اگر حزب اللہ نے امریکہ اور ایران کی جنگ میں حصہ لیا تو جواب دیں گے: اسرائیل
عسکری تنظیم حزب اللہ کو ایران کے پاسداران انقلاب نے 1982 میں قائم کیا تھا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
اسرائیل نے لبنان کو ایک براہ راست پیغام میں کہا ہے کہ اگر حزب اللہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ میں حصہ بننے کی کوشش کی تو وہ بیروت میں ایئرپورٹ اور شہری تنصیبات پر حملے کرے گا۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق منگل کو لبنان کے دو سینیئر عہدیداروں نے اسرائیلی پیغام کے حوالے سے بتایا۔
اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر اور لبنانی ایوان صدر نے روئٹرز کی جانب سے رابطہ کرنے پر فوری طور پر اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔
عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسیدی نے اتوار کے روز کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں ہو گا۔
یہ مذاکرات ایک ایسے وقت ہو رہے ہیں جب دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تصادم کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
اسرائیل نے 2024 میں ایک جنگ کے دوران ایران کے حامی لبنان کے مسلح گروپ حزب اللہ کو بھاری نقصان پہنچایا تھا۔ اسرائیلی حملوں میں اس گروپ کے رہنما حسن نصر اللہ کو اور اس کے ہزاروں جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا تھا۔
اسرائیل کے حملوں میں حزب اللہ کے ہتھیاروں کا بڑا حصہ تباہ کر دیا گیا تھا۔
لبنان میں شیعہ مسلمانوں کی اس عسکری تنظیم حزب اللہ کو ایران کے پاسداران انقلاب نے 1982 میں قائم کیا تھا۔
حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے گزشتہ ماہ ایک ٹیلیویژن خطاب میں کہا تھا کہ اُن کی تنظیم واشنگٹن اور تہران کے درمیان تنازعے میں ’غیرجانبدار نہیں‘، اور یہ کہ اس کو ’ممکنہ جارحیت میں ہدف بنانا ہوگا۔‘
نعیم قاسم نے کہا کہ ’ہم اپنے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم مناسب وقت کا انتخاب کریں گے کہ کس طرح عمل کرنا ہے، مداخلت کرنی ہے یا نہیں۔‘
واشنگٹن میں محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے پیر کو بتایا کہ وہ بیروت میں امریکی سفارت خانے سے غیرضروری اہلکاروں اور ان کے اہل خاندان کو نکال رہے ہیں۔
