موریتانی سیامی بچے آپریشن کے لیے مملکت پہنچ گئے 

وزارت صحت کی ٹیمیں بچوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد آپریشن کا آغاز کرے گی ۔ فوٹو ۔ سبق نیوز
موریتانیا کے سیامی)  جڑے ہوئے ) بچے ' محمد اور فضیل' اپنے والدین کے ہمراہ ریاض پہنچ گئے ۔ وزارت صحت کی جانب سے سیامی بچوں کو جدا کرنے کے لیے آپریشن کی تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔
بچے پیٹ سے جڑے ہوئے ہیں انہیں خادم حرمین حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی خصوصی ہدایات پر موریتانیہ سے ریاض پہنچایا گیا تاکہ آپریشن کر کے بچوں کو جدا کیا جاسکے ۔

 'سعودی عرب کی اعلی قیادت نے ہمارا خواب  حقیقت میں بدل دیا ' ۔ فوٹو ، سبق نیوز

عربی ویب نیوز ' سبق ' کے مطابق سیامی بچو ں کو انکے والدین کے ہمراہ  ریاض کے شاہ سلمان ایئر بیس پہنچایا گیا جس کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے ۔ ائیر بیس پر وزارت صحت کی ٹیمیں اور دیگر اعلی حکام بھی موجود تھے جنہوں نے سیامی بچوں کو فوری طور پردرکار طبی امداد فراہم کرتے ہوئے انہیں مخصوص ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کر دیا ۔
سیامی بچوں کے والدین نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد مملکت شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کا خاص طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہماری بہت بڑی مشکل آسان کر دی ۔ 
بچوں کے والد ' تقیو بلعید' کا کہنا تھا کہ " مملکت کی جانب سے انہیں بہترین خدمات فراہم کی جارہی ہیں جس پر ہم انکے بے حد شکر گزار ہیں ، سعودی اعلی قیادت نے ہم جیسے غریبوں کے ساتھ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جو کام کیا ہے وہ انکے لیے صدقہ جاریہ ثابت ہو گا "۔

بچوں کو خصوصی ایمبولینس کے ذریعے ایئر بیس سے اسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ فوٹو ۔ سبق نیوز 

سیامی بچوں کے والد کا کہنا تھا کہ سعودی سفارت خانے کی جانب سے  پیغام ملا کہ انکے جڑے ہوئے بچوں کا آپریشن سعودی عرب میں کیاجائے گا تو ہمیں یقین ہی نہیں آرہا تھا مگر آج ریاض پہنچ کر ہمارا خواب حقیقت بن گیا ۔
بچوں کے والد کا مزید کہنا تھا کہ اس سے قبل ہم نے یہ سناتھا کہ سعودی عرب میں مختلف ممالک کے متعدد سیامی بچوں کا کامیاب آپریشن کیا جاچکا ہے ۔ ہماری بھی خواہش تھی کہ ہمارے بچوں کا بھی علاج کیا جائے ۔
 واضح رہے اب تک 22ممالک میں 108 سیامی بچوں کے کیس سعودی عرب کی وزارت صحت کے پاس موجود اس حوالے سے طبی طور پر ان کیسوں کا ہر زاویے سے جائزہ لینے کے بعد آپریشن کرنے کے لیے انہیں مملکت لایا جاتا ہے ۔ مذکورہ کیس 49 واں ہے جو اپنی نوعیت کا بڑا کیس ہے ۔

شیئر: