پاکستان کے قومی کرکٹرز کے لیے فٹنس ٹیسٹ کا معیار کیا ہے؟

فٹنس ٹیسٹ کی نگرانی قومی کرکٹ ٹیم کے سٹرینتھ اینڈ کنڈیشنگ کوچ یاسر ملک کر رہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے سنٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ لیے جا رہے ہیں جو دو روز تک جاری رہیں گے۔ بورڈ نے کھلاڑیوں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ ٹیسٹ میں ناکام ہونے والوں پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں جاری اس ٹیسٹ کے ابتدائی مرحلے میں سابق کپتان سرفراز احمد، شاہین شاہ آفریدی، شان مسعود، محمد عباس سمیت 10 کھلاڑیوں کی جسمانی صلاحیتوں کو پرکھا جا رہا ہے۔
پی سی بی ترجمان کے مطابق یہ فٹنس ٹیسٹ کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ کا حصہ ہوتے ہیں اور تمام دستیاب کھلاڑیوں پر ان ٹیسٹ میں شرکت لازمی ہوتی ہے۔
وہاب ریاض، شاداب خان اور محمد عامر اس وقت بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کھیلنے کے لیے ملک سے باہر ہیں لہٰذا ان کا ٹیسٹ 20-21 جنوری کو لیا جائے گا۔
فاسٹ بولر عثمان شینواری ٹائیفائیڈ کے باعث جبکہ اظہر علی، محمد رضوان اور اسد شفیق وائرل انفیکشن کا شکار ہونے کی وجہ سے فی الحال یہ ٹیسٹ دینے سے قاصر ہیں اس لیے ان کے ٹیسٹ بعد میں لیے جائیں گے۔
فخر زمان اور حسن علی انجری کا شکار ہیں، ان کے فٹنس ٹیسٹ  لیے جانے کا فیصلہ میڈیکل پینل کی کلیئرنس کے بعد ہو گا۔
پی سی بی ترجمان کے مطابق نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ہونے والے فٹنس ٹیسٹ پانچ حصوں پر مشتمل ہیں جس کی نگرانی قومی کرکٹ ٹیم کے سٹرینتھ اینڈ کنڈیشنگ کوچ یاسر ملک کر رہے ہیں۔

فٹنس ٹیسٹ میں ناکام ہونے کی صورت میں کھلاڑیوں پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

فٹنس ٹیسٹ کے دوران کھلاڑیوں کے فیٹ اینالسز، اسٹرینتھ، اینڈیورنس، اسپیڈ اینڈیورنس اور کراس فٹ کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ یویو ٹیسٹ اینڈیورنس کا حصہ ہوتا ہے جس میں کھلاڑی کی پھرتی، چستی اور ایروبک صلاحیتوں کو جانچا جاتا ہے۔
پی سی بی ترجمان کے مطابق کھلاڑیوں کو یہ پانچوں ٹیسٹ پاس کرنا ہوتے ہیں اور ان کے فائنل رزلٹ میں پانچوں ٹیسٹ کی کارکردگی کا برابر حصہ ہوتا ہے۔ کرکٹ بورڈ کی جانب سے ہر تین مہینے بعد فٹنس ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور ٹیم میں کوالیفائی کرنے کے لیے ضروری ہے کے سیلیکٹ ہونے والے کھلاڑی نے کم از کم بنیادی نمبروں سے فٹنس ٹیسٹ پاس کیا ہو۔ اس کے علاوہ سنٹرل کنٹریکٹ کا حصہ بننے والے کھلاڑیوں کے لیے بھی لازم ہے کے وہ فٹنس ٹیسٹ کلیئر کریں۔
فٹنس ٹیسٹ پاس کرنا مرد اور خواتین کھلاڑیوں کے لیے یکساں اہم ہے اور وومین کرکٹ ٹیم کا بھی اسی پیمانے پر فٹنس ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔
‏ڈائریکٹر انٹر نیشنل کرکٹ پی سی بی ذاکر خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ قومی کھلاڑیوں کی فٹنس کا مسلسل جائزہ لینے پر ہمیشہ زور دیتا ہے لہٰذا پی سی بی نے اس مرتبہ فٹنس کا مطلوبہ معیار حاصل نہ کرنے والے کھلاڑیوں پر جرمانہ عائد  کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد قومی کھلاڑیوں میں فٹنس کے بہترین معیار میں تسلسل برقرار رکھنا ہے۔
ذاکر خان کے مطابق سنٹرل کنٹریکٹ میں شامل تمام کھلاڑیوں کو گزشتہ ماہ فٹنس کے مطلوبہ معیار کے بارے میں بتادیا گیا تھا اور ساتھ ہی ناکامی کی صورت میں لگنے والے جرمانوں کے بارے میں بھی آگاہ کر دیا گیا تھا۔

فٹنس ٹیسٹ میں کامیاب ہونا ٹیم میں شمولیت کی حتمی شرط نہیں۔

پی سی بی کے مطابق اگر کوئی کھلاڑی فٹنس ٹیسٹ میں مسلسل ناکامی کا شکار رہتا ہے تو ایسی صورت میں اس کرکٹر کا سنٹرل کنٹریکٹ برقرار رکھنا بھی خطرے میں پڑ جائے گا کیونکہ مقرر کردہ معیار حاصل کرنے میں مسلسل ناکامی پر مذکورہ کھلاڑی کو سنٹرل کنٹریکٹ کی کٹیگری میں تنزلی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔
ڈائریکٹر انٹرنیشنل آپریشن نے مزید واضح کیا کہ یہ فٹنس ٹیسٹ صرف سنٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ چھ کرکٹ ایسوسی ایشنز میں شامل کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ بھی مستقل بنیادوں پر لیے جائیں گے تاکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں مصروف کھلاڑیوں کی فٹنس کا بھی مسلسل جائزہ لیا جاسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ فٹنس ٹیسٹ میں ناکامی کی صورت میں ڈومیسٹک سرکٹ سے وابستہ ان فٹ کھلاڑیوں کی ایک روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ پاکستان کپ میں شرکت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
سابق کوچ مکی آرتھر کھلاڑیوں کی فٹنس کو بہت اہمیت دیتے تھے اور انہوں نے عمر اکمل سمیت دیگر کرکٹرز کو فٹنس کے متعین معیار پورا نہ اترنے کی وجہ سے ٹیم میں شامل نہیں کیا تھا۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ فٹنس کے معیار پر پورا اترنا ٹیم میں شمولیت کی واحد شرط نہیں، کیوں کہ ماضی میں فٹنس ٹیسٹ ٹاپ کرنے والے کھلاڑی فواد عالم اور رضوان احمد بہترین فزیکل فٹنس کے باوجود قومی ٹیم کا حصہ نہیں بن سکے۔

شیئر: