کیا میٹا انسٹاگرام، فیس بک اور واٹس ایپ کے استعمال کی فیس چارج کرے گا؟
کیا میٹا انسٹاگرام، فیس بک اور واٹس ایپ کے استعمال کی فیس چارج کرے گا؟
جمعہ 30 جنوری 2026 11:27
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
’میٹا ویریفائی‘ کی قیمت 15 ڈالر سے شروع ہوتی ہے (فوٹو: روئٹرز)
ٹیکنالوجی کمپنی ’میٹا‘ نے تصدیق کی ہے کہ وہ انسٹاگرام، فیس بک اور واٹس ایپ کے لیے پریمیم سبسکرپشنز متعارف کرانے اور اس کی ٹیسٹنگ کا عمل شروع کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔
ٹیک ویب سائٹ ’سی نیٹ‘ کے مطابق اس اقدام کے بعد صارفین کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ مفت ورژن استعمال کرتے رہیں یا پھر اضافی فیچرز کے لیے رقم ادا کریں۔
’ٹیک کرنچ‘ کی رپورٹ کے مطابق پریمیم سبسکرپشنز کے ذریعے صارفین کو خصوصی فیچرز اور اس بات پر زیادہ کنٹرول ملے گا کہ وہ کس طرح دوسروں سے جڑتے اور مواد شیئر کرتے ہیں۔
’میٹا‘ کے ایک نمائندے نے ’سی نیٹ‘ کو بتایا کہ ’ٹیک کرنچ‘ کی رپورٹ درست ہے تاہم سبسکرپشن پلانز کی تفصیلات فی الحال سامنے نہیں لائی گئیں۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ نیا ماڈل ’میٹا ویریفائی‘ سے مختلف ہوگا، جو خاص طور پر کاروباری اداروں اور کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے ہے۔ ’میٹا ویریفائی‘ کی قیمت 15 ڈالر سے شروع ہوتی ہے اور اس میں اضافی سپورٹ اور جعلی اکاؤنٹس سے تحفظ جیسے فیچرز شامل ہیں۔ اس کے برعکس، نئی پریمیم سبسکرپشنز عام صارفین کے لیے ایک وسیع تر تجربہ فراہم کریں گی۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ پریمیم سبسکرپشن میں کون سے مخصوص فیچرز شامل ہوں گے، تاہم ٹیک کرنچ کے مطابق اے آئی (مصنوعی ذہانت) اس پیکج کا اہم حصہ ہو سکتی ہے۔ اس میں اے آئی امیج جنریٹرز یا اے آئی ایجنٹس تک اضافی رسائی وغیرہ جیسے فیچرز شامل کیے جا سکتے ہیں۔
’میٹا‘ کا کہنا ہے کہ ’صارفین کے فیڈ بیک کی بنیاد پر پیکجز اور سبسکرپشن آپشنز میں تبدیلی بھی ممکن ہے۔‘
واضح رہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سبسکرپشن ماڈل اب عام ہو چکا ہے۔ ’لنکڈ اِن‘، ’ایکس‘ اور ’سنیپ چیٹ‘ پہلے ہی صارفین کو اضافی فیچرز کے لیے سبسکرپشن ماڈل فراہم کر رہے ہیں۔
کئی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پہلے ہی پریمیم سبسکرپشنز کی پیشکش کر رہے ہیں (فوٹو: میٹا)
ماہرین کے مطابق یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ آیا صارفین واقعی ان پلیٹ فارمز پر اضافی فیچرز کے لیے ادائیگی کریں گے یا نہیں۔ اس کا انحصار فیچرز کی افادیت، قیمت اور اس بات پر ہوگا کہ آیا پریمیم واقعی ایک بہتر تجربہ فراہم کرتا ہے یا نہیں۔
مارکینٹنگ کمپنی ’سکائیڈیو‘ کے سی ای او مائیک فورڈ کا کہنا ہے کہ ’زیادہ تر پلیٹ فارمز صارفین کو زیادہ وقت سکرول کرانے پر توجہ دیتے ہیں، نہ کہ اس بات پر کہ وہ اپنے وقت کے استعمال سے مطمئن ہوں۔‘
ان کے مطابق ’سبسکرپشن اس وقت پُرکشش بنتی ہے جب وہ صارفین کو حد بندی، کم فیصلے کرنے اور بہتر تجربہ فراہم کرے۔‘
ماہرین کا خیال ہے کہ پریمیم صارفین کے لیے دوستوں اور کانٹیکٹس کو فلٹر کرنے کے بہتر آپشنز، پوسٹس کی پرائیویسی پر زیادہ کنٹرول، یا اے آئی کی مدد سے وقت بچانے والے خودکار فیچرز متعارف کرائے جا سکتے ہیں، جو لوگوں کے لیے واقعی فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔