Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’منفرد فن تعمیر‘ جزیرہ فرسان میں ایک صدی پرانی مسجد النجدی کی تعمیر نو

مسجد النجدی کی تعمیر تقریبا ایک صدی قبل 1347 سالِ ہجری میں کی گئی (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کی قدیم و تاریخی مساجد کی تعیرِ نو و بحالی کے حوالے سے جاری شہزادہ محمد بن سلمان منصوبے کے دوسرے مرحلے میں جزیرہ فرسان میں ایک صدی پرانی مسجد کی تعمیر نو کا کام مکمل کرلیا گیا۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق جازان ریجن کے زیر انتظام جزیرہ فرسان میں مسجد النجدی کی تعمیر تقریبا ایک صدی قبل 1347 سالِ ہجری میں کی گئی تھی۔
مسجد کی تعمیر سچے موتیوں کے تاجر شیخ ابراہیم بن علی التمیمی نے کی جو ’النجدی‘ کے لقب سے مشہور تھے۔ م
 شیخ ابراہیم کی جائے پیدائش حوطہ بنی تیمیم تھی وہاں انہوں نے ابتدائی عمر گزاری بعد ازاں وہ جزیرہ فرسان منتقل ہو گئے۔ شیخ ابراہیم کے لقب نجدی کے حوالے سے مسجد کو اسی نام سے موسوم کیا گیا۔
مسجد اپنے تاریخی وقدیم حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے جبکہ اس کا غیرمعمولی فن تعمیر بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے، محراب کی سجاوٹ میں الحمرا محل کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔
شیخ ابراہم التمیمی تجارت کی غرض سے انڈیا جایا کرتے تھے جہاں سے وہ اپنے ہمراہ بعض منفرد انداز تعمیر اور نقوش و تعمیرات میں استعمال ہونے والا رنگ بھی لائے جبکہ تعمیر کے لیے وہ کاریگر یمن سے لائے۔

مسجد کے ساتھ  انہوں نے اپنے لیے گھر بھی تعمیر کرایا جہاں وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ مقیم ہوئے اور مسجد کے انتظامات بھی دیکھتے رہے۔ شیخ ابراہیم کے بعد مسجد کے انتظامات انکے بیٹے یحیی ابراہیم النجدی نے سنبھالے۔
مسجد النجدی اپنے غیرمعمولی تعمیراتی انداز کی وجہ سے منفرد ہے، مستطیل شکل کی مسجد کی لمبائی 29 میٹر اور چوڑائی 19.4 میٹر ہے۔ مسجد کے مرکزی ہال کے علاوہ صحن اور ایک مینار ہے۔
مغربی اور مشرقی سمتوں کے صحن میں دروازے ہیں جبکہ مسجد کی مرکزی دیوار کی اونچائی دو میٹر کے قریب ہے جس کی نچلی سمت کی تعمیر کے لیے پتھر استعمال کیے گئے جن کی چوڑائی 65 سینٹی میٹر اور اونچائی 120 سینٹی میٹر تھی۔

دیوار کے لیے جو اینٹیں استعمال کی گئی تھیں ان کی اونچائی تقریبا 80 سینٹی میٹر تھی جبکہ دیوار پر پلاستر پر سفید رنگ کیا گیا تھا۔
مسجد کے مشرقی صحن کی جانب وضو خانے بنائے گئے تھے جبکہ مستطیل طرز کی محراب کو  خوبصورت نقش و نگار سے مزین کیا گیا تھا۔
مرکزی ہال (نماز کا مقام) کی چھت پر بارہ گنبد بنائے گئے تھے جبکہ دیواروں میں تازہ ہوا کی آمد ورفت کے نظام کے تحت کھڑکیوں کو نقوش سے سجایا گیا تھا۔
مرکزی ہال کی تعمیر کے لیے 6 ستون تھے جن پر چھت اور گنبدوں کو نصب کیا گیا۔ گنبدوں کو بھی اندر کی جانب نقش و نگار سے مزین کیا گیا تھا۔
قبلہ رخ پر چار مرکزی کھڑکیاں تھیں جن کی چھت والے حصے کو قوس کی شکل دی گئی تھی۔ ممبر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے انڈیا سے لایا گیا تھا۔

 

شیئر: