نئے پاکستان میں پرانا پنجاب!

ایسا نہ ہو کہ بات کھلاڑیوں کی تبدیلی سے کپتان کی تبدیلی تک جا پہنچے (فوٹو: سوشل میڈیا)
لیجنڈری کرکٹر، سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کی سلیکشن اور ان کے عروج کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔ کپتان جاوید میانداد نے سب سے لڑ کر جب وسیم اکرم کو  قومی سکواڈ کے لیے چنا تو اس وقت لوگوں کو میانداد کے اس فیصلے کی بالکل سمجھ نہیں آئی کیونکہ نوجوان وسیم اکرم کی ڈومیسٹک کرکٹ میں کوئی قابل ذکر پر فارمنس تھی ہی نہیں۔ ظاہر ہے تجربہ کار کھلاڑیوں کی دستیابی کے باوجود قومی ٹیم میں وسیم اکرم کی پر اسرار سلیکشن پر سب کی بھنوئیں تن گئیں۔
لیکن اپنے دوسرے ہی ٹیسٹ میچ میں دس وکٹیں لے کر وسیم اکرم نے اپنے ناقدین کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔ ان کے ٹیلنٹ اور تکنیک کو دیکھ کر سر ویو رچرڈز تو یہاں تک کہہ اٹھے کہ شکر ہے وسیم اکرم کرکٹ کے افق پر اس وقت وارد ہوئے جب وہ خود ریٹائرمنٹ لینے کے لیے پر تول رہے ہیں۔
وزیراعظم  کا دورہ لاہور ہو اور وسیم اکرم کا ذکر خیر نہ ہو، یہ ہو نہیں سکتا۔

 

وزیراعظم نے سنیچر کو، پنجاب کی ٹیم کے کپتان، اپنے وسیم اکرم پلس پلس، عثمان بزدار کی تعریف کرتے ہوئے دوبارہ ان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔  لیکن تعجب ہے کہ اس بھروسے کے باوجود اسی وسیم اکرم کی پوری کی پوری ٹیم کو تبدیل بھی کر دیا۔ یہ بھلا کیسا اعتماد ہے کہ بزدار صاحب اس نئی اکھاڑپچھاڑ میں اپنے رشتہ داروں کی تقرریاں تو دور اپنا چیف سیکرٹری تک نہ بچا سکے۔ پنجاب کی بیوروکریسی میں یہ تمام تقرر و تبادلے وزیراعظم کی  براہ راست ہدایات پر کیے گئے جن کی منظوری عثمان بزدار کو مجبوراً دینا پڑی۔
عمران خان اور افسر شاہی کا آپس میں  تعلق نیا نیا ہے۔ وزیراعظم بننے سے پہلے خان صاحب کا کوئی  ذاتی انتظامی تجربہ نہیں تھا۔ سنہ 2013 کے بعد خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تو تب بھی خان صاحب کا بالواستہ کنٹرول سیاسی معاملات تک ہی محدود رہا، انہوں نے وہاں کے انتظامی معاملات چلانے میں کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہ کی۔ اب جبکہ خان صاحب نہ صرف وفاقی بلکہ پنجاب کی  صوبائی حکومت بھی چلا رہے ہیں تو بیورو کریسی کے ساتھ ان کا با ضابطہ پالا پہلی مرتبہ پڑا ہے۔
افسر شاہی وہ منہ زور گھوڑا ہے جو ناواقف سوار کو پٹخنے میں مہارت رکھتا ہے۔ اس پر وہی سواری کر سکتا ہے جو ماہر بھی ہو۔
پچھلے کئی وزرائے اعظم کے برعکس عمران خان بیورو کریسی کے ساتھ سب سے زیادہ  مشاورتی اجلاس کرچکے ہیں اور اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ ساٹھ کی دہائی کی طرح  بیوروکریسی ڈیلیور بھی کرسکتی ہے۔ میٹنگز میں خان صاحب وزرا کی سرزںش میں تو مشہور ہیں لیکن  بیورو کریٹس کی حوصلہ افزائی کرتے پائے جاتے ہیں۔

وسیم اکرم اور عثمان بزدار میں صرف ایک ہی بات مشترک ہے اور وہ یہ کہ دونوں کے انتخاب پر سوال اٹھے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

اس کے باوجود فی الحال وزیراعظم افسر شاہی کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔ وہ شاید اس لیے کیونکہ کھلاڑی اسی کپتان کی عزت کرتے ہیں جو صرف حوصلہ افزائی ہی نہ کرے بلکہ خود بھی کھیل میں مہارت رکھتا ہو۔
اور یہ بات بھلا خان صاحب سے زیادہ بہتر کون سمجھتا ہوگا۔
پنجاب کو پچھلے ایک سال میں جس طرح سے چلایا گیا ہے اس کے بارے میں تو تحریک انصاف کے اندر سے ہی تشویش کی لہریں اٹھ رہی ہیں۔ ممکن ہے کہ پارٹی کے کچھ لوگ خود وزیر اعلیٰ بننے کے چکرمیں چاہتے ہوں کہ عثمان بزدار پر نااہل ہونے کا ٹھپہ لگا رہے لیکن اپوزیشن تو کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر بارہا اس بات کا اعتراف کر چکی ہے کہ وہ وزیراعلیٰ بزدار سے بہت خوش ہے۔ اور تو اور، اب توسوشل میڈیا پر خان صاحب کے اس انتخاب کا دفاع کرنے والے کھلاڑی بھی دور دور تک نظر نہیں آتے یا کم از کم ایسا میرے مشاہدے میں نہیں ہے۔
شہباز شریف کی سیاست کے بارے میں دو رائے  ہو سکتی ہیں مگر ان کی انتظامی چھاپ پنجاب میں ابھی تک قائم ہے۔
تازہ ترین خبر یہ ہے کہ نئے فارمولے کے مطابق اب ’نیا پاکستان‘، پنجاب جا کر ’پرانا پنجاب‘ بننے کی ہی تگ و دو کر رہا ہے۔
اب وفاقی حکومت، پنجاب میں شہباز حکومت کے ہوم سیکریٹری کو چیف سیکریٹری تعینات کر کے، شہباز شریف کی بیورو کریسی کو ہی استعمال کر کے پنجاب کو اسی ماڈل پر چلا نا چاہتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ شہباز شریف ماڈل موجودہ حالات میں کامیاب ہوگا؟ خدشہ ہے کہ کہیں یہ ماڈل عثمان بزدار کے ہاتھوں میں اپنی رہی سہی قیمت نہ کھو دے۔

شہباز شریف کی سیاست کے بارے میں دو رائے  ہو سکتی ہیں مگر ان کی انتظامی چھاپ پنجاب میں ابھی تک قائم ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

اگر وزیر اعلیٰ کو پس پردہ رکھ کر گورننس بیوروکریسی سے چلانی ہے تو پھر وزیراعلیٰ کا فائدہ غالباً عمران خان ہی بہتر جانتے ہیں۔ وہ وزیراعلیٰ جس کو اپنا دفتر چلانے کے لیے افسر اس کی مرضی کے نہ دیے جائیں۔
وسیم اکرم اور عثمان بزدار میں صرف ایک ہی بات مشترک ہے اور وہ یہ کہ دونوں کے انتخاب پر سوال اٹھے۔
وسیم اکرم پلس پلس کی کامیابی کی امید میں ڈیڑھ سال بیت گیا ہے اور دس وکٹوں والی کارکردگی کی صورت دور دور تک نظر نہیں آ رہی۔ کہنے والے تو منصور اختر کی بھی مثال دے رہے ہیں جو چانس پرچانس دیے جانے کے بعد بھی نا کام ہی رہے۔
کپتان کی ٹیم شروع میں ہی  متعدد بار فالو آن کا شکار ہو چکی ہے۔ تماشائی ایسے حالات میں سلیکٹرزکی طرف دیکھ رہے ہیں۔
ایسا نہ ہو کہ بات کھلاڑیوں کی تبدیلی سے کپتان کی تبدیلی تک جا پہنچے۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں/بلاگز کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں
 

شیئر: