الجوف ریجن کی 800 سال قدیم ’جامع مسجد السعیدان‘ کی تعمیرِ نو
مسجد کی تعمیر 620 ہجری بمطابق 1223 میں السعیدان قبیلے نے کی تھی۔ (فوٹو: ایس پی اے)
مملکت کی ثقافتی شناخت کو آگے بڑھانے کی کوششوں کے سلسلے میں تاریخی مساجد اور ان کے تعمیری لینڈ مارکس کے تحفظ کے لیے، ’پرنس محمد بن سلمان پروجیکٹ‘ کے دوسرے مرحلے میں الجوف ریجن کی قدیم جامع مسجد السعیدان کی تعمیرِ نو کا کام مکمل کرلیا گیا۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق سکاکا شہر کے جنوب، مغرب میں دومۃ الجندل کی 800 سال قدیم جامع مسجد کی تعمیر 620 ہجری بمطابق 1223 میں السعیدان قبیلے نے کی تھی۔
اس دور میں سماجی حوالے سے جامع مسجد کا کردار انتہائی اہم رہا، یہاں اہم دینی و عدالتی امور انجام دیے جاتے۔ قرآن کریم کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔
علاوہ ازیں مسجد عمربن الخطاب کے بعد یہ دوسری جامع مسجد تھی جہاں باقاعدگی سے جمعہ ادا کیا جاتا تھا۔
شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمان آل سعود کے دور میں شیخ عطا اللہ الدغیمان السعیدان کو قاضی مقرر کیا گیا تھا، وہ اس سے قبل جامع مسجد کے امامت کے فرائض انجام دیتے تھے۔

مسجد السعیدان کی تعمیرِ نو سے قبل اس کا رقبہ 179 مربع میٹر تھا جو تعمیر کے بعد بڑھ کر 202.39 مربع میٹر ہو گیا جبکہ نمازیوں کی تعداد 68 ہو گئی۔
مسجد کی تعمیرِ نو کے لیے قدیم اور منفرد طرز تعمیر اختیار کیا گیا۔

مسجد قریب ایک تاریخی کنواں بھی ہے جس کا نام ’ابا الجبال‘ ہے، اس کے ساتھ پانی کی زیر زمین نالیاں بھی بنائی گئی تھیں، جن کے ذریعے مسجد میں وضو کے لیے پانی پہنچانے کا بندوبست کیا گیا، مسجد کا شمار ماضی کی ان چند مساجد میں کیا جاتا ہے جہاں یہ سہولت موجود تھی۔
