’آپ نے مجھے ٹی وی پر دیکھا ہے؟‘

پاکستانی ٹی وی اور فلموں کے اداکار علی رحمان خان کی ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کے عملے سے مبینہ جھگڑے اور بدتمیزی کی ویڈیو سوشل میڈیا میں وائرل ہوئی ہے۔
اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ علی رحمان فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کے عملے پر انتہائی غصے میں چلا رہے ہیں اور کاؤنٹر پر موجود کیشیئر سے اُونچی آواز میں پوچھ رہے ہیں کہ ’آپ کو پتا ہے میں کون ہوں، آپ نے مجھے کبھی ٹی وی پر دیکھا ہے؟ آپ یہاں ملازم ہیں اور آپ کا کام ہے میری بات ماننا، میں پیسے دے رہا ہوں۔‘
ان کے جواب دیتے ہوئے ریسٹورنٹ کے کیشیئر دھیمے لہجے میں کہتے ہیں کہ ’سر آپ صحیح کہہ رہے ہیں، آپ ناراض نہ ہوں۔‘
تاہم ویڈیو وائرل ہونے کے بعد علی رحمان کی جانب سے ایک وضاحتی ویڈیو جاری کی گئی جس میں انہوں نے دعوی کیا ہے کہ ’انہیں توقع تھی کہ اس ویڈیو پر بہت بحث ہوگی، یہ ویڈیو انہوں نے وی آئی پی کلچر کی حوصلہ شکنی کے لیے بنائی ہے اور اس سلسلے میں انہوں ںے ریسٹورنٹ کے عملے کو اعتماد میں لیا تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’وہ لوگوں اور سوشل میڈیا صارفین کا آواز اٹھانے پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ’ہم وی آئی پی کلچر کے خلاف بات کرتے ہیں لیکن اس پر عمل نہیں کرتے، ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی اس پر عمل کریں اور بچوں کو بھی سکھائیں۔‘
اداکار کا وضاحتی بیان ایک طرف مگر ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ ’علی رحمان لیکڈ ویڈیو‘ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا صارفین مِلے جُلے ردِعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ زیادہ تر صارفین نے علی رحمان کی اس ویڈیو پر ناپسندیدگی اور ناراضی کا اظہار کیا ہے تاہم کچھ صارفین کا موقف ہے کہ انہیں تفصیل جانے بغیر فوراً کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جانا چاہیے۔
سوشل میڈیا کے معروف صارف اور تحریک انصاف کے حامی فرحان خان ورک نے ٹویٹ کی کہ ’اگر کل کو یہ ویڈیو جعلی نکلی یا سستی شہرت کے لیے کسی اشتہار کا پرومو نکلا تو ہم اس پروڈکٹ کا بھی مکمل بائیکاٹ کریں گے۔‘
ایک اور ٹوئٹر صارف آمنہ جبیں نے علی رحمان کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ رویہ نا قابل قبول ہے۔‘
سرمد نامی ٹوئٹر صارف نے علی رحمان کی ایک اور تصویر شیئر کرتے ہوئے اس کے ساتھ لکھا کہ ’کیا آپ کو پتا ہے میں کون ہوں؟‘ ساتھ ہی انہوں نے پاکستان سے گرفتار ہونے والے انڈین پائلٹ ابھی نندن کا مشہور فقرہ لکھا ’آئی ایم ناٹ سپوزڈ ٹو ٹیل یُو‘ یعنی میں آپ کو بتانے کا پابند نہیں ہوں۔‘
امان نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ’ہم لوگ فوراً نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں، یہ جانے بغیر کہ اس گفتگو کا پسِ منظر کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ریسٹورنٹ کی جانب سے مشہوری کی کسی مہم کا حصہ ہے۔‘

واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: