’موت انصاف سے پہلے پہنچی‘

محمد خان محسود کو کافی عرصے سے کینسر کا مرض لاحق تھا (ٖفوٹو: اے ایف پی)
کراچی میں مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے میں قتل ہونے والے نقیب اللہ محسود کے والد انتقال کر گئے ہیں۔
محمد خان محسود کافی عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور راولپنڈی کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) میں زیر علاج تھے۔
ان کی میت کو آبائی علاقے وزیرستان منتقل کر دیا گیا ہے اور نماز جنازہ منگل کی صبح دس بجے ادا کی جائے گی۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ جنرل آصف غفور کی جانب سے کی گئی ایک ٹویٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نقیب اللہ محسود کے والد کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔  
آرمی چیف نے کہا ہے کہ ’ان (محمد خان) کے ساتھ انصاف کی فراہمی کا جو وعدہ کیا گیا تھا اس کی تکمیل کی کوشش جاری رہے گی۔‘
خیال رہے کہ محمد خان محسود اس وقت خبروں میں نمایاں ہوئے تھے جب نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد انہوں نے کیس کی پیروی شروع کی، مختلف نیوز چینلز وقتاً فوقتاً ان کے انٹرویوز بھی کرتے رہے۔
 وہ طویل عرصے سے انصاف کے منتظر تھے۔
وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان نقیب اللہ محسود کو جنوری 2017 میں کراچی میں مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیا گیا تھا۔
جنوری 2017 میں ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے پولیس مقابلے میں چار مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جن میں سے ایک  نقیب اللہ محسود بھی تھے۔
 جس کے بعد ان کے خاندان والوں کی جانب سے کہا گیا کہ نقبیب اللہ بے گناہ تھے۔

سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے بعد ایس ایس پی ملیر راؤ انواز روپوش ہو گئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)

نقیب اللہ کراچی کام کاج کے لیے گئے تھے اور ان کا کسی شدت پسند گروہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
سوشل میڈیا پر اس حوالے سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور لوگوں نے نقیب اللہ کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے ان کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا اور سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے کارکنان نے مختلف شہروں میں ان کے قتل کے خلاف مظاہرے کیے۔
اس کے بعد سپریم کورٹ نے واقعے کا ازخود نوٹس لے لیا تھا اور پولیس مقابلہ کرنے والے ایس ایس پی ملیر راؤ انواز روپوش ہو گئے تھے۔ اس دوران انہوں نے اسلام آباد ایئرپورٹ سے دبئی فرار ہونے کی کوشش بھی کی تھی۔

سپریم کورٹ نے نقیب اللہ محسود قتل کیس کا از خود نوٹس لیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

کچھ عرصے بعد وہ خود ہی عدالت میں پیش ہو گئے جہاں سے ان کو گرفتار کیا گیا، تاہم بعد ازاں وہ ضمانت پر رہا کر دیے گئے۔
نقیب اللہ محسود کے وکیل جبران ناصر نے اردو نیوز کے نامہ نگار توصیف رضی ملک کو بتایا کہ محمد خان محسود شکایت کنندہ تھے اور وہی کیس کی پیروی کر رہے تھے اب اگر ان کے بھائی کیس آگے چلانے کے لیے آتے ہیں تو کیس چلتا رہے گا تاہم اگر ایسا نہیں ہوتا تو کیس کا چلنا مشکل ہو جائے گا۔
جبران ناصر کے مطابق ’ سول سوسائٹی کے کہنے پر دوسرے عام کیس تو چل سکتے ہیں تاہم فوجداری کیس کا چلنا مشکل ہوگا۔‘
سوشل میڈیا خصوصاً ٹوئٹر پر ان کے انتقال کے حوالے سے پوسٹس کی جا رہی ہیں اور ایک بار پھر نقیب اللہ کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ 
صحافی اعزاز سید نے ٹوئٹر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ’موت انصاف سے پہلے پہنچ گئی، نقیب اللہ محسود کے والد انصاف کا انتظار کرتے ہوئے راولپنڈی میں وفات پا گئے۔‘
صحافی عنبر رحیم شمسی کے ہینڈل سے انتقال کی خبر شیئر کی گئی اور لکھا گیا کہ ’وہ اپنے بیٹے کے لیے انصاف دیکھنے سے قبل وفات پا گئے‘
آصف عالم نامی ایک صارف نے لکھا کہ ‘نقیب کی آنکھیں بتاتی تھیں کہ وہ ایک دن ضرور مشہور آدمی بنے گا، کراچی پولیس نے ثابت کر دیا، محمد خان والد نقیب محسود شہید بیٹے کے قتل کیس میں انصاف کی راہ تکتے بوڑھا بیمار باپ بھی راہی ملک عدم ہوا، مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے۔۔۔۔ منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے۔‘

تکویم نامی ٹوئٹر صارف نے محمد خان محسود کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ’نقیب اللہ محسود کے والد انتقال کر گئے لیکن بیٹے کے لیے انصاف نہ دیکھ سکے۔‘

صحافی ضرار کھوڑو نے لکھا ’تاریک اور غمگین جذبات ہوا میں ہیں، اللہ کرے نقیب اللہ محسود کے والد مرنے کے بعد انصاف حاصل کر سکیں جو وہ زندگی میں نہیں کر سکے، مگر مجھے شک ہے کہ ایسا کبھی ہو سکے گا۔‘

شیئر: