تاریخی مساجد کی بحالی: طائف کے قریب 1400 برس قدیم مسجد کی تعمیرِ نو
مملکت کی ثقافتی شناخت کو آگے بڑھانے کی کوششوں کے سلسلے میں تاریخی مساجد اور ان کے تعمیری لینڈ مارکس کے تحفظ کے لیے، ’پرنس محمد بن سلمان پروجیکٹ‘ کے دوسرے مرحلے میں طائف شہر سے 100 کلومیٹر جنوب میں واقع 1400 برس قدیم مسجد جریر بن عبداللہ البجلی کی تعمیرِ نو کی گئی ہے۔
’پرنس محمد بن سلمان پروجیکٹ‘، سعودی وژن 2030 کے اہم ترین اہداف میں سے ایک ہے جس میں مملکت میں تاریخی حیثیت کی حامل مساجد کی تعمیرِ نو اور بحالی شامل ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق صحابی جریر بن عبداللہ البجلی نے ہجرت کے دسویں برس ماہ رمضان میں اپنی قوم کے ساتھ اسلام قبول کیا، ان کی نسبت سے اس مسجد کا نام ’مسجد جریر بن عبداللہ البجلی‘ رکھا گیا۔
کہا جاتا ہے حجۃ الوداع کے موقع پر مسجد کی تعمیر کی گئی۔ جریر بن عبداللہ کی قبر بھی مسجد سے محلق ہے جس سے اس مقام کی تاریخی حیثیت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔
مسجد اپنی تعمیری ساخت میں علاقائی شناخت کی حامل ہے، ناہموار پتھروں اور عرعر کے درخت کے تنوں سے بنے ستون پر چھت ڈالی گئی تھی۔
نئی تعمیر میں بھی اسی قدیم طرز کو نمایاں کیا گیا ہے تاکہ اس کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔

مسجد کا رقبہ 350 مربع میٹر ہے جس میں 135 نمازیوں کی گنجائش ہے۔ مرکزی ہال میں قدیم انداز کے لکڑی کے ستون بنائے گئے ہیں جن سے اُس دور کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔
مسجد کی ترمیم و توسیع کے بعد خواتین کے لیے بھی نماز کی جگہ مختص کی گئی ہے۔

ماضی میں مساجد میں مسافروں کے لیے ایک کمرہ بھی مخصوص کیا جاتا تھا جو اسلام میں معاشرتی امور اور مسافروں کی خدمت کے حوالے سے بنایا جاتا تھا۔
مسجد کی تاریخی اہمیت اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ صحابہ کرام کی اس علاقے میں آمدورفت تھی اور وہ دینی امور کی اشاعت میں مصروف رہا کرتے۔
