Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’تاریخی ورثے کا تحفظ‘ طائف کے قریب 1400 برس قدیم مسجد کی تعمیر نو

 حضرت جریر بن عبداللہ ؓ  کی قبر بھی مسجد سے محلق موجود ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب میں قدیم وتاریخی مساجد کی بحالی کے حوالے سے شہزادہ محمد بن سلمان کے منصوبے کے دوسرے مرحلے میں طائف شہر سے 100 کلومیٹر جنوب میں واقع 1400 برس قدیم مسجد جریر بن عبداللہ البجلی کی تعمیرِ نو کی گئی ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق صحابی حضرت جریر بن عبداللہ البحلی رضی اللہ عنہ نے ہجرت کے دسویں برس ماہ رمضان میں اپنی قوم کے ساتھ اسلام قبول کیا، ان کی نسبت سے اس مسجد کا نام ’مسجد جریر بن عبداللہ البحلی‘ رکھا گیا۔
 کہا جاتا ہے حجۃ الوداع کے موقع پر مسجد کی تعمیر کی گئی۔ حضرت جریر بن عبداللہ ؓ  کی قبر بھی مسجد سے محلق موجود ہے، جس سے اس مقام کی تاریخی حیثیت مزید نمایاں ہوتی ہے۔
مسجد اپنی تعمیری ساخت میں علاقائی شناخت کی حامل ہے، ناہموار پتھروں اور عرعر کے درخت کے تنوں سے بنے ستون جس پرچھت ڈالی گئی تھی۔
نئی تعمیر میں بھی اسی قدیم طرز کو نمایاں کیا گیا ہے تاکہ اس کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔

مسجد کا رقبہ 350 مربع میٹر ہے جس میں 135 نمازیوں کی گنجائش ہے، مرکزی ہال میں قدیم انداز کے لکڑی کے ستون بنائے گئے ہیں جس سے اس دور کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔
مسجد کی ترمیم و توسیع کے بعد خواتین کے لیے بھی نماز کی جگہ مخصوص کی گئی ہے۔
ماضی میں مساجد میں مسافروں کے لیے ایک کمرہ بھی مخصوص کیا جاتا تھا جو اسلام میں معاشرتی امور اور مسافروں کی خدمت کے حوالے سے بنایا جاتا تھا۔

ولی عہد کے منصوبے کے دوسرے مرحلے میں مسجد کی تعمیرِ نو وبحالی کا کام مکمل کیا گیا، مسجد کو اسی انداز میں دوبارہ تعمیر کیا گیا جس طرح یہ پہلے بنائی گئی تھی۔
مسجد کی تاریخی اہمیت اس جانب سے اشارہ کرتی ہے کہ صحابہ کرام  کی اس علاقے میں آمد ورفت تھی اور وہ دینی امور کی اشاعت میں مصروف رہا کرتے۔

 

شیئر: