سسرال گئی ہوں تو کیا مر کر ہی واپس آؤں؟

انہوں نے نہ صرف پڑھائی مکمل کی بلکہ فوراً نوکری بھی شروع کردی۔ فوٹو: انسپلیش
جہاں انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی نے لوگوں کی زندگیوں میں بہت سی آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں ایسا شعور بھی فراہم کیا ہے جس کی بدولت اب ظلم سہتی ہوئی ایک عورت حالات سے لڑنے کا قرینہ سمجھ گئی ہے۔
گذشتہ برس پاکستان میں طلاق کی شرح میں قدرے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور صرف صوبہ پنجاب میں ہی پچھلے سال نو سو سے زائد خلع کی ڈگریاں جاری ہوئیں۔

لیکن اب ایسا کیا تبدیل ہوا کہ یہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے؟

بہت عرصہ قبل طلاق حاصل کرنے والی کلثوم بانو کا کہنا ہے کہ وقت پہلے جیسا نہیں رہا جب خواتین ثقافتی میعار کے خلاف جانے سے گھبراتی تھیں۔
’بہت ساری باتیں ہیں۔ برصغیر میں ہمارے یہاں رسم و ریت چلی آرہی ہے جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ عورت اکیلے نہیں رہ سکتی۔‘
کلثوم بتاتی ہیں کہ آج بھی ایک طلاق شدہ لڑکی کو شادی بیاہ میں پیچھے پیچھے رہنے کی تلقین کی جاتی ہے تاکہ بد شگونی نہ ہو۔ لیکن یہ بات مردوں پر صادر نہیں ہوتی جو طلاق یافتہ ہوتے ہیں۔
لیکن پھر بھی کلثوم نے ان تمام باتوں سے لڑتےہوئے طلاق حاصل کی اور آج بھی اکیلے رہتے ہوئے خوش ہیں۔

انہوں نے یہ سخت سفر کیسے طے کیا؟

’میرے اندر اتنی ہمت کبھی نہ پیدا ہوتی اگر میرے گھر والے ساتھ نہ دیتے۔ شادی کے بعد اندازہ ہوا کہ ساتھ رہنے میں کافی فرق ہوتا ہے۔ مجھے میرے والدین نے یہ بات باور کروادی تھی کہ گھر کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوئے ہیں اور دوسرے جانب علیحدگی کے سارے سماجی نتائج کے بارے میں بھی آگاہ کردیا تھا۔‘
کلثوم نے بتایا کہ وہ اپنے سابقہ خاوند کو شادی سے قبل جانتی تھیں لیکن بندھن میں بندھ جانے کے بعد اس نے گھریلو تشدد شروع کردیا۔
’میں آج یہ سمجھتی ہوں کہ میرا فیصلہ بالکل ٹھیک تھا جب میں نے ڈیڑھ سال بعد طلاق لی۔ کیونکہ ایک خراب شادی میں رہنے سے بہتر ہے کہ آپ اکیلے رہ لیں۔ ایسی شادی میں رہتے ہوئے در اصل آپ نے نہ صرف معاشرے کے لیے بلکہ اپنے لیے بھی اپنے اوپر ایک جھوٹا لبادہ اوڑھا ہوا ہوتا ہے دوسروں کے ڈر سے۔‘
اسی حوالے سے چند ماہ قبل سوشل میڈیا پر بحث بھی دیکھنے میں آئی جب کچھ خواتین نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ شادی سے قبل ایک لڑکی کو مستقبل کے حالات سے نبٹنے کے لیے کیا کچھ کرنا چاہیے۔
اس بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ عورت کو نکاح نامہ ضرور پڑھنا چاہیے اور حق مہر کے لیے تقاضہ کرنا، طلاق حاصل کرنا اس کا حق ہے۔
کلثوم بتاتی ہیں کہ ایسے حالات سے لڑنے کے لیے سب سے پہلے ایک عورت کو اپنے آپ کو تیار کرنا چاہیے اور اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر لڑکی نوکری کرے، پڑھائی مکمل کرے کیونکہ شوہر صرف طلاق نہیں دے سکتا بلکہ وہ مر بھی سکتا ہے یا پھر معذور بھی ہوسکتا ہے ایسے میں اگر عورت اپنے پیروں پر نہ کھڑی ہو تو اسے لاتعداد مشکلوں کا سامنا ہوتا ہے۔
اگر اس شادی میں رہتی تو اپنی بچی کے ڈائپر کے لیے بھی رونا پڑتا۔‘

ایسے ہی کچھ حالات سے گزرنے والی ایک اور خاتون زینب علی ہیں جنہوں نے گذشتہ برس خلع حاصل کی ہے۔
زینب کے لیے معاملہ نہایت کھٹن تھا کیونکہ خلع کے وقت وہ حاملہ تھیں۔ البتہ، انہوں نے اپنے حوصلے سے یہ کڑا وقت بھی گزار لیا۔
’میں نے شادی کے بعد صرف ڈیڑھ ماہ میں ہی اندازہ کرلیا تھا کہ میں وہاں نہیں رہ سکتی۔ میرے سابقہ خاوند کے گھر والوں نے بہیترے جھوٹ بولے تھے، بلند و بالا دعوے کہ لڑکے نے کافی تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ مگر وہ سب جھوٹ تھا۔‘
جب زینب کچھ عرصے بعد اپنے گھر واپس آئیں تو اس کے بعد ان کے سسرال والوں نے متعدد بار پرتشدد رویہ بھی اختیار کیا۔ زینب بتاتی ہیں کہ ایک شب ان کو گھر سے نکال کر گلی میں دھکے دیے گئے اور زیور واپس کرنے کا تقاضہ کیا گیا۔ اور یہ سب زینب نے حمل کے دوران جھیلا۔

دوبارہ شادی کرنے کے سوال پر کلثوم کا کہنا تھا کہ انہیں شادی سے کوئی اعتراض نہیں ’کیونکہ مسئلہ شادی میں نہیں ہے۔۔۔‘ فوٹو: انسپلیش

’اس کے بعد بھی میرے سابقہ شوہر نے ایک دن ملاقات کے دوران کہا کہ ڈیڑھ ماہ میں تم نے یہ فیصلہ کیسے اتنے جلدی کرلیا کہ ساتھ نہیں رہا جاسکتا۔‘
زینب کی نظر میں علیحدگی کا فیصلہ اس لیے درست تھا کہ انہوں نے حالات کو جانچ لیا تھا اور اسکے بعد انہوں نے نہ صرف پڑھائی مکمل کی بلکہ فوراً نوکری بھی شروع کردی جسکی بدولت انکی آٹھ ماہ کی بیٹی نہایت سلیقے سے پرورش پا رہی ہے۔
’مجھے معلوم ہے کہ اگر میں اب تک اس شادی میں بندھی ہوئی ہوتی تو شاید اپنی بیٹی کے ایک ڈایئپر کے لیے بھی مجھے رونا اور گڑگڑانا پڑتا مگر اب ایسا نہیں ہے۔ میری بیٹی اچھے سے اچھا کھاتا پیتی ہے کیونکہ میں خود اس کے لیے محنت کرکے کماتی ہوں۔‘ 

وہ بنیادی بات کیا تھی جسکی وجہ سے زینب نے علیحدگی لی؟

’مجھے ہر لحظہ پریشان رکھا جاتا۔ تقاضے کیے جاتے۔ پہلے جہیز کے بارے میں تو بعد میں یہ کہ گھر والوں سے کہہ کر کینیڈا بھجوایا جائے۔ اور پھر یہ دھمکی کہ میں نوکری چھوڑ دوں گا۔ ایسے وقت میں میں حاملہ تھی اور ڈاکٹر نے کہا کہ مزید ٹینشن کے باعث بچہ شاید ختم ہوجائے یا پھر ذہنی طور پر معذور پیدا ہو۔‘
وہ فیصلے کی گھڑی تھی جس پر زینب نے انکے مطابق بالکل ٹھیک قدم اٹھایا۔
دونوں خواتن اپنی زندگیوں میں نہ صرف خوش ہیں بلکہ کامیاب بھی ہیں۔ دوبارہ شادی کرنے کے سوال پر کلثوم کا کہنا تھا کہ انہیں شادی سے کوئی اعتراض نہیں ’کیونکہ مسئلہ شادی میں نہیں ہے بلکہ اس شخص میں ہوسکتا ہے جس سے شادی کی جاری ہو۔‘
دوسری طرف زینب نے بتایا ے کہ وہ دوسری شادی کا نہیں سوچتی ہیں کیونکہ اگر وہ ایسا کرینگی تو پاکستانی قوانین کے مطابق ان کے سابقہ شوہر آسانی سے انکی بیٹی کو انسے چھین سکتے ہیں۔ ’یہ عجیب بات ہے کیونکہ جس شخص نے ایک دن بھی میری بیٹی کی پرواہ نہیں کی وہ اس کو میری دوسری شادی کرنے پر حاصل کرسکتا ہے۔ اور میرے لیے اب میری بیٹی ہی سب کچھ ہے۔‘

شیئر: