وادی العقیق: مدینہ میں نبوی ورثے اور قدرتی حسن کا حسین امتزاج
وجۂ شہرت وادی کا میٹھا پانی اور حدِ نگاہ تک پھیلا ہوا سبزہ ہے (فوٹو: ایس پی اے)
وادی العقیق جسے ’مقدس وادی‘ بھی کہا جاتا ہے، مدینہ شہر کا ایک جغرافیائی اور تاریخی حیثیت رکھنے والا امتیازی مقام ہے جسے اپنی مذہبی اہمیت اور پیغمبرِ اسلام سے تعلق کی بنا پر انتہائی عقیدت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
میقاتِ ذوالحلیفہ سے جبلِ عیر تک پھیلی ہوئی وادیِ العقیق کی وجۂ شہرت تاریخی طور پر اس وادی کا میٹھا پانی اور حدِ نگاہ تک پھیلا ہوا سبزہ تھا۔
اس وادی کے سر سبز و شاداب ہونے کی وجہ سے ہی پیغمبرِ اسلام کے صحابہ اور(ان کے بعد آنے والے) تابعین نے اس وادی کے پانیوں کے کنارے محلات بھی بنوائے جن میں عروہ ابنِ الزبیر کا محل بھی شامل ہے جو وہاں آج بھی موجود ہے۔
آج کل مدینہ ریجن کی تعمیر و ترقی کے لیے قائم اتھارٹی، پندرہ کلومیٹر تک پھیلے ہوئے ایک منصوبے کی نگرانی کر رہی ہے۔

اس کا مقصد شہری ترقی اور قدرتی مقامات کے تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے میقاتِ ذوالحلیفہ سے الجرف ایریا تک نہ صرف مناظر کو مزید خوبصورت بنانا ہے بلکہ اس پندرہ کلومیٹر کی پٹی کا تحفظ کرتے ہوئے بحالی کے عمل کو مکمل کرنا ہے۔
اس تعمیر و بحالی کا ایک کلیدی پہلو، پندرہ سو میٹر طویل ہائکنگ ٹریل ہے جسے ایسے تعمیر کیا گیا ہے کہ وہ ماحول کے ساتھ یک پوری طرح ہم آہنگ ہو جائے۔

اس مقام پر لوگوں کے لیے بیٹھنے کی جگہیں، چلنے پھرنے کے لیے سایہ دار راستے اور ساتھ ساتھ قدیم کھنڈرات کے نظارے اور پرانی عبارتیں بھی نگاہ میں آئیں گی جو اسے قدرتی اور مذہبی مقاصد کے لیے اعلی معیار کے ایک سیاحتی مقام میں بدل دیں گی۔
