Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا آپ اپنی زندگی میں کچھ نیا اضافہ کرنا چاہتے ہیں؟ عامر خاکوانی کا کالم

مصروفیت کے باوجود بعض لوگوں کتابیں پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں (فائل فوٹو: امپائر میگزین)
بعض افراد سے چند منٹ کی ملاقات بھی اہم اور یادگار رہتی ہے۔ آدمی برسوں بلکہ کبھی تو زندگی بھر اسے نہیں بھلا پاتا۔ ایسی ہی ایک ملاقات لاہور میں ایک دوست کے گھر ان کے ایک عزیز سے ہوئی۔ میں دوست سے ملنے گیا، وہاں ڈرائنگ روم میں ایک عمررسیدہ صاحب بیٹھے تھے۔ اعلیٰ تراش کے نفیس تھری پیس سوٹ میں ملبوس، خوش رنگ ٹائی، آنکھوں پر نہایت خوبصورت چشمہ۔ بڑے مزے سے وہ پائپ پی رہے تھے، جس کے تمباکو کی مہک کمرے میں پھیلی تھی۔ خاصی بارعب شخصیت تھی۔ میں نے سلام کیا تو نرمی سے مسکرا کر دیکھا اور اٹھ کر ملے۔
دوست نے بتایا کہ یہ میرے انکل ہیں، یورپ میں مقیم ہیں، آج کل پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ پتہ چلا کہ وہ ہائی لیول ٹیک پروفیشنل ہیں، کسی بڑی عالمی کمپنی میں بہت اچھی ملازمت کے حامل۔ سیلانی مزاج ہیں، گھومتے پھرتے رہتے، آدھی سے زیادہ دنیا دیکھ رکھی تھی۔ یورپ، امریکہ، آسٹریلیا اور مشرق وسطیٰ کے علاوہ کئی افریقی ممالک بھی دیکھ رکھے تھے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ وہ فرنچ بھی جانتے تھے، انہوں نے افریقہ کے ایک دو فرنچ بولنے والے ممالک کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ وہاں قدرتی وسائل بہت ہیں، ترقی بھی ہو رہی ہے، پاکستانیوں کو اس جانب توجہ دینی چاہیے، یہ افریقہ میں صرف کینیا، جنوبی افریقہ کا رخ ہی کرتے ہیں۔
گپ شپ ہوتی رہی۔ پھر جیسا کہ ہم صحافیوں کا طریقہ ہے، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اتنے لمبے عرصے سے باہر رہ رہے ہیں، دنیا گھوم رکھی ہے۔ آپ اپنے تجربات کی روشنی میں ہمارے نوجوانوں کو کیا خاص مشورہ دینا چاہیں گے؟ چند لمحوں تک وہ سوچتے رہے، پھر بولے کہ ’پاکستانیوں کو تو بہت سے مشوروں کی ضرورت ہے۔ باہر کے معاشروں سے کئی باتیں سیکھنے والی ہیں۔ ورک کلچر سے لے کر سوِک سینس تک کتنی باتیں ہیں، جن کا ہمارے ہاں بالکل خیال نہیں رکھا جاتا۔ ایک بات پر میں البتہ ضرور زور دوں گا کہ ہم پاکستانی نئے ذائقے ڈویلپ نہیں کرتے۔ برسوں سے، عشروں سے چلتے آتے طور طریقوں کو زندگی بھر جاری رکھتے ہیں۔ کھانے پینے، اوڑھنے، سوچنے، دیکھنے، سننے کے حوالے سے کوئی نیا تجربہ نہیں کرنا چاہتے، کسی نئی چیز، نئی بات کو ٹرائی ہی نہیں کرتے۔ ہم نے تو اپنے کھانوں کے طریقے بھی سو سالوں سے ایک ہی رکھے ہوئے ہیں۔ ایک ہی طرح کے ترتراتے گھی میں بنے پراٹھے اور لبالب گھی میں بنا قورمہ وغیرہ۔‘
نئے ذائقے ڈویلپ کرنے والی بات پر ہم نے ان سے مزید وضاحت کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے پھر چند منٹ تک اس کی عمدہ تشریح کی۔ اب وہ سب باتیں لفظ بہ لفظ تو یاد نہیں مگر ان کا مفہوم اور نچوڑ میں بیان کر دیتا ہوں۔
وہ صاحب کہنے لگے کہ ’اللہ نے ہمیں سونگھنے، چکھنے، دیکھنے اور سننے کی جو صلاحیتیں دی ہیں، انہیں مسلسل بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ ابتدائی برسوں میں ایک بچہ ہر چیز کو اپنے ہاتھ سے چھوتا اور منہ میں ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اسے چکھ کر اس کا اندازہ کر سکے۔ اس وقت اس کی چھونے اور چکھنے کی حسیات زیادہ تیز ہوتی ہیں، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے سننے، دیکھنے اور پھر سوچنے کی صلاحیت بھی بہتر کرتا جاتا ہے، یوں اس کے پاس ہتھیار یا ٹولز بڑھ جاتے ہیں۔‘

پاکستان میں روایتی کھانے شوق سے کھائے جاتے ہیں (فائل فوٹو: فری پک)

ان کے مطابق ’مسئلہ تب بنتا ہے کہ ہم بڑے ہو کر اپنے ان حواس خمسہ کو، ان قدرت کے دیے گئے اوزاروں، ہتھیاروں کو تیز کرنا بھول جاتے ہیں۔ جس حد تک صلاحیت یا استعداد پیدا ہو چکی ہوتی ہے، اسے بڑھانے اور بہتر کرنے پر توجہ نہیں دیتے۔ ضروری نہیں کہ ہر چیز کا تجربہ کیا جائے، بہت سی مضر اور نقصان دہ چیزیں اور عادتیں ہیں، ان سے بچنا چاہیے، مگر اپنے ذائقوں کو ہر حال میں بہتر کیا جائے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ ذائقے صرف زبان کے نہیں، بلکہ کان، آنکھ اور دماغ کو بھی نئے ذائقوں کی ضرورت رہتی ہے۔ اپنی سماعتوں کو دنیا کی خوبصورت ترین آوازوں، سروں اور زبانوں سے لطف اندوز ہونے دیں۔ روزانہ کی روٹین سے ہٹ کر اپنی آنکھوں کو بھی نئے مناظر دیکھنے کا موقع دیں۔ حسین فطری مقامات، سرسراتی ہوائیں تلے کھلے دلکش پھول، سرسبز گراؤنڈز میں کچھ وقت گزاریں، اپنے اردگرد موجود چیزوں، پرندوں، پودوں کو دیکھیں۔ سب سے بڑھ کر فلم اور ڈرامہ کے میڈیم سے فائدہ اٹھائیں۔ شاہکار فلمیں دیکھیں۔ ایک بڑی فلم انسان کو اندر سے چند انچ بلند کر دیتی ہے، اس کے سوچنے، غور کرنے اور دنیا کو دیکھنے کا انداز ہی بدل جاتا ہے۔ اسی طرح معیاری ڈرامے دیکھیں، دنیا کے اعلیٰ ترین ڈراموں کو مختلف زبانوں میں سٹیج پر پیش کیا گیا ہے، ان کی ویڈیو فلمز نیٹ پر اور دکانوں پر دستیاب ہیں۔ انہیں دیکھیں، سیکھیں، شیکسپیئر کے کسی بھی ڈرامے پر فلمائے ہوئے سٹیج ڈرامے کو دیکھ لیں، آدمی کو پتہ چل جاتا ہے کہ سٹیج اداکاری ہوتی کیا ہے اور دنیا بھر کے ایکٹر سٹیج کو ٹی وی اور فلم سے زیادہ مشکل میڈیم کیوں قرار دیتے ہیں؟
اس بات کو کئی برس گزر گئے، مکالمہ خاصا طویل اور دماغ کی بتی جلانے والا تھا۔ مجھے ان صاحب کی باتوں نے خاصا متاثر کیا۔ بعد میں اس حوالے سے بہت کچھ پڑھا، سنا اور خود بھی سوچتے رہے۔ اسے درست ہی پایا۔

’اپنے اندر کی شخصیت کو پالش کرنے، اسے چمکانے اور بلند کرنے کی طرف ہمارا دھیان نہیں جاتا۔‘ (فائل فوٹو: فری پک)

دراصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگ اپنی شخصیت پر محنت کرتے ہیں، ڈریسنگ، سٹائلنگ، دیدہ زیب ملبوسات، جوتے، گھڑیاں، موبائل غرض اپنی حیثیت اور استعداد کے مطابق کوئی کمی نہیں اٹھا رکھتے۔ اپنے اندر کی شخصیت کو پالش کرنے، اسے چمکانے اور بلند کرنے کی طرف ہمارا دھیان نہیں جاتا۔ شاید روزمرہ کی تیز رفتار زندگی ہمیں یہ موقع ہی نہیں دیتی کہ کہیں چند لمحوں کے لیے رک کر یہ سوچیں کہ ہم دن رات اپنے بیوی، بچوں کے لیے کما رہے ہیں، محنت کر کے مالی آسودگی کا سبب پیدا کر رہے ہیں، مگر اس سب میں ہماری اپنی ذات کہاں گئی؟ اس کے لیے ہم نے کتنا وقت نکالا، کس قدر کوشش کی؟ جواب اکثر وبیشتر نفی میں ملتا ہے۔۔۔ مگر چونکہ ہم یہ سوال اپنے آپ سے پوچھتے ہی نہیں توامتحان میں اس ممکنہ ناکامی کا ہمیں علم ہی نہیں ہو پاتا۔
مجھے اکثر نوجوانوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے۔ فیس بک کی وساطت سے بھی بہت سوں سے رابطہ رہتا ہے، بات چیت ہوتی رہتی ہے، گاہے ملاقات بھی۔ اکثر نوجوان یا تیس پینتیس سال کے لوگ بھی ایک شکایت کرتے ہیں کہ ان کی زندگیوں میں جمود آ چکا ہے۔ سب کچھ ٹھہر سا گیا ہے۔ بعض لوگ اس بات کو تو محسوس کرتے ہیں کہ وہ زندگی کے سفر میں ایک جگہ پر رک گئے ہیں۔ آگے بڑھنے کی خواہش بھی پیدا ہوتی ہے، مگر سمجھ نہیں آتی کہ کیا کریں۔
میں ایسے لوگوں کو ہمیشہ ایک ہی بات کرتا ہوں کہ زندگی میں اوپن رہیں کچھ نیا سیکھیں، نیا کرنے کی خواہش پیدا کریں۔ اپنی روٹین توڑیں۔ میرا یہ کہنا ہوتا ہے کہ جس طرح ہم نئے کھانوں کا ذائقہ ڈیویلپ کرتے ہیں۔ چائنیز پہلی بار کھانے پڑیں تو عجیب لگتے ہیں۔ بہت سوں کو پہلی بار کافی پینے پر زیادہ لطف نہیں آتا۔ دو چار پی لینے کے بعد وہی لوگ مزے لینے کے لیے دوستوں کے ساتھ کافی پینے جایا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہمیں بہت سے نئے ذائقے ڈیویلپ کرنے پڑتے ہیں۔ زبان کے ذائقوں کی طرح اپنے سماعتوں کے ذائقے بھی۔ انٹرنیٹ پر دنیا جہاں کے بہترین گیت اور نغمے موجود ہیں، بیتھوون کی سمفنیوں سے ام الکلثوم کے سدا بہار گیتوں تک ایک انوکھی دنیا موجود ہے، جس کے دروازے ہر ایک کے لیے وا ہیں، کوئی جانے والا تو بنے۔
اب تو پوڈ کاسٹ کی ایسی ان دیکھی دنیائیں وجود میں آ چکی ہیں کہ اگر آپ اتفاق سے اس دنیا میں داخل ہو جائیں تو ہکا بکا رہ جائیں۔ حیرت سے سوچنا پڑتا ہے کہ اچھا، یہ بھی ہو رہا ہے انٹرنیٹ کے اس سمندر میں۔ ہمارے پڑوسی ملک سے لے کر مغربی دنیا تک اتنے عمدہ، فکر انگیز اور شاندار پوڈ کاسٹ ہو رہے ہیں۔ ایک اچھی خاصی طویل فہرست ان پوڈ کاسٹ والوں کی بنائی جا سکتی ہے۔ انہیں سیکھ کر آپ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں ،اپنی زندگیوں میں غیرمعمولی انقلابی تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔
میرے نزدیک ادب کا بھی یہی معاملہ ہے خاص کر فکشن۔ اگر آپ انگریزی پڑھ اور لطف اٹھا سکتے ہیں تو پھر تو کوئی حد ہی نہیں لیکن اردو میں بھی ایسے شاندار ناول ترجمہ ہو چکے ہیں کہ آج سے انہیں پڑھنا شروع کریں تو کئی ماہ مسلسل لگ جائیں گے پڑھنے میں۔
ان بڑے ناولوں کو پڑھنے اور ان میں سے بعض پر بنی شاندار فلمیں دیکھنا کسی بہت مزے کی ضیافت سے کم نہیں۔ آپ کو بسا اوقات ایک ہی دن میں ایک برس کے فکری ارتقا کا احساس ہو گا۔ سنجیدہ فکری موضوعات پر بھی لاجواب کتابیں موجود ہیں، اردو میں بے شمار تراجم بھی ہو چکے۔ انہیں پڑھنے،ان پر غور کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ سوچنے کا انداز ہی بدل جائے گا۔
فکشن کے مطالعے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آدمی زندگی کی مختلف پرتوں، سطحوں اور اس کے ہزار ہا شیڈز کو دیکھنے، سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ صرف ترک ناول نگاروں کو پڑھ کر دیکھ لیں۔ نوبیل انعام یافتہ ادیب اورحان پاموک کے ’مائی نیم از ریڈ‘، ’سنو‘ اور ’میوزم آف انوسینس‘ پڑھنے سے قاری حیران رہ جاتا ہے کہ اچھا، اس انداز سے بھی ناول لکھا جا سکتا ہے۔ فرخ سہیل گوئندی صاحب نے اپنے ادارے جمہوری پبلی کیشن سے نہ صرف اورحان پاموک بلکہ بہت سے نامور ترک ادبیوں کی تخلیقات اردو میں ترجمہ کر کے شائع کی ہیں۔

ناول نگار اورحان پاموک ترکیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ (فوٹو: بک بٹرفلائی)

لاطینی امریکہ کے دیو گارشیا مارکیز کا اب بیشتر کام اردو میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ بک کارنر جہلم والوں نے ورلڈ کلاسک میں بے تہاشا تراجم شائع کیے ہیں۔ دوستئوفسکی کا 90 فیصد کام ترجمہ ہو گیا ہے۔ بورخیس جیسے مشکل اور منفرد ادیب کو اردو میں منتقل کیا جا چکا ہے۔
حوزے سارا ماگو کو پاکستانی قارئین زیادہ تر ان کے مشہور ناول ’بلائنڈنیس‘ سے پہچانتے ہیں، جس پر فلم بھی بن چکی ہے۔ اردو کے منفرد شاعر احمد مشتاق نے اس کا ترجمہ کیا ہے۔ ساراماگو کا مزید خاصا کام اب اردو میں ترجمہ ہو چکا ہے، ’التوائے مرگ‘ جیسا بڑا ناول تو اکادمی ادبیات والوں نے شائع کیا ہے۔ تھوڑی سی کوشش کر کے شاہکار ناولوں کی طویل فہرست بنائی جا سکتی ہے۔ شاندار شاہکار فلموں کی کئی طویل فہرستیں انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ ہر مزاج، ہر ذوق کے آدمی کے لیے بے شمار، بے پناہ مواد موجود ہے۔ اسلامی کتب جتنی بڑی تعداد میں اب اردو میں دستیاب ہیں، پہلے اس کا تصور تک نہیں تھا۔ دنیا کے بہترین قاری صاحب کی سحرانگیز لحن میں تلاوت، نعتیں وغیرہ موجود ہیں۔ کسی دن گھنٹہ دو گھنٹے نیٹ پر بیٹھ کر مواد کھوجیں اور پھر اپنی زندگی میں بتدریج رنگ بھرے جائیں۔ نئے، دل آویز اور حسین رنگ۔

 

شیئر: