جھارکھنڈ اسمبلی میں بی جے پی کو شکست

اگر بی جے پی جھارکھنڈ ہار میں جاتی ہے تو ایک سال میں اس کی یہ پانچویں ریاست میں شکست ہوگی۔ فوٹو: اے ایف پی
انڈیا کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ کے اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آنے لگے ہیں جس کے مطابق برسر اقتدار بی جے پی حکومت کو شکست کا سامنا ہے جبکہ ان کے وزیر اعلی کے امیدوار رگھوبر داس اپنی سیٹ پر ناکام ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
تازہ رجحانات کے مطابق 81 نشستوں والی اسمبلی میں کانگریس کے اتحاد کو سادہ اکثریت ملتی نظر آ رہی ہے اور فی الحال انھیں 44 سیٹوں پر سبقت حاصل ہے جبکہ بی جے پی 26 سیٹوں پر آگے ہے۔
ریاست میں کانگریس کی سب سے بڑی اتحادی جھارکھنڈ مکتی مورچہ 26 نشستوں پر جبکہ کانگریس 14 سیٹوں پر اور راشٹریہ جنتا دل چار سیٹوں پر آگے ہے۔
کانگریس کے اتحاد کو گذشتہ انتخاب کے مقابلے میں تقریبا ڈیڑھ درجن سیٹوں کا فائدہ ہے۔
حزب اختلاف کے رہنماؤں کا خيال ہے کہ رجحانات یہ بتاتے ہیں کہ عوام نے بی جے پی اور ان کے نظریات کو مسترد کر دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے اس سے قبل مہاراشٹر کی ریاستی اسمبلی کا انتخاب کشمیر کی خصوصی حیثیت (آرٹیکل 370) کے خاتمے پر لڑا تھا جبکہ جھار کھنڈ میں پانچ مرحلوں میں انتخاب کرائے گئے تھے اور وزیر اعظم مودی اور امت شاہ نے وہاں درجنوں ریلیاں کیں جہاں کشمیر سے لے کر این آر سی اور شہریت کے ترمیمی قانون کی باتیں ہوئیں تاہم انھیں پھر بھی شکست کا سامنا نظر آ رہا ہے۔

جھارکھنڈ میں کانگریس پارٹی کی اتحادی مقامی سیاسی جماعت مکتی مورچہ بھی 26 نشستوں پر جیت رہی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

بی جے پی کے ترجمان شاہنواز حسین نے سرکاری ٹی وی چینل دور درشن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ابھی ہمیں سات آٹھ سیٹوں کا خسارہ نظر آ رہا ہے لیکن جب حتمی نتیجہ آئے گا تو ہماری کارکردگی بہتر ہوگی۔'
مبصرین کے مطابق جھارکھنڈ ریاست میں ماب لنچنگ کے سب سے زیادہ واقعات رونما ہوئے ہیں اور ریاستی حکومت اس معاملے سے ٹھیک طرح سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مقامی مسائل کو بھی بی جے پی نے نظر انداز کیا اور اس رجحان سے بی جے پی کو یہ پیغام جاتا ہے کہ لوگوں نے قومی مسئلے کو مسترد کر دیا ہے۔
ریاست میں بی جے پی کے سینیئر رہنماؤں کا خیال ہے کہ اندرونی کشمکش کے سبب بی جے پی کو نقصان پہنچا ہے۔
جھارکھنڈ میں قبائلی آبادی ہے اور اس سے قبل چھتیس گڑھ میں قبائلی شہریوں نے کانگریس کو جیت دلائی تھی اس بار وہی رجحان جھارکھنڈ میں نظر آ رہا ہے۔ اگر بی جے پی جھارکھنڈ میں ہار جاتی ہے تو ایک سال میں اس کی یہ پانچویں ریاست میں شکست ہوگی۔

شیئر: