Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

50 سال بعد انسان کی چاند پر واپسی، ناسا کا خلا بازوں کے ساتھ ’پریکٹس کاؤنٹ ڈاؤن‘

ناسا نے اپولو پروگرام کے دوران 1968 سے 1972 تک 24 خلا باز چاند تک بھیجے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
ناسا نے سنیچر کو اپنے نئے مون راکٹ میں ایندھن بھرنے سے پہلے دو روزہ پریکٹس کاؤنٹ ڈاؤن شروع کیا۔ یہ ایک اہم آزمائش ہے جس سے طے ہوگا کہ چار خلا باز چاند کے گرد اڑان کب بھریں گے۔
امریکی نیوز اجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بیماریوں سے بچنے کے لیے عملے کو پہلے ہی قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ کمانڈر ریڈ وائز مین اور ان کا عملہ 1972 کے بعد چاند کے لیے روانہ ہونے والا پہلا انسانی مشن ہوگا۔
وہ ہیوسٹن میں اپنے بیس سے اس مشق کی نگرانی کریں گے اور جب راکٹ کو پرواز کے لیے کلیئر کر دیا جائے گا تو کینیڈی سپیس سینٹر جائیں گے۔
322  فٹ (98 میٹر) بلند سپیس لانچ سسٹم راکٹ دو ہفتے قبل لانچ پیڈ پر منتقل کیا گیا تھا۔ اگر پیر کا ایندھن بھرنے کا ٹیسٹ کامیاب رہا تو ناسا ایک ہفتے کے اندر لانچ کی کوشش کرسکتا ہے۔ ٹیمیں راکٹ کے ٹینک میں 7 لاکھ گیلن سے زیادہ انتہائی ٹھنڈا ایندھن بھریں گی اور انجنوں کے چلنے سے آدھا منٹ پہلے عمل روک دیں گی۔
شدید سردی کی لہر کے باعث ایندھن بھرنے کا ڈیمو اور لانچ دونوں دو دن تاخیر کا شکار ہوگئے۔ اب 8 فروری وہ سب سے قریبی تاریخ ہے جس پر راکٹ روانہ ہوسکتا ہے۔
راکٹ کے اوپر نصب اورائن کیپسول میں سوار امریکی اور کینیڈین خلا باز چاند کے گرد چکر لگا کر بغیر رکے سیدھا واپس آئیں گے اور بحرالکاہل میں لینڈ کریں گے۔ مشن تقریباً 10 دن تک جاری رہے گا۔
ناسا نے اپولو پروگرام کے دوران 1968 سے 1972 تک 24 خلا باز چاند تک بھیجے تھے، جن میں سے 12 نے چاند کی سطح پر چہل قدمی کی تھی۔

 

شیئر: