کر 15 ہزارریال فی لٹر کرنے کے ساتھ اس کی راشننگ کر دی ہے۔
بڑھائی گئی قیمت پر ہر نجی کار کو ایک ماہ میں صرف 60 لٹر پٹرول فراہم کیا جائے گا۔ اس سے زائد پٹرول خریدنے پرقیمت 30 ہزار ریال فی لٹر ہو گی۔
 ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق کچھ شہروں میں پولیس کی مظاہرین کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی گئی۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی نے مقامی حکام کے حوالے سے بتایا کہ صوبہ کرمان میں ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

مظاہرین نے تہران اور دیگر شہروں میں سڑکیں بند کردیں اور ٹائر جلائے۔  فوٹو: اے ایف پی

’مشتعل افراد نے پٹرول ذخیرہ کرنے والے گودام پر حملہ کیا اور ا سے نذر آتش کرنے کی کوشش کی۔‘
ایران کے اندر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مظاہرین عمارتوں کو آگ لگا رہے ہیں۔ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔ دوسری ویڈیوز میں دکھایا گیا یے کہ مظاہرین نے تہران اور دیگر شہروں میں سڑکیں بند کر دیں اور ٹائر جلائے۔ 
روئٹرز کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور دیگر تصاویر کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

حکومت نے پٹرول کی قیمت 10 ہزار ریال سے بڑھا کر 15 ہزارریال فی لٹر کردی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

 ایک عینی شاہد نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شیراز شہر میں بھی لوگ مشتعل ہیں۔ فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ سینکڑوں افراد سڑکوں پر ہیں۔ سنیچر کی صبح پولیس کی ایک گاڑی کو بھی آگ لگائی گئی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ پولیس نے کئی شہروں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی۔ ٹوئٹر پر وائرل ایک ویڈیو میں مظاہرین کو ایک بینک کو آگ لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی نے’دشمن میڈیا‘ پر سوشل میڈیا کی ’جعلی خبروں اور ویڈیوز‘ کے ذریعے مظاہروں کو ’بڑھا چڑھا‘ کر دکھانے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا ہے۔
 

شیئر: