دہلی کی مزاحمت کرنے والی لڑکیاں

ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا میں ہر طرف ان لڑکیوں کو سراہا جارہا ہے۔ فوٹو: سکرول
انڈیا اس وقت احتجاج اور مظاہروں کی زد میں ہے اور معاشرے کا ایک بڑا حصہ حال ہی میں پارلیمنٹ سے منظور کیے جانے والے متناعہ شہریت ترمیمی بل کے خلاف سڑکوں پر نکل آیا ہے۔
اس احتجاج میں سب سے متحرک طبقہ طلبہ و طالبات کا ہے جو کئی شہروں میں پولیس تشدد کے باوجود احتجاج کر رہے ہیں۔

 

طلبہ کے احتجاج کی ایک ویڈیو اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طالبات اپنے ایک ساتھی  طالب علم کو پولیس سے بچا رہی ہیں جس کو پولیس تشدد کرتے ہوئے اپنے ساتھ لے جانا چاہتی ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ یہ اس وقت کی ویڈیو ہے جب دہلی پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ہاسٹل پر دھاوا بولا اور شہریت ترمیمی بل کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو حراست میں لینا چاہا۔ ایک نوجوان جو پولیس کے چنگل میں پھنس چکا تھا ان کو ان لڑکیوں نے چاروں طرف سے گھیر کر پولیس سے بچایا۔
اس دوران یہ علاقہ ’گو بیک، دہلی پولیس گو بیک‘ (دہلی پولیس واپس جاو، واپس جاو) کے نعروں سے گونج اٹھتا ہے۔ اس افتاد کے بعد نوجوان لڑکے کے منہ سے خون جاری ہے اور اس کو بچانے والی ایک لڑکی بے ہوش ہوچکی ہے۔
اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا میں ہر طرف ان لڑکیوں کو سراہا جارہا ہے جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ایک لڑکے کی جان بچائی۔
ٹوئٹر پر ایک انڈین صارف نے لکھا کہ یہ عملی مظاہرہ ہے کہ کیسے ہجوم کی جانب سے کسی معصوم کو لنچنگ سے بچایا جائے۔

 

خیال رہے کہ بدھ کو پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے اس بل کے تحت افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کی چھ مذہبی اقلیتی برادریوں کو انڈیا کی شہریت کی اجازت ہوگی جس میں مسلمان شامل نہیں ہیں۔
اتوار کو انڈیا کے مشرقی علاقوں میں ٹرین سروس اس وقت معطل کی گئی جب مغربی بنگال میں پرتشد مظاہرین نے بسوں اور ٹرینوں کو آگ لگا دی۔

شیئر: