دوستی دوا کا درجہ رکھتی ہے

آج دوستی کا لفظ تو موجود ھے لیکن اس کی چاشنی بہت کم ہو چکی ہے. فائل فوٹو: ان سپلیش
وہ دن بھی کیا خوب تھے جب ہم سب سہیلیاں رات گئے تک صحن میں کھیلا کرتی تھیں، ہمارا پسندیدہ کھیل ’کوکلا چھپاکی‘ تھا جس میں سبھی ایک دائرے میں بیٹھ کر کسی ایک کے پیچھے لپٹا دوپٹہ رکھ دیا جاتا، اس طرح ایک دوسرے کے پیچھے بھا گنے کا خوب موقع مل جاتا۔ اکثر لڑائی ہو جاتی اور اس عہد پر اپنے اپنے گھروں کی راہ لی جاتی کہ ’اب میں میں تمہاری سہیلی نہیں بنوں گی، پکی کٹی ہو گئی۔‘
یہ بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے جس سے اس حسین دور کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔ اس جھگڑے کے بعد اگلی صبح ہم تمام دشمنیاں بھلا کر دوستی کر لیتے تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ خوش حالی دوست بناتی ہے اور بدحالی آزماتی ہے اور وقت کے ساتھ بدلنے والی دوستی مطلبی دوستی کہلاتی ہے۔ آج دوستی کا لفظ تو موجود ہے لیکن اس کی چاشنی بہت کم ہو چکی ہے کیونکہ وقت گزارنے کے اور بہت سے ذرائع آس پاس موجود ہیں۔ اپنوں کے لیے تو سنتے تھے کہ ’خون سفید ‘ ہو گیا لیکن اب یہ مقولہ غیروں پر بھی منطبق نظر آنے لگا ہے۔

 دوستی کا مفہوم بہت وسعت رکھتا ہے۔ فائل فوٹو: ان سپلیش

حال ہی میں ہماری خالہ بہت دل برداشتہ ہو رہی تھیں، کہنے لگیں ’میری بچپن کی سہیلی نے بری طرح میرا دل توڑ دیا ہے میں اس سے مشورہ کر کے شاہد بیٹے کا رشتہ اسے ساتھ لے کر دیکھنے گئی، تب تو میری پسند پر صدقے واری جاتی رہی۔ ہمارا ایک دن طے ہو گیا کہ لڑکی کے ہا تھ پہ کچھ رکھ آئیں گے تاکہ بات پکی سمجھی جائے اور بیٹے کے امریکہ سے آنے پر باقی رسمیں ہو جائیں۔ مقررہ دن لڑکی کی اماں کا فون آیا کہ آپ ابھی نہ آئیں، ہمیں سوچنے کا موقع چاہیے لیکن اگلے ہی دن ہمیں کسی سے خبر ملی کہ میری سہیلی صاحبہ کے بیٹے کا رشتہ وہاں طے ہو گیا ہے۔ یہ خبر میرے  لیے بجلی سے کم نہ تھی۔ ادھر لڑکی والوں سے معلوم ہوا کہ سہیلی نے کسی کے ہاتھ اپنے بیٹے کا بائیوڈیٹا پہنچا دیا تھا۔ اس طرح ان کا بیٹا ہمیں زیادہ مناسب لگا۔‘
اس قسم کے واقعات اب تو اکثر سننے کو مل رہے ہیں۔ خالہ کو یہ پریشانی ہے کہ لڑکی شاہد کو پسند آ چکی تھی اب وہ اسے کیا جواب د یں گی۔ آج تو یہ حقیقت سچ ثابت ہو رہی ہے کہ ’ہر ہاتھ ملانے والا دوست نہیں ہوتا اور ہر بات کرنے والا بھی دوست نہیں ہوتا۔‘ انسان معاشرتی حیوان ہونے کے ناطے فطرتی طور پر مل جل کر رہنے کا عادی ہے اس لیے تنہائی کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دوستی کا مفہوم بھی وسعت رکھتا ہے۔ یہ نام ہے خود کو کسی کے لیے وقف کر دینے کا۔ اس کی عزت و آبرو کے تحفظ میں مر مٹنے کا۔ کسی سے فون پر بات کر لینے یا محض خاطر مدارت کر دینے سے دوستی کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ ایک وفادار سہیلی دوا کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ ایک قابل قدر رشتہ ہے جس کی بنیاد صرف خلوص پر ہے۔
آج کل موسمی دوستوں کا زمانہ ہے۔ خواتین کسی نہ کسی بہانے گروپ کی صورت میں مل بیٹھنے کا بندوبست کر ہی لیتی ہیں۔ اس طرح حالات حاضرہ سے آگہی اور خرید و فروخت  جیسے سب کام ہو جاتے ہیں۔ ایسی دوستی زبانی دوستی بھی کہلاتی ہے۔ اس کے علاوہ کھانے پینے تک محدود رہنے والی دوستی بھی ہوتی ہے۔ ایسی دوستی ’مرزا ظاہر دار بیگ‘ کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ آج کے دور میں تو زیادہ تر رتبہ یا مرتبہ دیکھ کر دوستی کی جاتی ہے تاکہ لوگوں پر دھاک بیٹھے۔ رومن تاریخ میں ایسے بہت سے واقعات درج ہیں جن میں حکمران اپنے دوستوں سے بآسانی رابطہ رکھنے کے لیے انہیں اونچے رتبے بخش دیتے تھے جبکہ ان کا یہ تجربہ کبھی کبھی نقصان بھی دیتا کیونکہ اکثر دوست بدل  جاتے تھے۔

مرد اور عورت کی سچی دوستی کے لیے ضروری ہے کہ اس میں کشش جیسے احساسات نہ ہوں۔ فائل فوٹو: ان سپلیش

مثل مشہور ہے کہ دوستی ذہنی کیفیت اور دلی مسرت کا نام ہے۔ اس جذباتی وابستگی میں انسان خود کو مکمل سمجھتا ہے۔ یہ ایک ایسا تحفہ ہے جو صرف دل میں رہتا ہے اگر یہ آپ کو مل گیا تو سمجھیے خزانہ مل گیا۔ شیخ سعدی نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ زبانی دوست سے زبانی ہمدردی جتا کررخصت لے لو۔ روٹی والے دوست کوروٹی کھلا کر بھیج دو۔ سچے دوست کو اپنے ہاتھوں میں رکھو، اس کے لیے جان بھی قربان کرنی پڑے تو گریز نہ کرو، یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو موت کے بعد بھی آپ کی خواہشوں کوعملی جامہ پہنا تے ہیں۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے،
یہاں بہتر ہے اپنی ذات کا ہمدرد ہو جانا
زمانہ غم تو دے سکتا ہے غمخواری نہیں کرتا
مجھے موقع شناسی کا ہنر آیا نہیں اب تک
جہاں مطلب نکلتا ہو سمجھداری نہیں کرتا

آج بھی کوئی نہ کوئی روز بچپن کی دوستی کی یادوں کو زندہ کر دیتا ہے۔ فائل فوٹو: ان سپلیش

قارئین! دوستی کی بات چلی تو مرد اور عورت کی دوستی پر بھی بات کرتے چلیں کیونکہ اکثر یہ سوال پوچھا بھی جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حقیقی دوستی کے لیے ضروری ہے کہ فریقین کو ایک دوسرے سے سچی محبت ہو مگر اس تعلق میں کشش جیسے احساسات نہ ہوں، اس عنصر سے دوستی کو خالص یا بے لوث نہیں کہا جا سکتا۔ شادی کے بعد دوستی کی بنیاد ایک دوسرے کا خیال رکھنے پر مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے لیکن ان روابط کو حقیقی دوستی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں کشش کا عنصر شامل ہوتا ہے جو دوستانہ مراسم کی نفی کرتا ہے۔ ہمیں
اماں کا کہا آج سمجھ آیا جو اکثر کہا کرتی تھیں،
نہ کچھ رہا جب پاس اپنے تو سنبھال کے رکھی فقط تنہائی
یہ وہ سلطنت ہے۔۔۔۔۔۔
جس کے بادشاہ بھی ہم۔۔۔۔۔
فقیر بھی ہم۔۔۔۔۔۔
اور ہر فیصلے کے وزیر بھی ہم۔۔۔۔۔

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: