جامعہ ملیہ کے طلبہ پر پولیس کا تشدد

انڈیا میں شہریت کے نئے ترمیمی قانون کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ جو شور شمال مشرقی ریاست آسام کے طلبہ کی جانب سے اٹھا وہ گذشتہ روز دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں نظر آیا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے احتجاجی طلبا پر پولیس نے تشدد کیا جس کے خلاف پیر کو انڈیا کے مختلف شہروں میں قائم جامعات کے طلبا سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
انڈیا کی خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق جامعہ کے طلبا کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے  نہ صرف آئی آئی ٹی ممبئی کے طلبہ نکل آئے ہیں بلکہ آئی آئی ٹی کانپور، آئی آئی ٹی مدراس کے طلبہ بھی مظاہرے کر رہے ہیں۔ آئی آئی ٹی کیمپسز میں اس قسم کے احتجاج اور مظاہرے شاذونادر دیکھنے میں آتے ہیں۔
انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے دارالحکومت کی لکھنؤ یونیورسٹی اور لکھنؤ کے معروف دارالعلوم ندوۃ العلما کے طلبہ نے بھی جامعہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جلوس نکالا ہے۔
لکھنؤ یونیورسٹی میں جب پولیس نے داخل ہونے کی کوشش کی تو ان پر پتھراؤ کیا گیا۔
جامعہ ملیہ کے طالب علموں پر تشدد کی خبر پر دو گھنٹے کی مسافت پر قائم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی جلوس نکالے گئے جہاں پولیس نے مظاہرہ کرنے والے لڑکوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔
مقامی پرفیسروں اور طلبہ نے نام نہ بتانے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ پولیس کیمپس میں گھس آئی اور وہاں توڑ پھوڑ کی۔ وہاں کی ویڈیو بھی اردو نیوز کو موصول ہوئی ہے۔ کمیپس کے اندر پولیس کی گاڑیاں موجود ہیں۔

مغربی بنگال میں شہریت کے ترمیمی بل اور این آر سی کے خلاف پیر کو مظاہرہ ہو رہا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

رجسٹرار کی جانب سے رات یونیورسٹی میں تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے لیکن وائس چانسلر کی جانب سے ابھی تک کوئی بیان نہیں آیا ہے۔ وہاں انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے مسیجز بھی نہیں پہنچ رہے ہیں۔
دریں اثنا جامعہ ملیہ کی وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر نے پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے پورے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ وہ طلبہ پر ہونے والے مظالم کو دیکھ کر بہت افسردہ ہیں اور بچوں کا پیٹا جانا ناقابل قبول ہے۔
 

 

انھوں نے کہا کہ جامعہ میں بغیر اجازت پولیس کا داخلہ قابل قبول نہیں ہے اور یہ کہ یونیورسٹی اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جن بچوں کو گرفتار کیا گیا تھا سب کو رہا کرا لیا گیا ہے اور تقریباً 100 بچے زخمی ہوئے ہیں۔
گذشتہ شام کو جامعہ اسلامیہ کے طلبا کے خلاف پولیس کارروائی کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ نے فوراً دہلی کے آئی ٹی او میں واقع پولیس ہیڈکوارٹر پر رات بھر دھرنے کا اعلان کر دیا جہاں بڑی تعداد میں طلبہ جمع ہوئے اور وہ دھرنا اس وقت تک جاری رہا جب تک پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے حراست میں لیے جانے والے طلبہ کو  رہا نہیں کیا۔

جامعہ اسلامیہ کے طلبا کے خلاف پولیس کارروائی کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی۔ فوٹو: سکرول

دوسری جانب ریاست مغربی بنگال میں شہریت کے ترمیمی بل اور این آر سی کے خلاف مظاہرہ ہو رہا ہے۔ بنگال میں احتجاج کی قیادت ریاست کی وزیر اعلی کر رہی ہیں۔ یہ جلوس جادو پور یونیورسٹی تک جائے گا۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رہنما ڈی راجہ نے کہا کہ دلی پولیس مرکز کے زیر انتظام آتی ہے، وزیر داخلہ امت شاہ کا جامعہ کے طلبہ کے خلاف طاقت کے استعمال پر کیا رد عمل ہے؟

شیئر: