امریکہ میں 12 برس بے جا قید کاٹنے والا کویتی کون؟

البحری کی رہائی میں میڈیا اور کویتی سفارتکاروں نے اہم کردار ادا کیا ۔فوٹو ۔ اخبار 24
امریکہ میںجھوٹے مقدمے میں 12  برس قید کاٹنے والے کویتی مصنف کی بالاخر رہائی ممکن ہو گئی ۔ کویت کے ایئر پورٹ پر مظلوم شہری کا شاندار استقبال کیا گیا ۔ 
یاسر البحری نامی کویتی کی رہائی میں میڈیا اور کویتی سفارتکاروں نے اہم کردار ادا کیا ۔ البحری پر امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک کافی شاپ کی خاتون نے چھیڑ چھاڑ کا الزام عائد کیا تھا ۔
اخبار 24 کی اطلاع کے مطابق یاسر البحری نامی کویتی شہری نے  اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے 2001 میں بوسٹن یونیورسٹی میں داخل لیا اور جہاں سے انہو ںنے ماسٹر ڈگری حاصل کی۔
البحری نے ماسٹر ڈگری حاصل کرنے کے بعد ڈاکٹریٹ کرنے کے لیے فلوریڈا یونیورسٹی میں داخلہ لیا مگر 2007 میں ایک کافی شاپ کی خاتو ن مالکن نے الزام لگایا کہ البحری نے اس سے بدتمیزی کی اور چھیڑ چھاڑکی ۔ 
کافی شاپ کی مالکن نے پولیس کو طلب کر لیا جنہو ںنے  کویتی یاسر البحری کو گرفتار کر کے مقدمہ دائر کر دیا ۔ 
البحری کے خلاف مقدمہ عدالت میں چلتا رہا اس دوران انہیں تحقیقات کی مد میں قید رکھا گیا ۔ اس ضمن میں کویتی میڈیا کا کہنا تھا کہ البحری کے اہل خانہ نے میڈیا سے رجوع کیا جنہوں نے انکی اپیل حکام بالا تک پہنچائیں ۔
امریکہ میں کویتی سفارتخانے کی جانب سے مقدمے کی پیروی کی گئی بالاخر 12 برس بعد یاسر البحری کو بے قصور قرار دے کر رہا کر دیا گیا ۔
امریکہ میں 12 برس قید بے جا میں رہنے والے یاسر البحری فلسفہ اور سیاست کے طالب علم ہیں جو 20 سے زائد کتب کے مصنف بھی ہیں۔
البحری کی تصنیفات میں   " امریکہ میں اسلاموفوبیا "  ا ور  " قیدتنہائی کی ایک ہزار راتیں "  بے حد مقبول ہوئیں ۔
رہائی پانے کے بعد جب البحری کویت انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اترے تو انکے اہل خانہ کے علاوہ عام لوگ بھی جو انکا مقدمہ میڈیا پر دیکھتے آرہے تھے  انہوں نے انکا شاندار انداز میں استقبال کیا ۔ 

شیئر: