امریکہ نے افغانستان کو ’ناجائز حراست کی سرپرستی کرنے والی ریاست‘ قرار دے دیا
مارکو روبیو نے طالبان حکومت سے دو امریکی شہریوں کو رہا کرنے کا مطالبہ بھی کیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو افغانستان کو ’ناجائز حراست کی سرپرستی کرنے والی ریاست‘ قرار دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق واشنگٹن میں ایک بیان میں انہوں نے طالبان حکام سے دو امریکیوں کو رہا کرنے اور ’یرغمالی سفارت کاری‘ ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
یہ اقدام ایران کو واشنگٹن کی جانب سے ’ناجائز حراست‘ کے حوالے سے بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔ ایران پہلا ملک ہے جس اس لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
صدر دونلڈ ٹرمپ نے ستمبر میں ایک ایگریکٹیو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس کے ذریعے بلیک لسٹ بنائی گئی تھی، یہ اس سے ملتی جلتی ہے جس کے تحت ریاستوں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ’طالبان دہشت گردی کے حربے جاری رکھے ہوئے ہیں اور لوگوں کو تاوان یا پھر مراعات کے لیے اغوا کر رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’امریکیوں کے لیے افغانستان کا سفر محفوظ نہیں ہے کیونکہ طالبان نے ناجائز طور پر ہمارے شہریوں اور دوسرے ممالک کے باشندوں کو پکڑ کو حراست میں رکھنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’طالبان کو ڈینس کوئل، محمود حبیبی اور ان تمام امریکیوں کو رہا کرنا چاہیے جن کو افغانستان میں حراست میں رکھا گیا ہے اور یرغمالی سفارت کاری کا سلسلہ فوری طور پر ختم کرنے کا عہد کرنا چاہیے۔‘
محمود حبیبی ایک افغان نژاد امریکی بزنس مین ہیں اور ماضی میں افغانستان میں سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کو2022 میں کابل سے درجنوں کی تعداد میں ان کی کمیونیکیشن کمپنی کے ملازمین کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا۔
سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ ایسی کسی بھی اطلاع دینے والے کے لیے 50 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کر رکھا جس کی بدولت محمود حبیبی کی واپسی ممکن ہو سکے۔
جیمز فولی فاؤنڈیشن کے مطابق کوئل کا تعلق کولوراڈو سے ہے اور وہ ایک ماہر تعلیم ہیں وہ جنوری 2025 میں حراست میں لیے جانے سے قبل دو ہائیوں تک افغانستان میں کام کرتے رہے ہیں۔