’ووٹ کی عزت عمل سے ثابت کریں‘

مسلم لیگ نواز نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی حمایت کی تھی (فوٹو:اےا یف پی)
پارلیمنٹ میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے کے بعد مسلم لیگ نواز کے اکثر اراکین افسردہ نظر آتے ہیں جبکہ پارٹی اپنے ہی کارکنوں کی طرف سے شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔
مسلم لیگ نواز کے چند اراکین پس پردہ بات چیت میں فیصلے کو پارٹی کی ساکھ کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں مگر کوئی اس پر کھل کر بات کرنے کو تیار نہیں۔
اردو نیوز نے جمعرات کو پارٹی کے رہنماؤں خواجہ آصف اور پرویز رشید سے پارٹی کارکنوں کی ناراضگی سے متعلق جاننا چاہا مگر دونوں کا کہنا ہے کہ وہ ’اب اس پر ایک بات بھی نہیں کرنا چاہتے۔‘
ذرائع کے مطابق پارٹی کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور پارلیمانی رہنما خواجہ آصف کے درمیان حالیہ دنوں میں شدید کھچاؤ پیدا ہو گیا ہے۔ پارٹی کے ایک وٹس ایپ گروپ میں دونوں کے درمیان ترمیمی بل کی حمایت کے معاملے پر گرما گرمی ہوئی جس کے بعد خواجہ آصف نے واٹس ایپ گروپ چھوڑ دیا۔
ذرائع کے مطابق شاہد خاقان عباسی ایک ماہ قبل لندن میں ہونے والے پارٹی اجلاس میں کیے گئے فیصلے پراعتماد میں نہ لیے جانے کی وجہ سے سخت نالاں تھے۔
اسی وجہ سے وہ ترمیم کی حمایت کے لیے ووٹ دینے کے لیے اسمبلی میں بھی نہیں آئے تھے ان کے علاوہ احسن اقبال اور سعد رفیق نے بھی حمایت میں ووٹ نہیں دیا تھا۔ اسی طرح پرویز رشید نے بھی سینیٹ میں ترمیم کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔
دوسرے طرف ترمیم کی حمایت کے بعد سوشل میڈیا پر پارٹی کے کارکنان اس قدر برہم ہوئے کہ خواجہ آصف کو جواب میں کہنا پڑا کہ ’سوشل میڈیا پر تنقید آسان کام ہے لیکن کارکن باہر نکلنے اور مار کھانے کو تیار نہیں۔‘

پارٹی کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور پارلیمانی رہنما خواجہ آصف کے درمیان حالیہ دنوں میں شدید کھچاؤ پیدا ہو گیا ہے (فائل فوٹو:سوشل میڈیا)

بدھ کو بھی ٹی وی شوز میں بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کارکنوں پر پھٹ پڑے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر آکر مظاہرے کر رہے ہیں لیکن پاکستان میں لوگ  ٹوئٹر اور فیس بک یا ووٹ کی حد تک سپورٹ کرتے ہیں۔ ’ہمارے یہاں ٹویٹ کر دیا اس کے بعد کریلے گوشت کھا کر سو گئے اس کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا فرض پورا ہو گیا۔‘
انہوں نے یہ شکوہ بھی کیا کہ میاں نواز شریف لاہور کے ہسپتال میں دس سے بارہ دن رہے مگر کسی دن بھی سو سے زائد کارکنان ہسپتال کے باہر نہیں جمع ہوئے۔
جمعرات کو سوشل میڈیا پر پارٹی کے کارکنان بھی خواجہ آصف پر برس پڑے اور انہیں کارکنوں کی قربانیاں اور جلسوں میں حاضریاں یاد دلائیں۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف نے پارٹی کارکنان کی توہین کی ہے۔
 ذیشان خان نامی ایک پارٹی کارکن نے ٹویٹر پر لکھا ’خواجہ صاحب آپ کی بہادری بھی دیکھ چکے ہیں عوام، ایک سال سے زیادہ ہوگیا منہ سے ایک لفظ ووٹ چوروں کے خلاف نہیں نکلا یہ بھی نہیں بتا سکے کہ ووٹ چوری کس نے کیا۔ پہلے اپنے اندر جرات پیدا کریں پھر کسی کو طعنے دیں۔‘

ذرائع کے مطابق شاہد خاقان عباسی ایک ماہ قبل لندن میں ہونے والے پارٹی اجلاس میں کیے گئے فیصلے پراعتماد میں نہ لیے جانے کی وجہ سے سخت نالاں تھے (فوٹو:مسلم لیگ ن)

اس صورتحال میں پارٹی اپنے ورکرز اور ارکان میں اپنی ساکھ کیسے بحال کرے گی یہ جاننے کے لیے اردو نیوز نے مسلم لیگ نواز کے سینئر رہنما رانا ثنا اللہ سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل سے ثابت کرے کہ وہ ووٹ کو عزت دینے کے موقف پر قائم ہے۔
 رانا ثنا اللہ کے مطابق اس فیصلے کو پہلے مشترکہ اپوزیشن کے اجلاس میں زیر غور لاکر رہبر کمیٹی کے حوالے کیا جاتا اور پھر آرمی ایکٹ کی حمایت کی بھی جاتی تو کسی کو اعتراض نہ ہوتا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کارکنوں کی تنقید  مثبت ہے کیوں کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ووٹر اپنی عزت پہچان چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے چند اراکین کو اس بات پر اعتراض تھا کہ آرمی ایکٹ کی حمایت کرنے کا غلط طریق کار اختیار کیا گیا۔
آسٹریلیا میں موجود سابق وفاقی وزیر اطلاعات اور مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ’آرمی چیف اور دیگر افواج کے سربراہان کے عہدوں کی معیاد کے حوالے سے قانون سازی کی ضرورت سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے پڑی کیونکہ وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت میں اتنی بھی اہلیت نہ تھی کہ وہ ایک عام سا نوٹیفیکیشن درست طریقے سے جاری کر سکتے۔‘
پارٹی ورکروں میں اشتعال کے سوال پر انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نواز جمہوری جماعت ہے اور اسے فخر ہے کہ اس کے کارکنان نے سیاسی شعور کا مظاہرہ کیا ہے۔’ہم کارکنان کے جذبات کا احترام کرتے ہیں اور ان سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ معاملے کو سمجھیں۔‘

شیئر: