یہودی بستیاں، عرب وزرائے خارجہ کا اجلاس

سعودی عرب نے یہیودی بستیوں سے متعلق امریکی موقف مسترد کردیاہے۔
سعودی عرب نے غرب اردن میں یہیودی بستیوں سے متعلق امریکی حکومت کے نئے موقف کو مسترد کردیاہے۔
 واضح رہے کہ امریکہ نے کہا تھا کہ اب وہ غرب اردن میں اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے منافی نہیں سمجھتا۔
سعودی خبررساں ادارے ایس پی اے کے مطابق سعودی دفتر خارجہ کے عہدیدار نے بدھ کو ایک بیان میں واضح کیا ’ غرب اردن میں اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی قانونی فیصلوں کے سراسر خلاف ہیں‘۔
 ’یہ بستیاں مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے قیام کی راہ میں رکاوٹ اور دو ریاستی حل پر عملدرآمد کے منافی ہیں‘۔

فلسطینی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے تاریخی غلطی کی ہے۔

سعودی دفتر خارجہ کے مطابق’ پائدار امن کے قیام کے لیے فلسطینی عوام کو عرب امن فارمولے اور بین الاقوامی قانونی قراردادوں کے مطابق تمام جائز حقوق دینا ہوں گے‘۔
دریں اثناءعرب لیگ نے اسرائیلی بستیوں سے متعلق امریکہ کے نئے موقف پر غورکے لیے عرب وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس پیر کو قاہرہ میں طلب کیا ہے۔
اخبار 24 کے مطابق اجلاس کی صدارت عراق کے وزیر خارجہ محمدعلی الحکیم کریں گے۔ اجلاس فلسطین کی درخواست پر بلایا گیا ہے۔
عرب لیگ کے معاون سیکریٹری جنرل حسام زکی نے بتایا کہ جنرل سیکریٹریٹ اجلاس میں اسرائیلی بستیوں کی تازہ ترین صورتحال پر یادداشت پیش کرے گی۔ عرب وزرائے خارجہ امریکہ کی نئی پالیسی پر عربوں کا موقف طے کریں گے۔
یاد رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ واشنگٹن اب غرب اردن میں اسرائیلی آباد کاری کو بین الاقوامی قانون کے منافی نہیں سمجھتا۔ 

عرب وزرائے خارجہ کا اجلاس پیر کو قاہرہ میں طلب کیا گیا ہے۔

 دوسری طرف فلسطینی اتھارٹی نے کہا کہ’ امریکہ نے القدس اور اسرائیلی بستیوں سے متعلق استعماری پالیسی اپنا کر تاریخی غلطی کی ہے‘۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق فلسطینی ایوان صدارت کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے کہا ’ امریکہ کی پے درپے غلطیوں سے پوراعلاقہ تباہ ہوجائے گا۔ تمام شعبوں میں امریکہ کی ناکام پالیسی سے لگنے والی آگ سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا‘۔
’ فلسطینی عوام اور اس کے قائدین بنیادی طور پر بقا ءکی جنگ لڑ رہے ہیں‘۔ 
فلسطینی ایوان صدارت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کے لیے قابل قبول حل ہی موجودہ تباہ کن بحرانوں کے خاتمے کا ضامن بنے گا۔ امریکی حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنی غلط پالیسیو ںپر نظر ثانی کرے۔

شیئر: