Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یورپی سفارت کاروں کا انڈیا کے زیر انتظام کشمیر جانے سے انکار

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کرفیو کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے، فائل فوٹو
یورپی یونین کے سفارت کارو‏ں نے جمعرات سے شروع ہونے والے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کا دو روزہ دورہ کرنے سے انکار کردیا ہے کیونکہ انہیں نظربند سیاست دانوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق ’دو روزہ سفارتی دورہ گذشتہ برس پانچ اگست کو انڈین حکومت کی جانب سے کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے فیصلے کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا دورہ ہے۔‘
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ذرائع مواصلات کی بندش اور کرفیو کو کئی ممالک کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے، ان ممالک میں بیلجیئم اور امریکہ شامل ہیں۔
انڈین ٹی وی ’این ڈی ٹی وی‘ نے ایک یورپی سفارت کار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’یورپی یونین کشمیر کا دورہ نہیں کرنا چاہتی۔ ہم لوگوں سے اپنی مرضی کے مطابق ملنا چاہتے ہیں۔‘
انڈٰین اخبار ’دا ہندو‘ کے مطابق یورپی یونین کے سفارت کار خاص طور پر تین سابق وزرائے اعلیٰ سے ملنا چاہتے ہیں، جن میں فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی شامل ہیں، جو گذشتہ برس اگست سے اب تک نظر بند ہیں۔
دوسری جانب انڈین وزارتِ خارجہ کے مطابق 15 ممالک کے سفارت کاروں نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کا دورہ کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ ان ممالک میں امریکہ، جنوبی کوریا، نائجیریا اور ارجنٹائن شامل ہیں۔

انڈین وزارتِ خارجہ کے مطابق 15 ممالک کے سفارت کار کشمیر کا دورہ کریں گے، فوٹو: اے ایف پی

ایک سفارتی ذرائع نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ یورپی یونین کا وفد کچھ عرصہ بعد کشمیر کا دورہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
دیگر انڈین اخبارات نے حکومتی اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یورپی یونین نے دورے سے انکار اس لیے کیا کیونکہ دورہ جلدی میں طے پایا اور اتنے کم وقت میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے سفارت کاروں کی شرکت ممکن نہیں تھی۔
ٹائمز آف انڈیا نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جو لوگ دورے پر جارہے ہیں وہ لوگوں سے اپنی مرضی کے مطابق بات چیت کریں گے۔ ’تاہم کسی سفارتکار نے خاص طور پر کسی زیر حراست شخص سے ملنے کے لیے نہیں کہا ہے۔‘
واضح رہے کہ گذشتہ سال اکتوبر میں 30 کے قریب یورپی وزرا نے کشمیر کا دورہ کیا تھا لیکن یہ یورپی یونین کی جانب سے سرکاری دورہ نہیں تھا۔ انڈین حکومت کا کہنا تھا کہ یہ ایک ’ذاتی‘ دورہ تھا۔
ناقدین کا کہنا تھا کہ یہ دورہ حکومت کی جانب سے یہ دکھانے کی کوشش تھی کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حالات معمول کی طرف لوٹ گئے ہیں۔
تاہم کشمیر میں اب تک انٹرنیٹ مکمل طور پر بحال نہیں ہوا ہے اور صرف نصف فیصد موبائل فون چل رہے ہیں۔
انڈین حکومت کا کہنا ہے کہ ’موبائل فون بند کرنے کا اقدام دہشت گردوں کو ایک دوسرے سے رابطہ کرنے سے روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔‘

شیئر: