Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جی میل کا وہ فیچر جو آپ کی معلومات ’خفیہ طور پر‘ اے آئی چیٹ بوٹس کو دے رہا ہے

ماہرین کے مطابق جی میل کا سمارٹ فیچر کو آن یا آف کرنے کا اختیار صارف کے ہاتھ میں ہوتا ہے (فوٹو: پکسابے)
ٹیکنالوجی کمپنی ’گوگل‘ کی ملکیتی ای میلنگ سروس ’جی میل‘ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے ایک تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔
نیوز ویب سائٹ ’ہف پوسٹ‘ کے مطابق سائبر سیکیورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ ’گوگل‘ نے خودکار طور پر ایک ایسا آپشن فعال کر رکھا ہے جس کے تحت صارفین کے ای میل پیغامات اور اٹیچمنٹس کو اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اگر صارفین نہیں چاہتے کہ ان کا ذاتی یا پھر دفتری ڈیٹا شیئر ہو تو انہیں خود جا کر سیٹنگز تبدیل کرنا ہوں گی۔
انجینئر ڈیو جونز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’جی میل صارفین کو خودکار طور پر اس فیچر میں شامل کر دیا گیا ہے، جس کے تحت گوگل کو نجی پیغامات اور فائلز تک رسائی مل سکتی ہے۔‘
ان کے مطابق ’اس آپشن کو بند کرنے کے لیے سیٹنگز میں دو مختلف جگہوں پر جا کر سمارٹ فیچرز کو آف کرنا ضروری ہے۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کی دوڑ میں کمپنیاں نئی انسانی ڈیٹا کی کمی کا شکار ہو رہی ہیں، اسی لیے صارفین کے روزمرہ ڈیٹا کو تربیت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل خودکار میٹنگ نوٹس جیسے فیچرز کو بھی ڈیٹا اکٹھا کرنے کا ذریعہ قرار دیا جا چکا ہے۔
’گوگل‘ کی پرائیویسی پالیسی کے مطابق کمپنی معلومات کو اپنی سروسز بہتر بنانے اور نئے فیچرز تیار کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے، تاہم ’بلومبرگ‘ کی رپورٹ کے مطابق ’گوگل‘ کے خلاف ایک مجوزہ اجتماعی مقدمہ بھی دائر کیا گیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ کمپنی نے خفیہ طور پر جیمینائی اے آئی کو صارفین کی مکمل ای میل ہسٹری تک رسائی دی۔
گوگل کے ترجمان نے ان رپورٹس کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’جی میل کے سمارٹ فیچرز کئی سالوں سے موجود ہیں اور صارفین کے ای میل مواد کو جیمینائی اے آئی کی تربیت کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔‘

ترجمان کے مطابق ’گوگل پالیسی میں کسی بھی تبدیلی کے حوالے سے صارفین کو واضح طور پر آگاہ کرتا ہے۔‘
تاہم اگر صارفین اب بھی اپنی پرائیویسی پر زیادہ کنٹرول چاہتے ہیں تو وہ اس فیچر کو بند کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے ڈیسک ٹاپ پر جی میل کی سیٹنگز میں جا کر جنرل ٹیب سے ’سمارٹ فیچرز‘ کو غیر فعال کرنا ہوگا، جبکہ ’گوگل ورک سپیس‘ کی سمارٹ سیٹنگز بھی الگ سے بند کرنا ہوں گی۔

موبائل صارفین بھی ڈیٹا پرائیویسی سیٹنگز کے ذریعے یہ آپشن آف کر سکتے ہیں۔
البتہ اس فیچر کو بند کرنے سے کچھ مفید سہولیات جیسے سمارٹ کمپوز، خودکار ای میل فلٹرنگ، سپیل چیک اور گرامر چیک بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق صارفین کو یہ فیصلہ خود کرنا ہوگا کہ وہ سہولت کو ترجیح دیتے ہیں یا پرائیویسی کو۔ بہت سے لوگوں کے لیے اپنی معلومات پر کنٹرول رکھنا کسی خودکار نظام کے حوالے کرنے سے بہتر ہے۔

شیئر: