نو گھنٹے سونے پر ایک لاکھ روپے کا انعام

ممبئی کے ایک ریستوراں کے باہر ایک بوری پیاز کا یوں پڑے ہونا انتہائی تعجب کی بات ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
گذشتہ ہفتے انڈیا کے شہر حیدرآباد میں ہونے والی زیادتی، بابری مسجد معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کے علاوہ کابینہ سے شہریت کے قانون میں ترمیمی بل کی منظوری کی گونج رہی لیکن بعض ایسی خبریں بھی تھیں جو شاید آپ کی نظروں سے نہیں گزریں۔ یہاں ایسی ہی چند خبریں پیش کی جاتی ہیں۔

شیر کا ریکارڈ بک میں نام درج!

انڈیا میں ایک شیر نے گذشتہ پانچ مہینوں میں آج تک کا ریکارڈ شدہ سب سے لمبا سفر طے کیا ہے۔
انڈین فارسٹ سروس کے ایک اعلیٰ افسر پروین کاسوان نے ٹویٹ کرتے ہوئے یہ خبر دی کہ ایک شیر نے ریکارڈ بک میں اپنا نام درج کرایا ہے۔ اس نے گذشتہ پانچ مہینوں میں تقریباً 13 سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔
انہوں نے بتایا کہ 'اس نے یا تو شکار کی تلاش میں یا پھر کسی خاص علاقے کی تلاش یا پھر ایک مادہ کی تلاش میں اتنا لمبا سفر طے کیا جس کے دوران اس شیر نے سڑکیں، کھیت، نہریں وغیرہ عبور کیں اور اس نے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔'
لیکن بعض رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسان سے اس کی صرف ایک بار ملاقات ہوئی اور اس نے ایک شخص کو زخمی کر دیا۔
پروین کاسوان نے یہ بھی بتایا کہ محکمۂ جنگلات کی شیر کی نقل و حرکت پر پوری نظر تھی۔ اپنے ٹویٹ کے آخیر میں انہوں نے اسے 'قدرت کا کرشمہ' قرار دیا۔
اپنے اس ٹویٹ کے ساتھ انہوں نے شیر کی تصویر اور ان راستوں کا نقشہ بھی پوسٹ کیا ہے جس سے شیر کا گزر ہوا۔
اس شیر کی گردن پر ریڈیو کالر پٹی لگی ہوئی تھی اور اس نے جون میں ریاست مہاراشٹر سے سفر شروع کیا تھا۔
جب شیر کا ذکر آ گیا ہے تو یہ خبر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ راجستھان کے سوائی مان سنگھ کے رینتھم بھور نیشنل پارک میں ایک شیر نے اچانک سیاحوں کی ایک گاڑی کا تعاقب شروع کر دیا۔
شیر جیسے شاہی جانور کو دیکھنا بہت سے لوگوں کے لیے ہمت کا جبکہ بہت سے لوگوں کے لیے تفریح اور ولولہ انگیز لمحہ ہوتا ہے اور اسی لیے سیاح ان کی پناگاہوں کا رخ کرتے ہیں۔
خبررساں ادارے اے این آئی نے یکم دسمبر کو 19 سیکنڈ کی ایک ویڈیو جاری کی جو انڈیا میں وائرل ہو گئی اور اس میں ایک شیر کو ایک جیپ کا تعاقب کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس ویڈیو کلپ پر سوشل میڈیا میں بحث ہورہی تھی ۔ کوئی یہ کہہ رہا تھا کہ جس غیض و غصے میں شیر نے جیپ کا تعاقب کیا ہے 'اسے ضرور کسی نے چھیڑا ہوگا' جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ 'ان جانوروں کو ان کی قدرتی پناہ گاہ میں تنگ نہیں کیا جانا چاہیے۔'
انڈیا کے سابق وزیر برائے ریلویز دینیش ترویدی نے لکھا کہ 'سفاری کے ڈرائیورز بے جا خطرہ مول لیتے ہیں اور عام طور پر شیروں کے بہت قریب چلے جاتے ہیں جس سے انہیں تکلیف ہوتی ہے اور وہ اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ یہ انسانوں کی غلطی ہے۔'
اب تک اس ویڈیو کو تقریباً 40 ہزار بار دیکھا جا چکا ہے۔

سوتے سوتے پیسہ کمانے کی بات

کون ایسا ہوگا جسے یہ کہا جائے کہ آپ کو سونے کے لیے پیسے ملیں گے تو وہ سونے کے لیے تیار نہ ہو۔
آپ حیران نہ ہوں کیونکہ انڈیا کی ایک سٹارٹ اپ کمپنی نے انٹرن شپ کے ایک پروگرام کا اعلان کیا ہے جس میں نو گھنٹے سونے کے لیے ایک لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
نیند کے تعلق سے کام کرنے والی کمپنی 'ویک فٹ' یعنی تروتازہ بیدار ہوں نے اپنی انٹرن شپ کا نام 'ویک فٹ سلیپ انٹرن شپ' رکھا ہے۔
اس کے تحت منتخب امیدواروں کو 100 دنوں تک روزانہ نو گھنٹے سونے کے لیے کہا جائے گا۔
اس کی ایک شرط یہ ہے کہ 'کام' کے دوران اس میں شرکت کرنے والے افراد لیپ ٹاپ کا استعمال نہیں کر سکیں گے۔
بنگلور کی کمپنی ویک فٹ کے ڈائریکٹر چیتنیا راما لنگے گوڈوا نے بزنس انسائڈر کو بتایا کہ ان کی 'سلیپ انٹرن شپ کا مقصد نیند کے ذریعے صحت پر لوگوں کی توجہ کو واپس لانا ہے اور ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو کہ اچھی نیند کے گرویدہ ہیں۔'
اس انٹرن شپ کے دوران کمپنی منتخب امیدواروں کی نیند کی نگرانی بھی کرے گی جس میں ان کی کمپنی کے میٹرس پر سونے سے پہلے اور بعد کی نیند کی نگرانی بھی شامل ہوگی۔
ایک لاکھ کی انعامی رقم 100 دن تک مسلسل روزانہ نو گھنٹے سونے والوں کو ہی دی جائے گی۔
پیسے کی بات سے ياد آیا کہ انڈیا میں ان دنوں پیاز کی قیمت آسمان پر ہے یعنی اوسطاً وہ 100 فی کلو ہو چکی ہے۔
جہاں ملک بھر میں پیاز کی قیمت اس طرح آسمان چھو رہی ہو اور پیاز لوٹے جانے کی خبریں ہوں وہاں ممبئی کے ایک ریستوراں کے باہر ایک بوری پیاز کا یوں پڑے ہونا انتہائی تعجب کی بات ہے۔
اور شاید اسی لیے سوشل میڈیا پر ممبئی کے بلاگر اور فوٹوگرافر ایم ایس گوپال کی اس پیاز کی بوری کی تصویر وائرل ہو گئی ہے اور لوگ اس کے تعلق سے طرح طرح کے کمنٹس کر رہے ہیں۔
سلوگن موروگن نام سے فوٹو گرافر گوپال نے اس تصویر کے ساتھ لکھا 'یقین کریں یا ناں کریں۔ ممبئی اتنا ہی محفوظ ہے۔ ایک بوری پیاز ایک ریستوراں کے باہر رکھ دی گئی ہے کہ جب دکاندار دکان کھولیں تو وہ انہیں مل جائے۔'
جوں ہی یہ تصویر شیئر کی گئی لوگوں کے کمنٹس آنے شروع ہو گئے۔
ایک صارف نے لکھا 'دلی والوں کا ہوٹل ہے، پنگا کون لے گا۔'
جبکہ ڈاکٹر امریتا گھوش نامی ایک صارف نے لکھا: 'امید ہے کہ یہ شہر خواتین کے لیے بھی اسی قدر محفوظ ہو جتنا پیاز کے لیے ہے۔۔۔'
جبکہ بہروز تیلانگ نامی ایک شخص نے لکھا کہ 'ستم ظریفی دیکھیے کہ پیاز تو محفوظ ہے لیکن خواتین نہیں۔'

شیئر:

متعلقہ خبریں