بچوں کے شناختی کارڈ نہیں، آؤٹ پاس کیسے بنائیں

نومولود بچوں کے برتھ سرٹیفکیٹ کی تصدیق کے بعد بچوں کا اندراج والدہ کے پاسپورٹ میں کیاجاتا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
سعودی عرب میں برتھ سرٹیفیکٹ دو مراحل میں جاری کیا جاتا ہے۔ ابتدائی طور پر جاری ہونے والے برتھ سرٹیفکیٹ کو ’تبلیغ ولادہ‘ ( پیدائش کی اطلاع) کہتے ہیں، یہ سرٹیفکیٹ ہسپتال سے جاری ہوتا ہے۔
اگر ولادت طبی مرکز یا کلینک میں ہوئی ہو تو ابتدائی سرٹیفکیٹ کو وزارت صحت  سے تصدیق کرانا لازمی ہے۔
نومولود بچوں کے برتھ سرٹیفکیٹ کی تصدیق کے بعد بچوں کا اندراج والدہ کے پاسپورٹ میں کیا جاتا ہے۔

 

نئے ترمیم شدہ قواعد کے مطابق ابتدائی برتھ سرٹیفکیٹ کے اجراء کے لیے والدین کا اقامہ کارآمد ہونا لازمی ہے۔ تجدید شدہ اقامہ نہ ہونے کی صورت میں ہسپتال سے سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جاتا۔
پاسپورٹ میں اندراج کے بعد ہی بچے کا اقامہ بنانا ممکن ہوتا۔ یہاں ایسے سینکڑوں خاندان ہیں جنہوں نے بچوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹس حاصل ہی نہیں کیے جس کی وجہ سے انہیں اس وقت شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ تا ہے جب وہ مستقل طور پر وطن منتقل ہوتے ہیں۔ 
سینکڑوں ایسے خاندان اب بھی ہیں جنہوں نے بچوں کا اندارج نہ تو ’نادرا‘ میں کرایا ہے اور نہ ہی اپنے بچوں کے لیے شناختی کارڈ کی درخواست دی۔
پاکستانی قومی شناختی کارڈ کی درخواست دینے کے لیے والدین کا کارآمد اقامہ اور برتھ سرٹیفکیٹ ہونا لازمی ہے۔ تین برس قبل جب سے مملکت میں غیر ملکیوں کے اہل خانہ پر ماہانہ فیس عائد کی گئی ہے، متعدد خاندان ایسے ہیں جن  کے اقامے ایکسپائر ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کا اندراج پاکستان قونصلیٹ کے تحت کام کرنے والے نادرا سینٹر میں بھی نہیں کروا سکے۔

اگر ولادت طبی مرکزیا کلینک میں ہوئی ہو تو ابتدائی سرٹیفکیٹ کو وزارت صحت  سے تصدیق کرانا لازمی ہے۔ فوٹو: عرب نیوز

ایسے خاندان جو فیسوں کی عدم ادائیگی کے باعث مستقل طور پر وطن منتقل ہونے کے خواہشمند ہوتے ہیں انہیں سب سے بڑا مسئلہ ان بچوں کے لیے آوٹ پاس کا حصول ہوتا ہے کیونکہ آوٹ پاس کے لیے برتھ سرٹیفکیٹ درکار ہوتا ہے۔ والدین کے اقامے ایکسپائر ہونے کے بعد وہ برتھ سرٹیفکیٹ جاری نہیں کرواسکتے جس کی وجہ سے ان بچوں کے پاسپورٹ بھی نہیں بنوائے جاسکتے۔

ہنگامی پاسپورٹ یا  آوٹ پاس 

سفارتخانے یا قونصلیٹ میں پاکستانیوں کو ہنگامی بنیاد پر آوٹ پاس جاری کرنے کا خصوصی انتظام موجود ہے۔ آؤٹ پاس وہ سفری دستاویز ہوتی ہے جس پر بیرون ملک سے صرف اپنے ملک ہی سفر کیا جا سکتا ہے۔ آوٹ پاس کی فیس 50 ریال مقرر ہے۔
آوٹ پاس کا حامل قانون کے مطابق کسی دوسرے ملک سفر نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ سفری دستاویز ہنگامی بنیادوں پر بنائی جاتی ہے جو پاسپورٹ کا متبادل نہیں ہوتا اس لیے آوٹ پاس کا حامل صرف اپنے ملک ہی سفر کر سکتا ہے۔
ایسے بچوں کے لیے جن کے والدین نے شناختی کارڈ یا برتھ سرٹیفکیٹ نہیں بنوائے ان کے لیے محدود پیمانے پر قونصلیٹ کی جانب سے اس امر کی خصوصی رعایت دی جاتی ہے کہ وہ بچوں کے آوٹ پاس بنوانے کے لیے دو ایسے افراد کی جانب سے اس بات کی تصدیق کریں کہ جن بچوں کے لیے آوٹ پاس بنوائے جا رہے ہیں وہ ان ہی کے ہیں۔

ولدیت کو ثابت کرنے کا ایک دوسرا طریقہ ڈی این اے ٹیسٹ ہوتا ہے مگر یہ کافی مہنگا اور دقت طلب امر ہے۔ فوٹو: روئٹرز

واضح رہے بعض حالات میں بچوں کی پیدائش گھروں میں ہوتی ہے جس کی وجہ سے برتھ سرٹیفکیٹ نہیں بنتے اس صورتحال میں بھی والدین کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ولدیت کو ثابت کرنے کا ایک دوسرا طریقہ ڈی این اے ٹیسٹ ہوتا ہے مگر یہ کافی مہنگا اور دقت طلب امر ہے اس لیے قونصلیٹ کی جانب سے پاکستانیوں کو سہولت دینے کے لیے بچوں کے آوٹ پاس بنانے کے مرحلے کو آسان بناتے ہوئے اقرار نامے کی شرط رکھی گئی ہے جس کے بعد آوٹ پاس بنوایا جاسکتا ہے، تاہم اس چیز کا خیال رکھیں کہ اقرار نامے میں دو گواہ ہوں جو قانونی اقامہ پر مقیم ہوں اور ان افراد کو ذاتی طور پر جانتے ہوں جن کے بچوں کے لیے آوٹ پاس بنوایا جانا مقصود ہے۔

شیئر: