پابندیوں کے خلاف لڑنے کا نیا طریقہ

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کسی خاص ویڈیو کے وائرل ہوجانے کی وجہ سے لوگوں نے اس انداز پر اپنی بھی ویڈیو بنائی ہو۔
سوشل میڈیا پر پابندیوں کے باوجود مختلف پلیٹ فارمز پر صارفین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کچھ افراد نامساعد حالات سے لڑتے ہوئے بھی دنیا کے مختلف حصوں میں ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ ان کا یہ طریقہ خاصا تخلیقی بھی ہے۔
گذشتہ دنوں ایک لڑکی نے ’پلکوں کو کیسے سنوارا جائے‘ کے نام سے ایک ویڈیو بنائی لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اس نے چین میں مسلماںوں پر ہونے والے مبینہ مظالم پر بات کرنا شروع کر دی اور یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہی۔
اب ان کی دیکھا دیکھی ایک اور نوجوان نے ایک ویڈیو بنائی ہے۔ کیپشن اور پہلی نظر پڑنے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ لڑکا شاید بالوں کو سیدھا کرنے کے ٹوٹکے بتا رہا ہے لیکن ایک دم وہ اپنا موضوع بدل کر چین پر بات کرنے لگتا ہے۔
ان دونوں ویڈیوز کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد چین میں مسلمانوں  کے خلاف مبینہ ظلم پر بھی بات ہو رہی ہے۔
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کسی خاص ویڈیو کے وائرل ہو جانے کی وجہ سے لوگوں نے اس انداز کو پسند کیا ہو اور پھر اپنی بھی ویڈیو بنائی ہو۔
کچھ عرصہ قبل ایسا ہی ہوا تھا جب پاکستان میں معروف اداکارہ مہوش حیات نے ’بوتل کیپ چیلنج‘ پر ویڈیو بنائی اور دیکھتے دیکھتے ملک میں بہت سے لوگوں نے پھر اس ٹرینڈ کی نقل کی اور اپنی اپنی ویڈیوز بنائیں۔
 
دیکھنے میں آیا ہے کہ ٹک ٹاک یا دیگر سوشل میڈیا کی ویب سائٹس سے مظالم کے خلاف آگہی دینے والا مواد ہٹا دیا جاتا ہے۔ یا پھر لوگ ایسا کرنے والوں کو بلاک کر دیتے ہیں۔
البتہ اس نئے انداز کے باعث کافی حد تک ان کا پیغام آگے پہنچ جاتا ہے اور جب تک مواد ہٹنے کی نوبت آتی ہے تب تک بات کہیں سے کہیں پہنچ چکی ہوتی ہے۔

شیئر: