عمار اور کامل خان کی ضمانتیں منظور

عمار علی جان سمیت 30 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی (فوٹو: ٹوئٹر)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی ضلعی عدالت نے طلبا یکجہتی مارچ میں شرکت کرنے والے استاد عمار علی جان اور ان کے ساتھی کامل خان سمیت عوامی ورکرز پارٹی کے سابق جنرل سیکرٹری فاروق طارق کی عبوری ضمانتیں منظور کر لی ہیں۔
دوسری طرف پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم عالمگیر وزیر جو مبینہ طور پر یونیورسٹی سے غائب ہو گئے تھے، پولیس نے انہیں پیر کو مقامی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا ہے۔ 
پولیس نے ان کے 10 روزہ ریمانڈ کی درخواست کی تھی تاہم مجسٹریٹ نے یہ درخواست نامنظور کرتے ہوئے عالمگیر وزیر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
عالمگیر وزیر کو بھی طلبا مارچ کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا۔ وہ پشتون تحفظ مومنٹ کے رہنما رکن قومی اسمبلی علی وزیر کے بھتیجے ہیں۔
جمعہ 29 نومبر کو لاہور سمیت ملک بھر میں سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام طلبا یونین کی بحالی کے لیے یکجہتی مارچ کیا گیا تھا جس کے بعد پولیس نے مشال خان کے والد اقبال لالہ، عمار علی جان، کامل خان اور فاروق طارق سمیت 30 طلبا رہنماؤں اور مظاہرین پر مقدمہ درج کر لیا تھا۔
بعدازاں عمار علی جان، کامل خان اور فاروق طارق نے سیشن عدالت سے رجوع کرتے ہوئے گرفتاری کے خلاف عبوری ضمانت کی درخواست دی تھی اور موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے خلاف پولیس کے الزامات بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔
عدالت نے ان کی 16 دسمبر تک عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے تھانہ سول لائنز لاہور کے ایس ایچ او کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: