Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گولہ باری اور دھماکے، پاک افغان سرحد کے دونوں اطراف کے رہائشی گھر چھوڑنے پر مجبور

سرحدی علاقوں سے تقریباً 1500 خاندان اپنے گھروں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے ساتھ رہنے والے افراد نے کہا ہے کہ وہ شدید گولہ باری اور دھماکوں کی وجہ سے اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق بدھ کو دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان لڑائی ساتویں دن میں داخل ہو گئی۔
گزشتہ ہفتے بڑے افغان شہروں پر پاکستانی فضائی حملوں کے بعد سے دونوں پڑوسی ملکوں کی افواج کے درمیان کئی دہائیوں کے دوران ہونے والی بدترین سرحدی جھڑپیں جاری ہیں۔
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باعث خطے میں عدم استحکام بھی بڑھ رہا ہے۔
اسلام آباد نے کہا ہے کہ اس کے فضائی حملوں کا مقصد پاکستان پر حملے کرنے والے عسکریت پسندوں کی افغان حمایت کو ختم کرنا ہے۔ طالبان نے عسکریت پسند گروپوں کی مدد کرنے کی تردید کی ہے۔
حالیہ جنگ کے دوران پاکستانی سکیورٹی فورسز نے طالبان حکومت کو براہ راست بھی نشانہ بنایا ہے۔
’گولہ باری افطار کے وقت شروع ہوتی ہے‘
پاکستان کے شمال مغرب میں واقع قصبوں اور دیہاتوں کے رہائشیوں نے بتایا کہ سرحدی فورسز کے درمیان لڑائی شام کے وقت شروع ہوتی ہے جس سے ان کے گھر اطراف کی گولہ باری کی زد میں آ جاتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ فائرنگ اکثر غروب آفتاب کے وقت جب لوگ رمضان کے مقدس مہینے میں اپنا روزہ افطار کر رہے ہوتے ہیں۔
طورخم بارڈر کراسنگ کے قریب واقع قصبے لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والے فرید خان شنواری نے روئٹرز کو بتایا کہ ’دن میں مکمل خاموشی ہوتی ہے، لیکن جس وقت ہم افطار کے لیے بیٹھتے ہیں دونوں طرف سے گولہ باری شروع ہو جاتی ہے۔‘
فرید خان نے بتایا کہ ’ہم روزہ کی افطار کے وقت انتہائی مشکل حالات میں ہوتے ہیں کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ کب کوئی گولہ آپ کے گھر پر آ گرے ۔‘

دونوں ملکوں کے درمیان 2600 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

قصبے اور آس پاس کے دیہات کے رہائشیوں نے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں میں شدید گولہ باری اور کچھ دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کے بعد بہت سے لوگوں کو اپنے گھروں کو چھوڑنا پڑا۔
سرحد کے دوسری طرف افغان شہریوں نے بھی جھڑپوں اور اپنے گھروں کو چھوڑنے کی ایسی ہی کہانیاں سنائی ہیں۔
سینکڑوں افراد کو کھلے میدان میں خیموں میں منتقل ہونا پڑا ہے جہاں زمین انتہائی گندی ہے۔ بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جن کو کہیں بھی پناہ نہیں ملی اور وہ اپنے گھروں سے دور کھلے آسمان کے نیچے ہیں۔
افغان حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں سے تقریباً 1500 خاندان اپنے گھروں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔
2,600 کلومیٹر طویل سرحد کے ساتھ لڑائی ایک ہفتے سے جاری ہے۔ دونوں فریقوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچایا ہے اور لڑائی میں دوسروں کی چوکیوں پر قبضہ کیا ہے۔

 

شیئر: