جی میل کے چار کروڑ 80 لاکھ صارفین کے پاس ورڈ لیک،’فوراً تبدیل کریں‘
ماہرین نے صارفین کو فوری طور پر پاس ورڈ تبدیل کرنے اور ٹو فیکٹر آتھینٹیکیشن فعال رکھنے کی ہدایت دی۔ تصویر: اے ایف پی
سائبر سکیورٹی کے حکام نے جی میل کے تقریباً چار کروڑ 80 لاکھ صارفین کے یوزر نیم اور پاس ورڈز پر مشتمل ڈیٹا لیک ہونے کا انکشاف کیا ہے۔
ویب سائٹ فوربز کے مطابق حکام کی جانب سے لیک ہونے والی دستاویزات کی تعداد 14 کروڑ 90 لاکھ سے زائد بتائی گئی ہے۔
سائبر سکیورٹی کے محقق جیریما فاؤلر نے کہا ہے کہ مذکورہ ڈیٹا نہ تو پاس ورڈ کے ذریعے محفوظ بنایا گیا تھا اور نہ ہی انکرپٹڈ تھا اور اس میں تقریباً 96 گیگا بائٹ ڈیٹا موجود تھا۔
ان کی جانب سے یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ اس مواد کے لیک ہونے کی وجہ کسی براہ راست ہیکنگ کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ مختلف ڈیٹا لیکس اور انفوسٹیلر میل ویئر کے ذریعے جمع کی گئی معلومات پر مشتمل ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ انفوسٹیلر میل ویئر ذاتی ڈیوائسز میں گھس کر یوزرز کے نام اور پاس ورڈ اور دیگر چیزوں کو سٹور کر لیتا ہے۔
لیک ہونے والے مواد کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کا دائرہ صرف جی میل تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں یاہو، انسٹاگرام، نیٹ فلکس، فیس بک اور آؤٹ لک کے اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی شامل تھیں۔
اسی طرح اس میں سرکاری اداروں، سٹریمنگ پلیٹ فارمز کی سروسز اور بینک اکاؤنٹس کے لاگ انز کے حوالے سے بھی معلومات موجود تھیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے لیکس کے بعد ڈیٹا بیس کو ہٹانے کے لیے کوششیں شروع کی گئیں اور ایک ماہ کے مسلسل اقدامات کے بعد ڈیٹ بیس کو آف لائن کر دیا گیا ہے۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں اس قسم کا مواد آن لائن وارداتیں کرنے والوں کے انتہائی قیمتی ہوتا ہے کیونکہ اس کو کریڈنشل سٹیفنگ حملوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور ایسے پلیٹ فارمز پر کارگر رہتا ہے جہاں مختلف اکاؤنٹس کے لیے ایک جیسی ہی لاگ ان تفصیلات رکھی گئی ہوں۔
آن لائن سکیورٹی کے حوالے سے کام کرنے والے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس واقعے سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ میل ویئر اب بھی فعال ہو سکتا ہے جس سے مستقبل میں بھی ڈیٹا لیک ہونے کے خدشات ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب گوگل نے کہا ہے کہ وہ ڈیٹا لیک کے معاملے سے آگاہ ہے اور جب ایکسپوز ہونے والے اکاؤنٹس کی تفصیلات سامنے آ جائیں گی تو صارفین کو پاس ورڈز تبدیل کرنے کا کہا جائے گا۔
علاوہ ازیں آن لائن سکیورٹی کے ماہرین نے جی میل کے صارفین کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے پاس ورڈ تبدیل کریں اور ہر اکاؤنٹ کے لیے الگ پاس ورڈ استعمال کریں جبکہ ٹو فیکٹر آتھینٹیکیشن کے علاوہ پاس کی کے آپشن کو بھی فعال رکھیں۔