پاکستان میں ہوا کو صاف کرنے والا آلہ ایجاد

’دی لانسیٹ‘ کے مطابق 2015 میں پاکستان میں ایک لاکھ 35 ہزار افراد فضائی آلودگی سے ہلاک ہوئے۔ فوٹو: اے یف پی
گذشتہ چند مہینوں سے پاکستانی انجینئرحسن زیدی کے موبائل فون کی گھنٹی نان سٹاپ بج رہی ہے اور وہ اس لیے کہ ’سموگ‘ اور فضائی آلودگی سے تنگ شہری ان سے ہوا کو صاف کرنے والا آلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جو انہوں کافی مہینوں کی مشقت سے تیار کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 31 سالہ حسن زیدی خود بھی فضائی آلودگی سے تنگ آ چکے تھے اور آخرکار انہوں چھ ماہ قبل ہوا کو صاف کرنے والا ایسا آلہ ایجاد کرنے کی ٹھان لی جو قیمت میں بھی سستا ہو اور زہرآلود ماحول کو بھی بہتر کر سکے۔
حسن زیدی نے ان سردیوں میں 500 ’ان ڈور فاریسٹ‘ پیوریفائرز بنا کر فروخت کیے ہیں اورایک یونٹ کی قیمت سولہ ہزار روپے رکھی ہے، جبکہ امپورٹڈ پیوریفائرز قیمت میں تین گنا زیادہ ہیں۔

 

پاکستانی انجینئر کا کہنا تھا کہ ’مجھے آڈر کے لیے اتنی کالز آتی ہیں کہ میں ان میں سے بہت ساری کالز سن ہی نہیں پاتا۔ میں نے اس ہفتے بہت سارے آرڈز اس لیے مسترد کر دیے ہیں کیونکہ میرے پاس نہ تو زیادہ لوگ ہیں اور نہ ہی مزید یونٹس بنانے کے ذرائع ہیں۔‘
سعدیہ خان جنہوں نے حال ہی میں حسن زیدی سے درجن کے قریب پیوریفائرز خریدے ہیں، کا کہنا ہے کہ ’یہ اب عیاشی نہیں ہے بلکہ ضرورت بن چکی ہے تاکہ لوگ سکون کا سانس لے سکیں۔‘
گذشتہ پانچ برسوں کے اندر پاکستان میں، گاڑیوں، انڈسٹری اور فصلوں کی باقیات جلانے سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے۔

سموگ کی وجہ سے پاکستانی شہروں میں سے لاہور سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ فوٹو: اے ایف پی

سائنسی جریدے ’دی لانسیٹ‘ کے مطابق 2015 میں ایک لاکھ 35 ہزار افراد فضائی آلودگی سے منسلک بیماریوں سے ہلاک ہوئے۔
سموگ کی وجہ سے لاہور سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں شہر کے اوپر آلودگی کی تہہ بنی ہوئی ہے اور شہریوں کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہاں تک کہ حکومت کو سکول بند کرنا پڑ رہے ہیں۔
فضائی آلودگی کا جائزہ لینے والے ادارے ’ائر ویژول‘ کے مطابق پاکستان کا شمار دنیا کے دس آلودہ ترین ممالک میں ہوتا ہے اور لاہور سموگ سے متاثرہ دنیا کے ٹاپ ٹین شہروں میں شامل ہے۔

شیئر: