مفتی عبدالقوی: ڈیار سے ڈار بنا ڈالا

ویڈیو کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے مفتی عبدالقوی کو تنقید کا نشانہ بنایا (فوٹو: ٹوئٹر)
ماڈل قندیل بلوچ کی وجہ سے مشہور ہونے والے مذہبی سکالر مفتی قوی نے گذشتہ روز ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
صحافی زاہد گشکوری نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر مفتی قوی کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’اس ویڈیو میں مولوی صاحب یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ بزنس بے ایریا میں موجود چار ٹاور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی ملکیت ہیں جبکہ لینڈ اتھارٹی نے مجھے بتایا ہے کہ یہ ویڈیو میں دکھائے جانے والے ٹاورز دبئی اسلامک بینک کے ایک ایم یونٹ سے منسلک ہیں۔‘
مفتی قوی کے ویڈیو پیغام میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ دبئی میں بزنس بے کے علاقے میں موجود ہیں جس کے بارے میں وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ دبئی کا انتہائی مہنگا علاقہ ہے اور یہ چار عمارتیں جو آپ اکھٹی دیکھ رہے ہیں یہ کس شخص کی ہیں؟
ویڈیو میں وہ کہتے ہیں کہ ’اسلام کے نام پر جو ملک بنا ہے اس مظلوم  ملک کو لوٹنے واےا ایک بد نصیب سابق وزیر خزانہ محترم اسحاق ڈار صاحب ہیں۔ میں محترم اس لیے کہہ رہا ہوں کہ میرے اندر ابھی ضمیر زندہ ہے۔‘
سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو مزید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اس بدنصیب شخص نے ملک کو لوٹنے کے بعد یہاں یہ عمارتیں خریدیں جن سے آنے والے کرایہ یہ کھا رہے ہیں۔‘

خیال رہے کہ سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار تمام الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

ان کی یہ ویڈیو سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ خیال رہے کہ سابق وزیرِخزانہ اسحاق ڈار تمام الزامات سے جن میں سے اکثر حکومتی اہلکاروں کی جانب سے عائد کیے جاتے ہیں، انکار کرتے ہیں اور انھیں انتقامی کارروائی قرار دیتے ہیں۔
ٹوئٹر صارف عمر راجپوت کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ تعلیم کی کمی ہے۔ اگر ان کی دنیاوی تعلیم مکمل ہوتی تو وہ دیار کو ڈار نہ پڑھتے۔
یہ ویڈیو وائرل ہوتے ہی سابق وزیر خزانہ کے بھائی علی ڈار نے ان کی ویڈیو میں کیے جانے والے دعوے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ جناب جھوٹ بول رہے ہیں۔ ان عمارتوں کو اسحاق ڈار یا مجھ سے کو ئی تعلق نہیں بلکہ ڈیار دبئی کی ایک مشہور کمپنی ہے جس کو موصوف شاید ’ڈار‘ پڑھ رہے ہیں۔‘
ٹوئٹر صارف علیشبہ کا کہنا تھا کہ ”یہ مولوی (صاحب) میرے لیے عامر لیاقت پارٹ ٹو ہیں۔‘
ٹوئٹر صارف احسن نے مزید وضاحت دیتے ہوئے دبئی کی ڈیار نامی کمپنی کی ویب سائٹ کا سکرین شاٹ شیئر کیا جس میں ان عمارتوں کے بورڈ آف ڈائیکٹرز کی تفصیلات موجود تھیں۔

 

شیئر: