Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چین اور شمالی کوریا کے درمیان ٹرین سروس چھ سال بعد بحال

چھ برس کے وقفے کے بعد چین اور شمالی کوریا کے درمیان مسافر ٹرین سروس دوبارہ شروع کی جا رہی ہے جس کے تحت بیجنگ سے شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ جانے والی پہلی ٹرین 12 مارچ کو روانہ ہوگی۔
برطانوی خبر رساں ایجسنی روئٹرز کے مطابق چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ٹکٹنگ کے دفتر نے بتایا ہے کہ اس ٹرین کے تمام ٹکٹ پہلے ہی فروخت ہو چکے ہیں۔ یہ ٹرین سروس سنہ 2020 میں کورونا کی وبا کے آغاز کے بعد معطل کر دی گئی تھی۔
یہ ریلوے لائن شمالی کوریا اور اس کے اہم معاشی اتحادی چین کے درمیان سفر اور تجارت کے لیے ایک اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔
ٹکٹنگ دفتر کے مطابق اس سفر کے لیے ٹکٹ زیادہ تر کاروباری ویزہ رکھنے والے مسافروں نے خریدے جن میں کاروباری افراد، سرکاری حکام اور صحافی شامل ہیں، تاہم 18 مارچ کو چلنے والی اگلی ٹرین کے لیے ابھی ٹکٹ دستیاب ہیں۔
چین کے ریلوے حکام کے مطابق بیجنگ اور پیانگ یانگ کے درمیان ٹرینیں ہفتے میں چار دن یعنی پیر، بدھ، جمعرات اور سنیچر کو چلیں گی جبکہ ڈانڈونگ اور پیانگ یانگ کے درمیان ٹرین سروس روزانہ کی بنیاد پر چلائی جائے گی۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ اس سروس کی بحالی سے دونوں ممالک کے درمیان سفر، تجارت، معاشی تعاون اور عوامی روابط کو فروغ ملے گا۔
دوسری جانب شمالی کوریا اب بھی زیادہ تر غیرملکی سیاحوں کے لیے بند ہے اور محدود پیمانے پر ہی کچھ روسی سیاحوں کو خصوصی انتظامات کے تحت وہاں جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔
کورونا سے قبل شمالی کوریا آنے والے غیرملکی سیاحوں میں سب سے بڑی تعداد چینی شہریوں کی ہوا کرتی تھی۔
اُدھر ٹریول ایجنسیوں کے مطابق شمالی کوریا نے اگلے ماہ ہونے والی پیانگ یانگ میراتھن بھی غیر واضح وجوہات کی بنا پر منسوخ کر دی ہے جو ملک میں چند ایسے بین الاقوامی ایونٹس میں شامل تھی جن میں غیرملکی شرکا کو شرکت کی اجازت ہوتی تھی۔
 

شیئر: